منگل , 27 ستمبر 2022

 طالبان کے ناراض ہزارہ شیعہ کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کو گرفتار کر کے قتل کرنا جنگی جرم  ہے۔

کابل: حزب وحدت اسلامی کے سربراہ محمد محقق نے اپنے فیس بک پیج پراس قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ طالبان نے مولوی مہدی مجاہد کو ہرات کے بنیاد علاقے میں ایک کمین گاہ سے پکڑا تھا ۔ محمد محقق کے مطابق طالبان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مہدی مجاہد کو گرفتار کرنے کے بعد گولی ماری گئی ۔ حزب وحدت اسلامی کے سربراہ نے طالبان کے ہاتھوں طالبان کے ناراض ہزارہ شیعہ کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کے قتل کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔

اس سے قبل طالبان کی وزارت دفاع نے بدھ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان کی سرحدی فورسز کی صوبہ ہرات میں فائرنگ سے شیعہ ہزارہ طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد جاں بحق ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ شیعہ ہزارہ طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا اور وہ افغانستان کے صوبہ سرپل کے شہر بلخاب سے تعلق رکھتے تھے۔
مولوی مہدی مجاہد، طالبان کی حکومت کی جانب سے شیعہ ہزارہ قوم کے حقوق نظر انداز کئے جانے کے خلاف تھے اور یہی امر ان کے اور طالبان کے مابین اختلافات کا باعث بنا۔

یہ بھی دیکھیں

کوئی طاقت ایرانی سرحدوں پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتی: ایڈمرل سیاری

تہران:اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر نے کہا ہے کہ کسی طاقت کو …