جمعرات , 6 اکتوبر 2022

ویانا مذاکرات کے مسودے کے متن پر ایران کے ردعمل کے بعد بھی امریکا اپنی رائے سے گریز کر رہا ہے۔

واشنگٹن: جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تہران پر ضروری سیاسی ارادہ نہ رکھنے کا الزام لگانے والا امریکہ، اب ویانا مذاکرات کے مسودے کے متن پر ایران کے ردعمل کے بعد بھی اپنی رائے کا اظہار کرنے سے گریز کر رہا ہے۔

جوہری معاہدے پر ایران کے جواب پیش کرنے کے باوجود امریکی صدر جو بائیڈن پر اندرونی اور بیرونی دباؤ میں شدت آگئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ دباؤ جواب دینے میں وائٹ ہاوس کی تاخیر کی وجہ ہیں اور ان دباؤ کا بنیادی محور ممکنہ جوہری معاہدے میں ایران کو مزید رعایتں دینے کا دعویٰ اور ان رعایتوں کو کم کرنے یا معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

ایسے حالات میں اسلامی جمہوری ایران کے  صدر سید ابراہیم رئیسی نے عالمی یوم مسجد کے 17 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی نشست اور مذاکرات میں قوم کے حقوق کو نظر انداز نہیں کریں گےاور حکومت طاقت کے ساتھ ملک کی بہتری اور مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھے گی۔

یہ بھی دیکھیں

بیٹے کی کینیا فتح کرنے کی ٹویٹ؛یوگینڈا کے صدر کو مہنگی پڑ گئی،عہدے سے فارغ

یوموہوزی کینروگابا:گینڈا کے صدر یوویری موسیوینی کے بیٹے اور ایک سینیئر فوجی افسر کی جانب …