بدھ , 28 ستمبر 2022

2006 کی فتح نے "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا / ہم سپریم لیڈر انقلاب اسلامی اور سپاہ پاسداران کے شکر گزار ہیں۔سید حسن نصر اللہ

بیروت: سید حسن نصر اللہ نے پیر کی رات حزب اللہ کے چالیسویں یوم تاسیس کی مناسبت سے جاری تقریبات کے اختتامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ دو ماہ سے جاری یوم تاسیس کی تقریبات کو منعقد کرنے اور کامیاب بنانے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جب ہم چالیس بہاروں کے متعلق بات کرتے ہیں تو اس بات پر توجہ رہے ہم ١۹۸۲ سے پہلے کے ساتھ اپنا رابطہ ختم نہیں کرتے بلکہ ١۹۸۲ سے پہلے والی تمام کوششوں، اقدامات اور جہادی سرگرمیوں کے ساتھ ایک گہرا اور بنیادی تعلق قائم ہے۔ ضروری ہے کہ عظیم الشان شہید سید محمد باقر الصدر کے عظیم الہام کی طرف اشارہ کیا جائے۔ اسی طرح امام موسی صدر کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہ مقاومت کی تشکیل اور قیادت میں سبقت رکھتے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے زور دے کر کہا کہ سب کو اور تمام دنیا والوں کو اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا جہادی راستہ اس عظیم لیڈر ﴿امام موسی صدر﴾ کے مبارک جہاد کے نتائج میں سے ایک ہے اور حزب اللہ اور امل تحریک دونوں ہی ان کے فرزند اور شاگرد ہیں جو ان کی راہ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ ہم اپنے عظیم علما اور عالم اسلام کے علما جو آگاہی اور امر بالمعورف کے مروج تھے کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور عظیم الہام بخش، ہادی اعظم اور اس زمانے میں انقلاب کی روح اور تحریک کے بانی حضرت امام سید روح اللہ موسوی خمینی کو یاد کرتے ہیں۔

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے جدید مشرق وسطی کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے کہا ، 2006 کی فتح نے "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا اور ناقابل تسخیر فوج کو ذلیل و رسوا کردیا، اور اسرائیل کی شکست و ناکامی کو حزب اللہ کی بے مثال استقامت و پائیداری کے نتائج میں سے قرار دیا کہ دشمن طاقتیں مقاومت کو نہ مٹا سکیں اور وہ اس سے مزید طاقتور اور مستحکم تر ہو کر باہر نکلی۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ البتہ ہم ان تمام کامیابیوں کو اپنے نام نہیں کرتے اور عوام کی بیداری، فتح کی امید کو زندہ کرنے اور دشمن پر شکست وارد کرنے کی طاقت میں اپنے شریک ہونے کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب بعد والے مراحل میں جو کام کرنا ہے وہ مقاومت کا تحفظ، اس میں حصہ لینا اور اس کے لئے تیار رہنا ہے۔ کوئی یہ تصور بھی نہ کرے کہ میڈیا کا پروپگینڈا اور شور شرابا، توہین اور افواہیں مقاومت کے عزم اور ارادے کو سست کرسکتی ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے فلسطین اور اس کے کاز کی حمایت کا عزم ایک مرتبہ پھر دھرایا اور کہا کہ ان ۴۰ سالوں میں ہمیں فلسطین کاز پر ایمان تھا اور اب بھی اس کے پابند رہنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم نے ۴۰ سالوں کے دوران پناہ گزین کیمپوں میں فسلطینی جبری مہاجرین کا مسئلہ اٹھایا اور ان کے حقوق کی بات ہے اور فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ دائمی استقامت کو جاری رکھیں گے۔ ہم کھڑے رہے اور ناجائز صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی تمام شکلوں کی مخالف کی اور دنیا کے تمام حریت پسندوں کو اس نسل پرست اور وحشی رجیم کے ساتھ روابط بحال نہ کرنے کی دعوت دی۔

شام کی صورتحال کے حوالے سے سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم شام میں داخل ہوئے اور شام کی قیادت، فوج اور دیگر دوستوں کے شابہ بشانہ کھڑے ہوئے اور روز بروز اپنے انتخاب کے صحیح ہونے پر زیادہ یقین ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور سعودی عرب سمیت خطے کے بعض ممالک کا سیاسی دباو لبنان اور شام کے تعلقات کی پیش رفت میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا مستقبل میں بھی بدستور عربی اقوام کا ساتھ دیں گے اور اس کے نتائج برداشت کرنے کے لئے بھی تیار ہیں کیونکہ ہمارا یہ موقف اور ساتھ دینا برحق ہے اس لئے اس کا اظہار ہونا ہی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے وسائل کے دائرے میں عراق میں داعش سے مقابلے میں مدد کی اور اگرعراق ایک مرتبہ پھر اس کے چنگل میں پھنسے تو گزشتہ سالوں کی طرح ہم سے درخواست کی جائے تو اس امر کے متعلق کہ ہمارے کمانڈر اور بھائی عراق میں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ لڑنے جائیں تو کسی تردید سے کام نہیں لیں گے۔
سید حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب کے دوران ایران کو خطے کی ایک بڑی طاقت قرار دیا جس سے خطے کے تمام مظلومین اور مقاومتی قوتیں سہارا لئے ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ مقاومت کے محور کی تشکیل میں شریک رہی ہے اور ہم اس محور کا ایک حصہ ہیں اور باقی رہیں گے۔

سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ ہم نے ان ۴۰ سالوں کے دوران خانہ جنگی یا مذہبی فتنے کی دلدل میں پھنسنے سے اجتناب کیا ہے جبکہ بارہا اس کی کوشش کی گئی کہ لبنان کو خانہ جنگی اور مذہبی فتنے پر اکسایا جائے۔ ہم نے سیاسی گروہوں کے ساتھ تعاون کیا اور حکمت، صبر اور بصیرت سے کام لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقاومت کو لبنانی فوج کے ساتھ لڑانے کی کوشش کی گئی اور یہ امریکہ کا دائمی منصوبہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ ۴۰ سالوں کے دوران لبنان کے اندر بہت سے اسلامی گروہوں کے ساتھ دوستی قائم کی اور اتحاد بنایا اور اپنی دوستی اور تعلقات کو اہمیت دی اور دیتے رہیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پارلمانی انتخابات میں اپنی شرکت کوتقویت دیں گے اور آئندہ حکومت میں اپنی موجودگی کو جاری رکھیں گے۔

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے ۴۰ سالوں میں الہی نصرت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور ۴۰ سال سالوں سے ان کے ساتھ کھڑے رہنے اور سیاسی، سفارتی اور سیکورٹی کے حوالے سے حمایت کرنے پر شامی قیادت اور حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایران اور خاص طور پر رہبر انقلاب، حکام اور سپاہ پاسداران کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح حزب اللہ کے لئے قربانی دینے والوں، اس کا ساتھ دینے والوں اور مقاومت کے مجاہدین کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے جدید نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ پر بھروسہ ہے اور یہ آپ جوان ہی ہیں جو راستے کو مکمل کریں گے اور شہدا کی آروز کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

2000 کی فتح نے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو ختم کیا اور ناقابل تسخیر فوج کو نیچے لایا

یہ بھی دیکھیں

شہید جنرل قاسم سلیمانی کے اہل خانہ کی ایرانی صدر سے ملاقات

تہران:شہید لیفٹیننٹ جنرل حاج قاسم سلیمانی کے اہل خانہ نے آج صدارتی دفتر میں آیت …