منگل , 27 ستمبر 2022

کیا سیلاب زدگان کی مدد کیلئے کوئی مسیحا آئے گا؟

جولائی 2009ء میں ملائشیا ہونے والے انتخابات میں نئے وزیر اعظم نجیب عبدالرزاق منتخب ہوئے ۔وہ ملائشیا کے پہلے وزیر اعظم تنکو عبدالرزاق کے صاحبزادےہیں جن کا شمار نہایت ایماندار سیاست دانوں میں ہوتا تھا۔ ان کی اس نیک نامی کی وجہ سے ہی 1976ءمیں نجیب عبدالرزاق کو سب سے پہلے پارلیمنٹ میں بلا مقابلہ چنا گیا تھا۔ وہ جلد ہی ترقی کرتے کرتے 2009میں وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔
کوئی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ وہ کرپشن، منی لانڈرنگ اور طاقت کا غلط استعمال کر سکتے ہیں کیوں کہ ان کے والد صاحب بے حد ایماندار وزیر اعظم رہے تھے۔انہوں نے پہلے پانچ سال ملائشیاکی ترقی میں فعال کردار ادا کیا اور گرتی ہوئی معیشت جوان سے پہلے وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مہا تیر کے بعد آنے والے وزیر اعظم عبداللہ بداوی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کمزور ہو رہی تھی، اس کو کامیابی سے بہتر کیا جس کا اظہار آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بھی کیا مگر 2015کے بعد وہ بھی غلط سمت کی جانب گامزن ہو گئے اور دونوں ہاتھوں سے ملائشیا کی دولت کو لوٹا، بیو رو کریٹس بھی ان کے ساتھ مل گئے۔

عوام اس کرپشن پر بہت ناراض تھے، جس کے باعث 2018 کے انتخابات میں ان کی پارٹی کو ڈاکٹر محمد مہاتیراور ان کے سیاسی اتحاد سے شکست ہو ئی۔ اقتدار سنبھالتے ہی ڈاکٹر محمد مہاتیرنے نجیب عبدالرزاق کی کرپشن کی انکوائری کروائیں تو 32 ملین ملائشین آر ایم کی کرپشن ثابت ہوئی۔ جولائی 2020 میں ہائی کورٹ نے صرف 7 چارجز ثابت ہونے پر 12سال قید کی سزا سنائی اور 210 ملین جرمانہ بھی کیا ،جس پر سابق وزیر اعظم نے ہائی کورٹ کےتین رُکنی بنچ کے روبرو اپیل دائرکی۔ دسمبر 2021میں اس بنچ نے اس سزا کو برقرار رکھا ۔

5 دن قبل یعنی 26 اگست 2022 کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے جس کی صدارت ایک خاتون چیف جسٹس کررہی تھیں،متفقہ طور پر 12سال قید کی سزا برقرار رکھی اور نجیب عبدالرزاق کوفوراً عدالت میں ہتھکڑیاں لگوا کر جیل بھجوادیاگیا ،جس پر ان کے چاہنے والوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا مگر عدلیہ نے کوئی کمزور ی نہیں دکھائی اور فیصلہ برقرار رکھا۔ وہ ان دنوں جیل کی ہوا کھا رہے ہیں ۔ ملائشیا کی عدلیہ پوری دنیا میں سرخرو ہو ئی کہ اتنے طاقت ور وزیر اعظم کو اس کے کئے کی سزا مل گئی ۔کاش ایسا نظام پاکستان میں بھی ہوتا اور ہماری عدلیہ بھی کرپٹ اشرافیہ کو پکڑ کر سزائیں دلواتی تو آج پاکستان کہاں سے کہا ںہو تا ۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی واپس آتی تو ایک طرف غربت کم ہو تی تو دوسری طرف کرپشن کا خاتمہ ہو تا ۔

اب میں آج کل کے حالات کی طرف آتا ہوں، اس وقت پورے ملک میں سیلاب سے عوام کا برا حال ہے، جانیں الگ ضائع ہو رہی ہیں ،کھربوں روپے عوام کے اس پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ مال اور مکانات ،گھریلو سامان ،تمام فصلیں تباہ ہو چکی ہیں ۔صوبائی حکومتیں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں ،نہ مرکزمیں اتحادی حکومت کو عوام کی کوئی فکر ہے، وہ عمران خان اور اس کی پارٹی کیخلاف کارروائیاں کر کے اپنے ساڑھے 3 برسوں کا بدلہ لے رہے ہیں اور نہ ہی پی ٹی آئی ان سیلاب زدگان کی مدد کر رہی ہے۔ پنجاب اور کے پی بھی سندھ اور بلوچستان کی طرح ڈوبےہوئے ہیں ۔ہمارےفوجی جوان سیلاب زدگان کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک طرف کراچی کے مخیر حضرات سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدگاب کی مدد کو پہنچ رہے ہیں تو راستے میں اس بڑی مصیبت کے باوجود لٹیرے ٹرکوں کو لوٹ رہے ہیں اور سندھ میں تو سرکاری افسر امداد سامان سے لدے ٹرکوں سے مال اتار کر اپنے کنٹرول میں رکھ کر چھپا رہے ہیں اور ضرورت منداس سامان سے محروم ہو رہے ہیں ۔

کوئی خدا کا خوف نہیں رہا سبزیاں دس گنا زیا دہ داموں پر فروخت ہو رہی ہیں ۔ تمام اشیاء بازاروں سے غائب ہیں، گوداموں میں پانی بھرنے سے بھی سامان ضائع ہو رہا ہے ۔ہر طرف افرا تفری ہے اور یہ تمام سیاستدان اپنی اپنی دکانیں چمکا رہے ہیں۔ میڈیا بھی خاموش ہے ،18ویں ترمیم سے صوبائی حکومتوں کے پاس 2تہائی ٹیکس کی وصولی کا اختیار تو ہے مگر سب اپنی اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ۔عوام منہ تک رہے ہیں ،یہ ٹیکس کس کیلئے جمع کیا ہے،عوام بھوکے مر رہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ خدارا! سیاست ختم کر کے سب سیاسی پارٹیاں صرف اور صرف ایک نکتے پر جمع ہو کر عوام کو اس ناگہانی مصیبت سےنجات دلائیں ۔جب سب ختم ہو جائے گا پھر ہوش آئے گا۔ امدادی سامان بھی ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ رہا ، فوج اس میں اپنا پورا حصہ ڈال کر ضرورت مندوں تک سامان پہنچائے ورنہ لٹیرے منہ کھولے کھڑے ہیں۔

ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کی جانب سے فلڈریلیف کے تحت کی جانے والی کوششوں میں اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالیں بلکہ ممکن ہو تو بساط سے بڑھ کر ایسا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سیلاب کے بعد تو سیلاب زدگان کی زندگی بالکل ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کٹ چکی ہے اور یہاں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ سب سے زیادہ ہے ۔پوری پوری بستیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت انسانوں پر تو پھر بھی توجہ دی جا رہی ہے لیکن جانوروں کا بہت برا حال ہے۔ ان تک خشک چارہ اور طبی امداد پہنچا نا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ بلوچستان میں انگور کی فصل پہلے ہی تباہ ہو چکی ہے اور اب پورے پاکستان کیلئے پنجاب کو غذائی اجناس پیدا کرنا پڑیں گی،جس کی وجہ سے آئندہ سال بھی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں کمی کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

توانائی بحران کے خدشات

(زمرد نقوی) کہا جا رہا ہے کہ موجودہ یورپ کا توانائی بحران جو 52 برس …