ہفتہ , 1 اکتوبر 2022

اگر مغرب معاہدے کو ملتوی کرے گا تو دوسرے آپشنز میز پر رکھیں گے:ایران

تہران:ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کو خاتمہ دینے کا خواہاں ہے اور اگر مغربی فریق معاہدے کو ملتوی کرے تو ہمارے پاس میز پر دوسرے آپشنز موجود ہیں اور اس میدان میں ایران کے ہاتھ خالی نہیں ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "محمود عباس زادہ مشکینی” نے نجی ذرائع کے نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضمانتوں کے بغیر کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی کوئی قدر نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے تجربے کے مطابق مغربی ممالک نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں قابل بھروسہ نہیں ہیں، اسی لیے اسلامی جمہوریہ معاہدے کے لیے ضمانت کی تلاش میں ہے۔ بلاشبہ، ایرانی پارلیمنٹ کے اراکین ضمانت حاصل کرنے کی ضرورت کے بارے میں بھی حساس ہوتے ہیں، اور بنیادی طور پر، کسی کو ضمانت حاصل کیے بغیر کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرنا ہوگا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے کہا کہ ایرانی قوم ایران کو مطلوبہ مراعات سے محروم اور محدود کرنے والا کوئی بھی معاہدہ قبول نہیں کرے گی۔ اسلامی جمہوریہ ایک ایک طاقتور پوزیشن میں ہے، لہذا وزارت خارجہ سفارت کاری کے میدان میں زیادہ طاقت کے ساتھ کام کر سکتی ہے۔

محمود عباس زادہ مشکینی نے مزید کہا کہ ایران کی عزت بچانے کے لیے مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے اور اندرونی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، ہم نے کچھ پابندیوں کو بے اثر کیا اور دوسروں کو خود کفالت کے ساتھ دور کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلاشبہ پارلیمنٹ کے اسٹریٹجک قانون کے نفاذ نے جوہری شعبے میں ایران کی کھوئی ہوئی کامیابیوں کے ایک حصے کی از سر نو تعمیر کی اور یہ ایک جیت کا کارڈ تھا تاکہ ہم مذاکرات کے اس دور کو اختیار کے ساتھ آگے بڑھا سکیں۔

عباس زادہ نے مشکینی نے جیت کے معاہدے کو ایران کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ اسی منطق کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے۔ یقینا مغربیوں کو ایران سے زیادہ مذاکرات کی ضرورت ہے، ہم اپنی پوری قوت سے کوشش کر رہے ہیں کہ مذاکرات کو مطلوبہ اہداف کے مطابق ختم کیا جائے، لیکن اگر مغربی فریق راضی نہ ہوئے تو اس سلسلے میں ہمارے پاس میز پر دوسرے آپشنز موجود ہیں، اور ایران کے ہاتھ نہیں ہیں۔

انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا سیف گارڈ معاہدے کے امور کا حل، پابندیوں کی منسوخی کی ضمانت ہوگی؟ کے جواب میں کہا کہ یہ صرف پیش خیمہ ہے اور ایران اور مغرب کے درمیان اعتماد کی ٹوٹی ہوئی دیوار کی بحالی کر سکتا ہے۔

عباس زادہ نے جوہری معاہدے میں شمولیت کے بغیر کورونا ویکسین فراہم کرنے میں حکومت کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا اور ریاست میں ہر چیز ایک دوسرے پر منحصر ہے لیکن ہوشیاری اور ذہانت سے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے، ترقی کا کوئی ایک راستہ نہیں ہے، اور مغرب کے ساتھ تعلقات ہی ترقی کا واحد راستہ نہیں ہے اور بعض اوقات مغرب کے ساتھ تعلقات ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ عوام ہیں، عوام کی صلاحیتوں کو میدان میں بروئے کار لانا ہوگا۔ لوگوں پر انحصار، تیل کے کنوؤں، جوہری معاہدے اور مغرب کے ساتھ رابطے سے زیادہ قیمتی اور موثر ہے۔ مجھے امید ہے کہ حکومت حکمت اور ہوشیاری کے ساتھ اور داخلی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گی تاکہ کوئی طاقت ایرانی قوم کے سامنے کھڑی نہ ہو سکے۔

یہ بھی دیکھیں

برطانیہ میں کینسر کے روزانہ 400 کینسر سامنے آنے لگے

لندن: ایک تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں روزانہ 400 سے زائد …