پیر , 26 ستمبر 2022

عمران خان کا فوجی قیادت سے متعلق ہتک آمیز بیان؛ پاک فوج کا شدید رد عمل

راولپنڈی:ترجمان پاک فوج نے سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پاک فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور انتہائی غیر ضروری بیان پر پاکستان آرمی میں شدید غم و غصہ ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیصل آباد میں ہونے والے سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے پاک فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور انتہائی غیر ضروری بیان پر پاکستان آرمی میں شدید غم و غصہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں پاک فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے جب پاک فوج، قوم کی سیکیورٹی اور حفاظت کے لیے ہر روز جانیں قربان کر رہی ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی آئین میں واضح طریقہ کار کی موجودگی کے باوجود سینئر سیاستدانوں کی جانب سے اس عہدے کو متنازع بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔

پاک فوج کی سینئر قیادت کی اہلیت اور حب الوطنی اُن کی دہائیوں پر محیط بے داغ اور شاندار عسکری خدمات سے عیاں ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش اور آرمی چیف کی تعیناتی کے طریقہ کار کو متنازع بنانا نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی پاک فوج کے مفاد میں ہے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ پاکستان آرمی، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی بالادستی کے عزم پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا تھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف اپنی پسند کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے پیسا چوری کیا ہوا ہے، یہ ڈرتے ہیں کہ یہاں کوئی تگڑا اور محب وطن آرمی چیف آگیا تو وہ ان سے پوچھے گا، اس ڈر سے یہ حکومت میں بیٹھے ہیں کہ اپنی پسند کے آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔

فیصل آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیا آرمی چیف ان سے این او سی لے کر بنائیں گے، یہ لوگ سیکیورٹی رسک ہیں، یہ دو لوگ ملک کے غدار ہیں، کسی صورت ملک کی تقدیر ان کے ہاتھ میں نہیں ہونی چاہیے، اس ملک کا آرمی چیف میرٹ پر ہونا چاہیے، جو میرٹ پر ہو اس کو آرمی چیف بننا چاہیے، کسی کی پسند کا آرمی چیف نہیں ہونا چاہیے۔

سابق وزیر اعظم کو ان کے اس بیان پر وزیر اعظم شہباز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے، وزیر اعظم شہباز شریف نے آج ایک ٹوئٹ میں کہا کہ عمران خان کی ‘اداروں کو بدنام کرنے کے لیے نفرت انگیز باتیں ہر روز نئی سطحوں کو چھو رہی ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اب وہ مسلح افواج اور اس کی قیادت کے خلاف براہ راست کیچڑ اچھالنے اور زہریلے الزامات لگانے میں ملوث ہیں’، عمران خان کے ‘مجرمانہ ایجنڈے’ کا مقصد پاکستان کو افراتفری کا شکار بنانا اور اسے کمزور کرنا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ قوم اب ملک میں انتشار پھیلانے والے شخص سے واقف ہے، آج سب کو انسان اور حیوان کا پتا چل گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس شخص نے ملک کو کمزور کرنے کا کہیں سے ٹھیکا لیا ہوا ہے جو ہمارے جیتے جی نہیں ہوسکتا، ہم اپنے اداروں اور جرنیلوں کو اس شخص کی ہوس کی خاطر متنازع نہیں بننے دیں گے، ہمارے ہر سپاہی سے لے کر جرنیل تک ہر ایک بہادر اور محبت وطن ہے’۔

آج گورنر ہاؤس پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ آرمی چیف سمیت فوج کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جاسکتا، موجودہ حکومت سمیت سب ادارے محب الوطن ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج محب الوطن ہے، جان دیتی ہے، فوج نے سیلاب میں بھی کام کیا، عمران خان اپنے بیان کی خود وضاحت کریں کہ ان کے کہنے کا کیا مقصد تھا۔

آرمی چیف کا تقرر
اگلے آرمی چیف کے تقرر کا ذکر بعض اوقات ملک میں جاری سیاسی بحران میں ایک اہم معاملے کے طور پر کیا جاتا ہے۔گزشتہ ماہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما، وفاقی کابینہ کے ایک رکن نے پس منظر میں ہونے والی بات چیت میں اشارہ دیا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اگست کے آخر تک تقرر پر بات چیت شروع اور ستمبر کے وسط تک ممکنہ طور پر کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

عام تاثر یہ ہے کہ وہ حتمی اعلان کرنے سے پہلے حکمران اتحاد میں شامل اپنے اتحادیوں سے مشورہ کریں گے۔
تاہم پاکستان پیپلز پارٹی ذرائع نے ظاہر کیا تھا کہ پارٹی شاید اس میں شامل نہیں ہونا چاہتی کیونکہ یہ فیصلہ کرنا وزیراعظم کا اختیار ہے۔ آئین کے آرٹیکل 243(3) کے مطابق صدر وزیراعظم کی سفارش پر سروسز چیفس کا تقرر کرتا ہے۔

رولز آف بزنس کا شیڈول V-A کہتا ہے کہ ‘فوج میں لیفٹیننٹ جنرل اور اس سے اوپر کے عہدے اور اس کے مساوی عہدے۔ دیگر دفاعی خدمات میں تقرر کو وزیراعظم صدر کی مشاورت سے کریں گے’۔تاہم یہ عمل جس طریقے سے چلتا ہے، رول بک میں اس کی واضح طور پر وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

نہ ہی ترقی پر غور کرنے کے لیے کوئی خاص معیار مقرر کیا گیا ہے، سوائے اس مبہم شرط کے کہ فوج کی قیادت کے لیے منتخب جنرل کو ایک کور کی کمانڈ کرنی چاہیے۔

روایت یہ ہے کہ جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) 4 سے 5 سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کی فہرست ان کی ذاتی فائلوں کے ساتھ وزارت دفاع کو بھیجتا ہے، جو انہیں وزیر اعظم کے پاس بھجواتی ہے تاکہ وہ اس عہدے کے لیے موزوں افسر منتخب کریں۔

نظریاتی طور پر وزارت دفاع وزیر اعظم کو پیش کرنے سے پہلے ناموں کی جانچ کر سکتی ہے لیکن ایسا عام طور پر نہیں ہوتا اور وزارت محض ایک ڈاک خانے کے طور پر کام کرتی ہے۔اس کے بعد جرنیلوں کی اسناد پر وزیر اعظم کے دفتر یا کابینہ میں غور کیا جاتا ہے۔

پھر یہ معاملہ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ساتھ وزیر اعظم کی ‘غیر رسمی مشاورت’، ان کے اپنے تاثرات اور اپنے قریبی مشیروں کے ساتھ بات چیت تک آتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سابق ڈی جی نیب سلیم شہزاد کے وارنٹ گرفتاری جاری

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سابق ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو خیبرپختونخوا سلیم شہزاد کے وارنٹ …