اتوار , 25 ستمبر 2022

بجلی کا بل ’بہترین انتقام‘ ہے

(آصف محمود)

تین جون، 2022 کو لاہور میں رکشا ڈرائیورز مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں (اے ایف پی)

محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا ’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘ لیکن پی ڈی ایم کی حکومت زبان حال سے اعلان کر رہی ہے کہ بجلی کا بل جمہوریت سے بھی بہترین انتقام ہے۔کیا آ پ نے اپنے بجلی کے بل کو کبھی غورسے دیکھا؟ نہیں دیکھا تو اب دیکھ لیجیے تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے آپ کس مستِ ناز کا مال غنیمت ہیں۔

بل میں ایک خانہ واجبات کا ہے ا ور دوسرا محصولات کا۔ واجبات آئیسکو، فیسکو یا پیپکو وغیرہ کے ہوتے ہیں اور محصولات حکومت کے۔ آئیے پہلے آئیسکو کے واجبات کو دیکھتے ہیں۔

آئیسکو کے واجبات میں سب سے پہلے صرف شدہ یونٹ لکھے ہوتے ہیں جس کے نیچے ان یونٹس کی ’قیمت بجلی‘ درج ہوتی ہے۔

پہلے ایک اہتمام ہوتا تھا کہ شروع کے 100 یونٹ پانچ روپے فی یونٹ کے حساب سے چارج کیے جاتے تھے، اس کے بعد آٹھ روپے فی یونٹ اور پھر اسی طرح یونٹ بڑھتے جاتے تھے تو اضافی یونٹس کی قیمت کا پیمانہ بدلتا جاتا تھا۔

پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ تقسیم ختم کر دی۔ اب جتنے بھی یونٹ ہیں سب کو 25 روپے سے ضرب دے کر قیمت کا پہاڑ صارفین کے گھر روانہ کر دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد کرایہ میٹر ہے۔ اس کے بعد کرایہ سروس ہے۔ صارفین کو نہ علم ہے نہ کسی نے کبھی جاننے کی ضرورت محسوس کی کہ میٹر کرایہ اور کرایہ سروس میں فرق کیا ہے اور اس کی تفصیل کیا ہے؟

میٹر جب صارف کو بیچا جاتا ہے اور اکثر اوقات بلیک میں تین چار گنا قیمت پر بیچا جاتا ہے تو پھر اس کا کرایہ کس بات کا؟ جب وہ ملکیت ہی صارف کی ہے تو اس کا کرایہ کیسے وصول کیا جا سکتا ہے؟

اس کے بعد فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ہے۔ ابھی بجلی کا ایک بل میرے سامنے رکھا ہے۔ یہ اسلام آباد جی 13 میں ایک خالی گھر کے ایک پورشن کا بل ہے۔ اس میں ’موجودہ بل‘ صرف 779 روپے ہے جس پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 7179 روپے ڈال دیے گئے ہیں۔

یعنی استعمال شدہ بجلی سے 10 گنا زیادہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے نام پر وصول کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ بجلی کا بل وصول کیا جا رہا ہے یا محکوم رعایا سے خراج اکٹھا کیا جا رہا ہے؟

سوال یہ بھی ہے کہ یہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ہوتی کیا ہے اور اس کے تعین کا فارمولا کیا ہے؟ نیز یہ کہ صارفین کو کیسے معلوم ہو کہ یہ تعین شفاف طریقے سے کیا جاتا ہے یا اپنی بدانتظامی سے ہونے والا خسارا بھی اسی مد میں عوام کی رگوں سے نکال لیا جاتا ہے؟ اس تعین سے کسی صارف کو اختلاف ہو تو وہ داد رسی کے لیے کس فورم سے رجوع کرے؟

اس کے بعد بجلی کے بل میں جناب محترم ایف سی سرچارج صاحب جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ ہم سب ہر ماہ بجلی کا بل ادا کرتے ہیں لیکن کیا ہمیں معلوم ہے کہ یہ فنانسنگ کاسٹ سرچارج ہے کیا چیز؟

نہیں معلوم تو کیا کبھی کسی نے پوچھنے کی ضرورت محسوس کی کہ کون سا ٹیکس ہے، کیوں لیا جاتا ہے اوراس کے تعین کا فارمولا کس حد تک منصفانہ ہے؟

اس کے بعد ٹی آر سرچارج ہے یعنی ٹیرف ریشنلائزیشن سرچارج۔ بنیادی سوال تو وہی ہے کہ ٹیرف ریشنلائزیشن سرچارج ہوتا کیا ہے؟ اس کے بعد پھر یہ سوال جنم لیتا ہے کہ اگر واپڈا اور متعلقہ اداروں کی غفلت، نااہلی یا بد انتظامی سے گردشی قرض بڑھ جائیں تو ریشنلائزیشن کے نام پر یہ بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جائے؟

نیز یہ کہ جب بل زیادہ وصول کیا جاتا ہے اور پھر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں لیے گئے پیسے بعد میں لوٹائے جاتے ہیں تو اس وقت بل میں ٹی آر سرچارج کیوں ڈالا جاتا ہے؟ وہیں ایڈجسٹ کیوں نہیں کر لیے جاتے؟

اب آئیے حکومت کے محصولات کی جانب۔

ٹیلی ویژن فیس 35 روپے۔ پرانے وقتوں کی بات ہے واپڈا کے سابق وزیر اور موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سینیٹ میں ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ دو سالوں میں ٹی وی ٹیکس کی مد میں 1400ملین سے زائد رقم اکٹھی کی گئی۔

خدا جانے اس وقت اس رقم کا حجم کیا ہے، یہ کہاں جاتی ہے اور کس کے استعمال میں لائی جاتی ہے؟ جب لوگ کیبل آپریٹرز کو ماہانہ رقم ادا کر کے ٹی وی دیکھتے ہیں تو پھر بجلی کے بل میں ٹی وی ٹیکس وصول کرنے کا کیا جواز ہے؟

اس کے بعد جی ایس ٹی یعنی جنرل سیلز ٹیکس ہے۔ پھر انکم ٹیکس ہے۔ اس کے بعد فاضل ٹیکس ہے۔ یعنی ایکسٹرا ٹیکس۔ ایکسٹرا ٹیکس کے بعد ایک اور ٹیکس ہے جس کا نام ہے ’مزید ٹیکس‘ یعنی (Further Tax)۔ اس کے بعد ایک بار پھر سیلز ٹیکس۔

پھر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اپنی نوعیت کا تنہا ٹیکس نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے۔ اس کی مد میں جو رقم وصول کی جاتی ہے اس پر الگ سے سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، فاضل انکم ٹیکس، مزید ٹیکس ہے۔

یہی نہیں بلکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جی ایس ٹی الگ ہے اور سیلز ٹیکس الگ۔ اس سارے بندوبست کی ماہرانہ توجیحات ہو سکتی ہیں کہ یہ سارے ٹیکس ایک ساتھ نہیں لگتے بلکہ فلاں ٹیکس فلاں موقعے کے لیے ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اجارہ داری تو ایک ادارے کے پاس ہی ہے کہ جب چاہے، جہاں چاہے، جتنا چاہے، ٹیکس لگا کر بھیج دے۔ صارفین کو نہ ٹیکس کا علم ہے، نہ اس کے حجم کا، نہ اس کے تعین کے پیمانے کا۔

بجلی کے بل کی پشت پر بجلی چوری کی سزا، اور خبردار کے عنوان سے طویل خطبے شائع کیے جا سکتے ہیں تو وہاں صارفین کی رہنمائی کے لیے ان ٹیکسوں کی تفصیل کیوں نہیں دی جا سکتی؟

آپ ان کا طرز عمل دیکھیں کہ بجلی کم استعمال کرنے کی درخواست کا عنوان بھی ’خبردار‘ ہے حالانکہ یہ ’گذارش‘ بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستانی ’بڑھتی مہنگائی‘ کی وجہ سے اپنا پسندیدہ ناشتہ چھوڑنے لگے
یہ جو بیوروکریسی کی نوآبادیاتی نظام کی نفسیاتی گرہ ہے، یہ آج بھی عوام کو شہری نہیں بلکہ رعایا سمجھتی ہے۔

استعمال شدہ یونٹس الگ معمہ ہے جو صارف کی سمجھ سے باہر ہے۔ میرے اپنے بل میں، اسلام آباد میں گذشتہ سال اگست کے مہینے میں دو ایئر کنڈیشنر کے ساتھ جتنے یونٹ استعمال ہوئے، اس سال بغیر اے سی کے اسی ماہ میں اس سے زیادہ یونٹ استعمال ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیسے؟

پھر اس سال جون میں، جب شدید گرمی تھی، جتنے یونٹ استعمال ہوئے، اگست میں اس سے دگنے یونٹ کیسے استعمال ہو گئے؟

بجلی کا استعمال تو جون میں بھی اتنا ہی تھا جتنا اگست میں۔ بجلی مہنگی ہو سکتی ہے لیکن یہ بجلی کے استعمال شدہ یونٹ دگنے کیسے ہو سکتے ہیں؟

یہ بات بھی ایک معمہ ہے کہ میرا اگست کا بل جون اور جولائی کے بلوں کی کل مالیت سے بھی زیادہ ہے۔ یہ کون سا طلسم ہے جو واپڈا کے ہاتھ میں آ گیا ہے؟

اثر صہبائی نے شاید پی ڈی ایم کا سہرا کہا تھا:

ساری دنیا سے بے نیازی ہے

واہ اے مست ناز کیا کہنا

(بشکریہ انڈپینڈینٹ اردو)

یہ بھی دیکھیں

جب انگریز راج میں خواتین نے نمک پر ٹیکس کے خلاف تحریک چلائی

(وقار مصطفیٰ) 31 دسمبر 1929 کی ٹھٹھرتی رات، لاہور میں راوی دریا کے مشرقی کنارے …