جمعہ , 7 اکتوبر 2022

کابل: داعش کا روسی سفارت خانے کے قریب حملہ

کابل:افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پولیس حکام نے بتایا کہ پیر کو روسی سفارت خانے کے قریب ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں دو سفارت کاروں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں ایجنسیوں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس حملے کی ذمہ دار ہے۔ داعش نے یہ دعویٰ ٹیلی گرام پر اپنے گروپ چینل پر کیا۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ حملہ آور کو مسلح محافظوں نے گیٹ کے قریب پہنچتے ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

اے ایف پی کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے حملے میں دو اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ کابل میں پولیس نے بتایا کہ چار افغان شہری ہلاک ہوئے۔حملے کے وقت سفارت خانے کے باہر ویزا حاصل کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

کابل میں ضلعی پولیس سربراہ مولوی صابر نے روئٹرز کو بتایا: ’خودکش حملہ آور کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے روسی سفارت خانے کے محافظوں (طالبان) نے پہچان لیا اور گولی مار دی۔‘

روس ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد کابل میں اپنا سفارت خانہ کھلا رکھا۔ اگرچہ ماسکو سرکاری طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا لیکن وہ گیسولین اور دیگر اجناس کی فراہمی کے معاہدے پر حکام سے بات چیت کر رہا ہے۔

روس کے سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک سفارت کار اور ایک سکیورٹی گارڈ شامل ہیں۔

آر آئی اے نوووستی نے رپورٹ کیا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب روسی سفارت کار سفارت خانے کے باہر انتظار کرنے والے لوگوں کا ویزے کے لیے نام پکارنے کے لیے آئے۔

روسی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دھماکہ افغان دارالحکومت میں واقع روسی سفارت خانے ’کے قونصلر سیکشن کے داخلی راستے کے عین قریب ہوا۔‘

روسی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’نامعلوم عسکریت پسند نے دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں سفارتی مشن کے دو ارکان ہلاک ہو گئے اور متاثرہ افراد میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔‘

یہ بھی دیکھیں

بلاول بھٹو کا صدر مملکت کیخلاف مواخذے کی کارروائی جلد شروع کرنے کا مطالبہ

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کیخلاف مواخذے کی کارروائی …