ہفتہ , 1 اکتوبر 2022

7 ستمبر یوم ِ فتح

(مطلوب وڑائچ)

یوم ختم نبوت ہماری ملکی و ملی تاریخ کا سنہری دن ہے۔7ستمبر1974 ءکو ہماری تابناک تاریخ رقم ہوئی۔ ذوالفقارعلی بھٹو کا دور حکومت تھا۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اس دن اپنے الگ الگ اجلاسوں میں آئین میں ترمیم کا ایک تاریخی بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا، جس کے تحت قادیانیوں کے دونوں گروپوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیدیا گیا۔علماءکرام اور سیاستدان لائق صد احترام ہیں جنہوں نے اس قانون پر مہر ثبت کردی جس کے تحت قادیانی غیر مسلم قرار پائے اور یہ فتنہ ہمیشہ کیلئے دفن ہوگیا۔

اس بل کو منظور کرنیوالا ہر فرد،اس حوالے سے جدوجہد کرنیوالے کسی بھی حیثیت کے لوگ اور اس نازک معاملے کو بڑی حکمت ودانش سے منطقی انجام کو پہنچانے والے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سب لائق تحسین ہیں۔7ستمبر1974 کی شام کو تمام مسلمانوں نے اپنی آنکھوں سے قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ کا جو عظیم اور مبارک فیصلہ ہوتے دیکھا، یہ ہر مسلمان کیلئے خوشی کا باعث تھا۔ بجا طور پر ہر فرد ایک دوسرے کو مبارک باد دیتا تھا۔

پوری ملت اسلامیہ جسد واحد کی طرح یکجا ہو کر مسرتوں سے جھوم اٹھی۔ قادیانیت کے مورچے پر فتح مندی کے بعد امت مسلمہ اور پورے عالم اسلام میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی لیکن اس عظیم فیصلے کے بعد قادیانیت کیخلاف تحریکیں چلانے والے بہت سے لوگ اس فیصلے کے بعد مطمئن ہو کر بیٹھ گئے۔ وہ یہ سمجھے کہ اب انکی ذمہ داریاں ختم ہو گئیں، حالانکہ ایسا نہیں تھا، عملاً قادیانیت اپنی ظاہری اور پس پرد ہ سر گرمیوں کے لحاظ سے اب تک ملت اسلامیہ کیلئے ایک فتنہ بنا ہوا ہے جس کی ہنوز بیخ کنی کی ضرورت ہے۔درحقیقت یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ حق غالب ہوا اور باطل مٹ گیا اس لیے کہ اس فرقے نے فساد برپا کیا تھا اور اسکی گمراہ کن جھوٹی دعوت تقریباً 99 برس تک پھیلی رہی جو یورپ اور افریقہ میں بہت سے مسلمانوں کی فکری گمراہی اور کجروی کا ذریعہ بنی۔

آج ہم اس فرقہ ضالہ کی رسوائی اور اسکی ریشہ دوانیوں کی قلعی کھل جانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی ان لوگوں کی سازشوں، خفیہ مذموم منصوبوں اور ان فریب کاریوں پر گہری نظررکھیں گے، جو یہ لوگ سچے اور حقیقی مسلمانوں کیخلاف بروئے کار لاتے رہتے ہیں۔مجموعی طورپرقوم اوراسکے نمائندوں نے ایک تاریخی فیصلہ صادر فرما کر دستوری طورپر مرزائیوں کے دونوں گروپوں کوخارج ازاسلام قرار دیتے ہوئے یہ طے کردیا کہ(1) جوشخص یہ عقیدہ رکھے کہ حضوراقدس کے بعد کسی شخص کوکسی قسم کی نبوت کسی شکل کسی خیال کے مطابق ملتی ہے وہ غیرمسلم ہے۔ (2) جوشخص ایسی کسی نبوت کااپنے لیے دعویٰ کرتا ہے وہ غیرمسلم ہے۔ (3) جوایسے مدعی نبوت کونبی مانتا ہے وہ غیرمسلم ہے۔ (4) جوایسے مدعی نبوت کومذہبی مصلح مانتا ہے وہ غیرمسلم ہے یہ بھی طے ہوا کہ جو مرزائی منافق بن کرخود کو مسلمان کہلائے وہ ختم نبوت کیخلاف تبلیغ نہیں کرسکے گا اگر کریگا توسزا کا مستوجب ہوگا۔

جودوسال قید بامشقت تک ہوسکتی ہے۔ 7ستمبرکو قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے علاوہ ایک قرار داد یہ بھی منظورکی کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ الف کے بعد دفعہ ب کا اضافہ کیا جائے جس میں درج ہو کہ: ”ایک مسلمان جو محمدﷺ کی ختم نبوت کے مفہوم مندرجہ آئین پاکستان دفعہ260شق نمبر3 کیخلاف عقیدے کااعلان یا اسکے خلاف عمل یا تبلیغ کرے وہ قابل سزاوتعزیرہوگا۔“اس ایک فیصلہ نے افہام و تفہیم اوراطمینان قلب کی وہ خدمت انجام دی۔

اسلام اور تبلیغ اسلام کے نام سے ”احمدیت“ کی تبلیغ کا جو کام کیا جاتا تھا‘ وہ بے اثر اور بے بنیاد ہوگیا۔اس فیصلہ کو اثرانگیزی اور انقلاب آفرینی کے باوجود علماءکی ذمہ داری کم نہیں ہوئی‘ بلکہ بڑھ گئی مسئلہ کا فیصلہ اگرچہ حکومتی اور انتظامی سطح پر ہوگیا ‘ لیکن علمی اور فکری سطح پر ابھی اس کو مختتم کرنے کیلئے ختم نبوت کے موضوع پر بلند پایہ اور یقین آفرین سنجیدہ اورمحققانہ کتابوں اور مضامین کی ضرورت ہے۔قارئین!ان تمام حقائق کے باوجود اسلام کشادہ دلی کی دعوت اورتبلیغ کرتا ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں رہنے والی تمام اقلیتیں اگر ملکی قوانین کو تسلیم کریں اور اسکی پاسداری کریں تو انہیں اس ملک میں رہنے والے ہر شہری جیسے حقوق حاصل کریں۔آج بھی ہمارے اطراف بے شمار لوگ شاید اس اقلیتی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور آج کے دن کی مناسبت سے مجھے پاکستانی علماءکا یہ متفقہ فیصلہ یاد آ رہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی بخشش کیلئے صرف یہی کافی ہے کہ انہوں نے پاکستان کی پارلیمنٹ سے اس فیصلے کی منظوری کروائی۔ یقینا معاف کرنا اور اجر دینا صرف رب کریم کے ہاتھ میں ہے اور مجھے فخر ہے کہ میرا نام تاجدارِ ختم نبوت کے غلامان کی لسٹ میں شامل ہے۔بشکریہ نوائے وقت

 

یہ بھی دیکھیں

کیا پیوٹن کا ‘ فوج کو جزوی طور پر متحرک کرنے کا عمل’ یوکرین میں روسی مقاصد کو حاصل کر سکتاہے؟: شفقنا بین الاقوامی

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 300,000 ریزرو کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک …