اتوار , 25 ستمبر 2022

امریکہ اور برطانیہ کے ایران مخالف الزمات کی کوئی حیثیت نہیں؛ کنعانی

تہران:ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے البانیہ کیخلاف دعوے کیے گئے سائبر حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ جو اس سے قبل ایران کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف متعدد سائبر حملوں کے سامنے خاموش رہے تھے اور اس طرح کے اقدامات کی حمایت بھی کر چکے تھے، کو ایران کے خلاف ایسے الزامات لگانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق "ناصر کنعانی” نے جمعرات کی علی الصبح کو امریکی قومی سلامتی کونسل اور برطانوی محکمہ خارجہ کیجانب سے البانیہ کیخلاف دعوے کیے گئے سائبر حملے سے متعلق ایران کیخلاف الزامات لگانے کی تردید کرتے ہوئے ان کی سختی سے مذمت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور برطانیہ جو اس سے قبل ایران کے بنیادی ڈھانچے اور حتی کہ ایران کی جوہری تنصیباب کے خلاف متعدد سائبر حملوں کے سامنے خاموش رہے تھے اور اس طرح کے اقدامات کی بالواسطہ اور بلاواسطہ حمایت بھی کر چکے تھے، کو ایران کے خلاف ایسے الزامات لگانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

کنعانی نے ان مضحکہ خیز بہانوں سے ایران کے خلاف کسی بھی سیاسی مہم جوئی کے خلاف خبردار کرتے ہوئےاس بات پر زور دیا کہ ایران، کسی بھی ممکنہ سازش کے خلاف فیصلہ کن، فوری اور پچھانے والی جوابی کاروائی کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بطور ایک ملک کے جو بار بار سائبر حملوں کا شکار ہوگیا ہے، سائبر حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ بین الاقوامی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔

واضح رہے کہ البانیہ کے وزیر اعظم "ادی راما” نے بدھ کو ایران کیجانب سے ان اس ملک کیخلاف سائبر حملوں کے بے بیناد الزامات لگاتے ہوئے ایک بیان میں ایران سے سفارتی تعلقات کو منقطع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی سفارتکاروں اور سفارتخانے کے اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اس ملک کو چھوڑ دیں۔

یہ بھی دیکھیں

آئی اے ای اے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے سیاسی رویہ اور دوہرے معیارات اپنانے سے باز رہے، امیر عبداللہیان

نیویارک: ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے دورہ نیویارک کے دوران ناروے کی …