پیر , 3 اکتوبر 2022

تباہی بربادی کے بعد انتظام، انصرام کا مرحلہ

(محمود شام)

سب سے پہلے تو چکوال کے نوجوان حمزہ کو دل کی گہرائیوں سے سلام کہ اس نے پاکستان کی مصیبت کی اس گھڑی میں ایک انتہائی اہم خدمت کی ہے۔ سیلابی پانی کو پینے کے قابل بنانے کی مشین اور وہ بھی شمسی توانائی سے۔ اس کا نام ’بوندِ شمس‘ رکھا گیا ہے۔ یہ سیلاب زدہ علاقوں میں فراہم کی جارہی ہے۔ الخدمت نے کچھ مشینوں کا تقاضا کیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس فارمولے پر بڑے پیمانے پر عمل کرسکتی ہیں۔

مجھے اپنے نوجوانوں پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کی مشکلات آسان کرنے کے لئے فکر مند رہتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں۔ جدید علوم کی تحصیل کو۔ سوشل میڈیا کو۔ اپنی تحقیقی قوت کو تخلیقی طاقت بناتے ہیں۔ یہ اقبال کے وہی جوان ہیں جو ستاروں پہ کمند ڈالتے ہیں۔ یہ وہی مٹی ہے جو ذرا نم ہو تو بڑی زرخیز ہوجاتی ہے۔ یہ ہماری طرح کے گلے شکوئوں میںبڑبڑاتے کڑھتے فیس بک پر بقراطی پوسٹیں چسپاں کرنے میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ یہ اپنے ہم وطنوں کو کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار دیکھ کر مضطرب رہتے ہیں۔اب ہمارے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کا ضلع۔ پیر مظہر الحق کاعلاقہ دادو طوفانی ریلوں کی زد میں ہے۔ منچھر جھیل میںکٹ لگائے جارہے ہیں۔ لیکن پانی کی سطح کم نہیں ہورہی۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ دادو کی مشکل آسان کرے۔قرضوں کے بوجھ تلے ہم پہلے سے ہی دبے ہوئے تھے۔ اب ملک گیر سیلابی نقصانات نے بھی اربوں ڈالر کا بوجھ بڑھادیا ہے۔ کہیں کہیں سیلِ رواں اب بھی تباہی مچا رہا ہے۔ لیکن اب سارے سیلاب زدہ علاقے انتظام یعنی مینجمنٹ کے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ ہم جذباتی قوم ہیں۔ ہمارے سیاستداں۔ حکمراں۔ مذہبی رہنما۔ ترغیبی مقررین سب ہی ہمیں جوش دلاتے ہیں۔ ہمارے جذبوں کو ہوا دیتے ہیں۔ ہمیں اشتعال دلاتے ہیں۔ لیکن اب فیصلہ کن موڑ آگیا ہے۔ تباہی بربادی ہم سے جذباتیت کا تقاضا نہیں کررہی۔ بلکہ تحقیق۔ ترتیب۔ تخلیق۔ تکمیل مانگ رہی ہے۔ اپنے سامنے پھیلے ہوئے پانی کو۔ کائی میں بدلتے کھڑے پانی کو۔ برباد فصلوں کو۔ تباہ گھروں کو۔ منہدم سڑکوں کو۔ غرقاب رستوں کو دیکھیں۔ پھر اپنے آپ سے پوچھیں کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں رہنے والے۔ دریا کے کچے میں زندگی گزارنے والے تو صدیوں سے ایسی آفات کا سامنا کرتے آرہے ہیں۔ انہیں نسل در نسل سارے مراحل کا علم ہوتا ہے۔ زمین کی بحالی۔ مال مویشیوں کی افزائش بھی کب کرنی ہے۔وہ برسوں سے اپنے گھرخود ہی دوبارہ بناتے رہے ہیں۔ مال مویشی پالتے رہے ہیں۔

ہمیں امید ہی نہیں یقین ہے کہ سیلاب نے جس بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اس سے ہمارے سیاستدانوں۔ ارکانِ اسمبلی۔ علمائے کرام۔ اینکر پرسنز۔ صنعت کاروں۔ چیف سیکرٹریوں۔ آبپاشی سیکرٹریوں۔ ریلیف کمیٹیوں کے سربراہوں اور ارکان کی آنکھیں کھلیں گی۔ اب ہمارے صدر۔ وزیر اعظم۔ وزرائے اعلیٰ۔ صوبائی وزیروں سب کو جذباتی۔ انتقامی سوچ ترک کرکے انتظامی فکر اختیار کرنا ہوگی۔ نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ تباہی کا دائرہ بہت بڑا ہے۔ چاروں صوبے ،دونوں اکائیاں متاثر ہوئی ہیں۔ سندھ میں اموات بھی زیادہ ہوگئی ہیں۔ دریائوں اور سیلابی پانی کے آخر میں واقع ہونے کے باعث گلگت بلتستان ۔ کے پی کے۔ پنجاب۔ جنوبی پنجاب اور بلوچستان ہر طرف سے آنے والے سیلابی ریلوں نے سندھ میں قیامتیں برپا کی ہیں۔ اب وزیر اعظم کو چاہئے کہ مینجمنٹ سائنسز کے ماہرین سے مشاورت کریں۔ زرعی یونیورسٹیوں۔ انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سے تجاویز مانگیں۔ اقوام متحدہ اور دوسرے اداروں سے مدد اپنی جگہ لیکن مسائل ہمارے ماہرین کو ہی حل کرنے ہیں۔ حل کرتے رہے ہیں۔ یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ مسائل کبھی انسان سے بڑے نہیں ہوسکتے۔تعمیر نو جنگی بنیادوں پر ہوگی۔ یہ احساس ہم سب کے ذہنوں میں سر فہرست رہنا چاہئے کہ تباہی بربادی ان علاقوں میں آئی ہے جو ہمارے لئے گندم۔ چاول۔ مکئی۔ گنا اور دوسرا غلہ پیدا کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہمارے وہ جفاکش بھائی ہوتے ہیں جن کی محنت کے بل پر ہم بڑے چھوٹے شہروں میں رہنے والے سکون سے سانس لیتے ہیں۔ بلوچستان والے ہوں۔ جنوبی پنجاب۔ سندھ کے ہاری۔ کے پی کے کے محنت کش۔ یہ فعال نہ ہوں تو ہم بھوک سے بلکیں۔ پیاس سے تڑپیں۔ ہمیں لباس نہ ملے۔ ہماری شوگر ملیں چینی پیدا نہ کریں۔ ہماری ٹیکسٹائل مل نہ چلیں۔ ہمیں دال ملے نہ گوشت۔

یہ کروڑوں ہم وطن ہم کروڑوں کی زندگی آسان بناتے آرہے ہیں۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کے جیون کو معمول پر لانے کے لئے دن رات ایک کردیں۔ صبح شام ہماری ایک ہی دھن ہونی چاہئے۔ ہماری گفتگو کا۔ میٹنگوں کا موضوع یہی ہونا چاہئے۔ ٹاک شوز میں بھی غیر ذمہ داری سیاستدانوں کی بجائے زراعت۔ آبپاشی۔ صنعت۔ تعمیرات کے ماہرین کو اپنے تجربات اور تجاویز دینے کا موقع دیا جائے۔ قوم کو مینجمنٹ کی تربیت دی جائے۔ یہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ ان کو بیدار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

امداد آرہی ہے۔ مزید بھی آئے گی۔ عام پاکستانی بھی جو کچھ کرسکتا ہے کررہا ہے۔ اس کی تقسیم اور اس کا استعمال کسی سسٹم کے تحت ہونا چاہئے۔ کہا جارہا ہے کہ سرکاری اداروں اور غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے درمیان اشتراک اورربطِ باہمی کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا متوسط طبقہ خود بھی بجلی کے بلوں اور مہنگائی کی زد میں ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے تباہ حال بھائی بہنوں کے لئے خطیر عطیات دے رہے ہیں۔ اس لئے ان کا استعمال بہت ہی احتیاط اور سوچ بچار سے ہونا چاہئے۔بلدیاتی ادارے با اختیار بھی نہیں ہیں۔ سب جگہ موجود بھی نہیں ہیں۔ اس لئے زیادہ ذمہ داری اب صوبائی حکومتوں کی ہے۔سب سے زیادہ صوبائی حکومتیں پاکستان تحریک انصاف کے پاس ہیں۔ پنجاب۔ کے پی کے۔ آزاد جموں کشمیر۔ گلگت بلتستان۔ 22میں سے 16کروڑ پاکستانی عمران خان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس مصیبت کی گھڑی میں وہ اپنی قائدانہ صلاحیتیں تعمیرِ نو کے لئے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ زمینیں دوبارہ قابلِ کاشت کیسے بناتے ہیں۔ ان چاروں حکومتوں میں موجود انجینئرنگ ، زرعی یونیورسٹیوں۔ با شعور ماہرین کے تجربات سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔جو شعور انہوں نے جلسوں کے ذریعے پیدا کیا ہے اسے تعمیرنو کے دَورمیں کیسے بروئے کارلاتے ہیں۔

تباہی بربادی کے مراحل گزرنے کے بعد اب انتظام۔ انصرام۔ اہتمام کے مراحل شروع ہوگئے ہیں۔ اب تعمیر تحقیق۔ تخلیق۔ ترتیب اور تکمیل کی صلاحیتیں سامنے لائیں۔ سوشل میڈیا پر بھی پوسٹیں اسی حوالے سے آویزاں کریں۔ طنز کے نشتر پھر کسی سہانے وقت کے لئے سنبھال رکھیں۔ آسمان دیکھ رہا ہے۔ تاریخ ہر لمحے نگراں ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

کیا چینی قرضوں کی واپسی میں سہولت پاکستان کے لیے ’لائف لائن‘ بن گئی ہے؟

(محمد صہیب) چین کے قرضوں کی واپسی پر نظرِ ثانی اور اس ضمن میں سہولت …