جمعرات , 6 اکتوبر 2022

سیلاب کی تباہی میں امداد اور لٹیرے

(کشور ناہید)

سائنسی تجزیئے کے مطابق یہ موسمیاتی تبدیلی کا شاخسانہ تھا جو سندھ، بلوچستان اور کے پی کے کے علاوہ جنوبی پنجاب کو تباہ و بربادکرگیا اور ساڑھے تین کروڑ لوگوں کے گھر، زمینیں، فصلیں اور بیٹیوں کے جہیز کے علاوہ ہزاروں لوگوں اور مویشیوں کو پانی کا ریلا اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ ویسے تو پانی اب تک کئی علاقوں میں ٹھہرا ہوا ہے، جو گھر بچ گئے ہیں،اس کے مکین گھروں میں قید ہو گئے ہیں کہ نہ گیس ہے نہ بجلی اور مدد پہنچانے والے ابھی تو تمام سیلاب زدہ لوگوں تک پہنچنے کے باوجود، دور دراز علاقوں جیسا کہ شمالی بلوچستان تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پورا مہینہ ہوگیا۔ لوگ بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔

وزیراعظم کی خود ہر جگہ پیشی اور عوام سے براہِ راست ملاقات کے دیکھا دیکھی سندھ اور بلوچستان کے وزرا نے بھی حاضری لگوانے کو فیلڈ اور پانی میں بیٹھے لوگوں سے ملاقات کی کوشش کی ہے۔ عبرت کا مقام ہے کہ مصیبت زدہ لوگوں نے بھی ان کی اس تین ہفتے گزرنے کے بعد، چہرہ نمائی کو ناپسند کیا اور واقعتاً برابھلاکہہ کر واپس بھیج دیا۔ ایک وزیر صاحب نے تو حد کردی، فرمایا،’’ آپ لوگ دیکھیں آخر وینس میں بھی لوگ پانی میں گھرے رہتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاح، انہیں دیکھنے جاتے ہیں‘‘۔ سارے اخبار نویس ان دانشوروں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ مگر افسوس اس بات پر کہ اگر اتنے عالم فاضل لوگ کابینہ میں ہیں تو صوبے میں منصوبہ بندی کرنے اور عوام کے غیض و غضب کو کیسے بھگتیں گے۔ ڈی جی خان میں بھی بزدار صاحب کی نمائشی شکل صدر کے فوٹو سیشن کے موقع پر نظر آئی مگر صدر صاحب کی بیگم جو بہت جگہ افتتاحی جلسوں میں شریک ہوتی تھیں۔ وہ بے صحن، بے خوراک اور بیمار بچوں کے لئے کوئی تدبیر کیوں نہیں کررہیں۔ یہ موقع سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، عمران خان کی طرح کرنے کا نہیں۔ دنیا بھر کے ڈاکٹر بھی اس دھوپ میں ننگے سر اور ننگے بدن بیٹھے لوگوں کی خدمت کرنے آرہے ہیں مگر ایک بات جو حامد میر ، خود جاکر دیکھ کر بتا رہے ہیں کہ آپ سب صوبوں کے اور ملک کے سربراہ ہمارے علاقوں میں اپنی سیکورٹی کے ساتھ جاتے رہے ہیں۔ بغیر سیکورٹی جائیں اور اصلیت کھلے کہ 3کروڑ میں سے آدھے لوگوں کو اب تک خوراک نہیں ملی ہے، تنبو اور کھانا پکانے کا سامان کہ وہ تو کسی ٹیلے یا موٹر وے یا چھوٹی سی خشک زمین کے ٹکڑے پر بیٹھے ہیں۔ ان کو لوگ آٹا، چاول اور دالیں بھیج رہے ہیں۔ سر چھپانے کی جگہ نہیں۔ وہ کہاں سامان رکھیں اور اپنے لئے چھائوں تلاش کریں اور کھانا پکائیں ۔ بہت سنجیدگی سے صوبائی حکومتوں میں ہر کمشنر اور ڈپٹی کمشنر پریس کورٹی رٹائی باتیں بتا رہے ہیں ۔ اب جب کہ ساری دنیا سے سامان آنا شروع ہوگیا ہےجن میںخوراک، پانی اور تنبو وغیرہ شامل ہیں۔ میرپورخاص کا ڈی سی خود مانگنے نکل پڑا ہے ۔ سب تقلید کریں گزشتہ سیلاب اور زلزلے میں جن کی جانب توجہ نہیں دی گئی وہ خواتین ہیں جن میں 60فیصد حاملہ ہیں۔ باقی کو بھی ماہانہ ضرورت ہوتی ہے۔ ان ضرورتوں کو پہلے بھی اولیت نہیں دی گئی۔ وہ سب عورتیں اور لڑکیاں جو عمران خان کے بیکار جلسوں میں نعرے لگا رہی ہیں۔ ان کو سامان دیکر عمران خان خواتین کے پاس بھجوائیں۔تمام ارکان پارلیمان خالی برتنوںکو چاٹتے بچوں کے آنسو پونچھیں۔ کیا ہمارے سارے ہوٹل پکے ہوئے کھانے اور سارے بڑے گھر سیلانی کی طرح بے آسرا بچوں کیلئے دودھ اور چاول بھجوادیں تو ان کا انکم ٹیکس بھی بچ سکتا ہے۔

اس وقت کم خرچ ہائوسنگ کے منصوبہ سازوں کو دعوت دیں کہ وہ کم خرچ کی تفصیلات سامنے لائیں۔ ہر مل مالک کو دس گھر بنانے کی ذمہ داری دیں تو پھراحسن اقبال کا یہ کہنا کہ تعمیر نو میں پانچ سات سال لگیں گے غلط ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں چین کے ماہرین سے مشورہ اور ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس وقت امریکہ اور یورپ میں خستہ مکانوں کو گرایا نہیں جارہا۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ، انہیں کم خرچ میں مرمت سے رہنے کے قابل بنایا جارہا ہے۔ عالمی سطح پر یہ تحریک بھی چلائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کے پاس پانچ سال پرانے کپڑے ہیں وہ انہیں نکالیں اور غربت چوں کہ اس وقت ساری دنیا میں ہے، اسلئے ایسے کپڑوں کو باقاعدہ کم قیمت پر فروخت کیا جائے یا مفت دے دیں۔ وہ بھی لائقِ تحسین ہوگا۔ پاکستان اور انڈیا میں ہماری عورتیں بہت کپڑے بناتی ہیں۔ وہ ایک شادی پہ پہنا ہوا جوڑا، دوسری کسی شادی میں استعمال کرنے کو تیار نہیں ہوتیں۔ جواز یہ دیتی ہیں کہ یہ کپڑے تو لوگ دیکھ چکے ہیں۔ ان ساری بیگمات سے التماس ہے کہ آپ ایک بار پہنے کپڑے ہی نکال کر سیلاب زدگان کیلئے پیک کرکےدے دیں۔ شاید اللہ میاں کو آپ پر ترس آ جائے۔ بہتر یہ ہوگا کہ اب کھانا بھی ڈبوں میں دیا جائے، یوں کراکری اور کھانے کے اخراجات میں کمی ہو گی۔بشکریہ جنگ نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

ایران پر خوردبین لگائے اہل وطن، یہ فساد ہے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس) ایران میں خواتین کتنی آزاد ہیں؟ اس کا اندازہ آپ کو …