پیر , 3 اکتوبر 2022

"الخدمت فاؤنڈیشن” کو سلام!!!!!

(محمد اکرم چوہدری)

رواں سال سیلاب بہت کچھ بہا کر لے گیا ہے۔ خطرہ ابھی ٹلا نہیں اللہ رحمت فرمائے اور ہمیں مزید تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن گذشتہ چند ہفتوں میں سیلاب کی وجہ سے جس بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اس کی بحالی کے لیے ناصرف بہت وقت بلکہ بہت سرمایہ بھی خرچ ہو گا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود بھی یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ہم مکمل طور بحالی کا کام کرنے میں کامیاب ہوں گے لیکن امید ضرور ہے کیونکہ پاکستان کو ناصرف دنیا بھر سے امداد مل رہی ہے بلکہ ملک میں کئی فلاحی تنظیمیں بھی میدان عمل میں ہیں۔ ویسے پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے متحد ہو کر مسائل کا سامنا کیا ہے اور کسی بھی وجہ ملک کے کسی بھی حصے میں زلزلہ، سیلاب یا دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو ہر وقت اپنے مصیبت زدہ ہم وطنوں کا بازو بنی ہے۔ آج بھی وہی جوش و جذبہ ہر جگہ موجود ہے۔ لوگ دل کھول کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ فلاحی تنظیمیں بھی بھرپور انداز میں کام کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے سولہ لاکھ سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔سوا تین کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ساڑھے سات لاکھ سے زائد جانور ہلاک ہو چکے ہیں۔ لگ بھگ تیرہ ہزار زخمی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد مالی نقصان کا اندازہ لگانا اور کمزور معیشت اور مختلف مسائل میں گھرے ملک کے لیے بحالی اور امدادی سرگرمیوں کو بلاتعطل جاری رکھنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا بھی کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشکل وقت ہی قوموں کے لیے نئے راستے پیدا کرتا ہے، مشکلات ہی انسان کو آگے بڑھنے اور متحد ہو کر مسائل سے نکلنے کا سبق دیتی ہیں۔ ان دنوں بھی قوم متحد ہے۔ امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کام پر توجہ دیے ہوئے ہے۔ جن فلاحی اداروں نے دنیا بھر کو متاثر کیا ہے ان میں الخدمت سب سے نمایاں ہے۔ الخدمت کے رضاکاروں کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ جس منظم انداز میں مشکل حالات میں الخدمت رضاکار میدان عمل میں ہیں وہ جوش و جذبہ اور تنظیم دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔ الخدمت نے مختلف وقتوں میں مشکل حالات اور امدادی سرگرمیوں کے لیے رضاکاروں کی تربیت کا بھی اہتمام کیا یہی وجہ ہے کہ ان دنوں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے الخدمت رضاکار زیادہ بہتر انداز میں خدمات انجام دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

آئی سی سی نے پلیئرز کی نئی رینکنگ جاری کر دی، پاکستانی بلے بازوں کا راج برقرار
الخدمت فاونڈیشن نے ہر ناگہانی آفت اور حادثے کے وقت مصیبت زدہ بہن بھائیوں کے لیے ریسکیو ،ریلیف اور بحالی کیلئے شبانہ روز کام کیا ہے، اب کی بار بھی الخدمت کی اعلیٰ انتظامیہ سے لیکر عام رضا کار تک سب کے سب سیلاب متاثرین کے درمیان موجود ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن اس وقت ملک بھر میں سب سے بڑا ریلیف آپریشن چلا رہی ہے۔ گلگت بلتستان سے لے کر چترال، جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان جہاں نظر دوڑائی جائے الخدمت کے رضاکار دکھائی دیتے ہیں۔ الخدمت فاونڈیشن کے رضا کار فیلڈ ہی میں نہیں بلکہ ہیڈ آفس سے ضلعی دفاتر تک سبھی اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔دفاتر میں موجود افراد ہوں یا فنڈز اکھٹا کرنے والی ٹیم، ایڈمنسٹریشن میں سامان خریدنے، لوڈ کرنے اور بھجوانے والی ٹیم ہو یا میڈیا، سوشل میڈیا، ڈیزائنر اور اس کے علاوہ چوبیس گھنٹے ، ہفتے کے ساتوں دن لوگوں کی کالز موصول کرنے اور انہیں بروقت مدد پہچانے وانے رضا کار ، کوئی کال آ جائے تو اسے ہرممکن مدد پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے۔رضاکاروں کی آنکھیں نیند سے پھٹی جارہی ہیں، کندھے سامان اٹھا اٹھا کر تھکن سے چور ہیں۔ لیکن انہیں تھکاوٹ کا احساس ہے اور نہ ہی سستی کی تکلیف ، ان لوگوں کے دماغ میں بس ایک دھن سوار ہے کہ کس طرح سے اہل وطن کی خدمت کی جائے۔ کوئی اہل وطن مدد نہ ملنے سے سیلابی پانی کی نظر نہ ہوجائے۔ پیارے دیس کا کوئی شہری فاقے کا شکار نہ ہو، الخدمت کا فلڈ ریلیف آپریشن محض ریسکیو تک محدود نہیں بلکہ ہرمیدان میں انکے رضاکار مسلسل کام کر رہے ہیں۔ الخدمت کے رضاکار نے رسوں، کشتیوں، گاڑیوں کی مدد سے لوگوں کو ریسکیو کر کے درجنوں قیمتی جانیں بچائیں اس کے علاوہ راجن پور اور داجل میں بچیوں کا جہیز کا سامان تک نکالا اور محفوظ کیا۔الخدمت کے رضا کار اس وقت بڑے پیمانے پر الخدمت کچن کے ذریعے پکا پکایا کھانا تقسیم کر رہے ہیں۔ جہاں کھانے کا انتظام موجود ہے ، وہاں یہی رضاکار خشک راشن اپنے کندھوں پر اٹھا کر پہنچا رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن کی جانب سے مختلف بستیوں میں روزانہ میڈیکل کیمپس لگا کر سینکڑوں بچوں ، خواتین اور بزرگوں کو طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ بستیوں میں خیمے اور ترپال پہنچائے جا رہے ہیں۔

الخدمت فاونڈیشن کا شعبہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ہر وقت اہل وطن کی خدمت کیلئے تیار رہتا ہے۔ ملک بھر میں کسی بھی ممکنہ آفت سے نمٹنے کیلئے الخدمت کے رضاکار 24گھنٹے تیار رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کہیں کوئی حادثہ ہو یا بم دھماکہ، سیلاب آئے یا طوفان بادو باراں الخدمت کے رضاکار ہی سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔2005 ء کا زلزلہ ہو یا 2010 ء کا سیلاب،تھر کا پانچ برس کا طویل قحط ہو یا میر پور کا زلزلہ الخدمت فاونڈیشن نے اپنے تین دہائیوں کے سفر میں کھربوں روپے اہل وطن کو آفات سے ریسکیو کرنے ، انہیں ریلیف پہنچانے اور ان کی آبادی کاری پر صرف کئے۔ اب جبکہ ایک بار پھر قوم آزمائش میں مبتلا ہے ، الخدمت کے رضا کار ایک بار پھر عوام کی خدمت کو حاضر ہیں ، لیکن اس بار الخدمت فاونڈیشن کو ملک کے مخیر حضرات کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے ، کیونکہ اس سیلاب سے ہونے والی تباہی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ جنوبی پنجاب ، بلوچستان اور سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں کوئی بھی کچا مکان باقی نہیں بچا ، 80 فیصد پکے مکانات بھی زمین بوس ہوچکے ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن ملک میں سیلاب متاثرین کی مدد کر رہی ہے، الخدمت فاؤنڈیشن ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ آگے بڑھیں، ہموطنوں کا ساتھ دیں، مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کریں، باہر نکلیں، اختلافات کو ترک کریں، مل جل کر محبت بانٹیں، محبتیں تقسیم کریں، کھانے تقسیم کریں، بازو بنیں، سہارا بنیں۔ الخدمت کا ریلیف آپریشن ہی اس کا سب سے بڑا پیغام ہے۔ اس پیغام کو سمجھنے، عام کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی خدمت کرنے والا ہر شخص ہر ادارہ محترم ہے اسے اس کا جائز مقام ملنا چاہیے۔ پاکستان اس مشکل وقت سے بھی نکلے گا اور ترقی بھی کرے گا، تباہ ہونے والے آباد ہوں گے، چیخ و پکار کی جگہ مسکراہٹوں نے آنا ہے، خزاں کے بعد بہار ہے اور مشکل کے بعد آسانی بھی ہے۔ دعا ہے کہ یہ سیلاب اپنے ساتھ ہماری ضد، انا، تکبر، عدم برداشت اور شدت کو بھی بہا لے جائے تاکہ یہ ملک تیزی سے ترقی کرے اور حقیقی معنوں میں عالم اسلام کا مضبوط قلعہ بن جائے۔ آمین بشکریہ نوائے وقت

 

یہ بھی دیکھیں

کیا چینی قرضوں کی واپسی میں سہولت پاکستان کے لیے ’لائف لائن‘ بن گئی ہے؟

(محمد صہیب) چین کے قرضوں کی واپسی پر نظرِ ثانی اور اس ضمن میں سہولت …