ہفتہ , 24 ستمبر 2022

سیلاب کی تباہ کاری سے بطور قوم نبردآزما ہونا ہے

(رحمت خان وردگ)
سال 2022ءمیں معمول سے بہت زیادہ طوفانی بارشوں کے باعث ملک بھر میں تباہی کے مناظر ہیں اور سیلابی ریلے بستیوں کی بستیاں لے گئے اور تقریباً 4کروڑ افراد سیلاب و بارش کی تباہ کاریوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں جن کی زندگی بھر کی جمع پونجی سیلاب و بارشوں کی نذر ہوگئی۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ سیلاب و بارشوں سے تباہی کیوں ہوئی اور اس کے ذمہ داران کون ہیں؟

مستقبل میں ان تباہ کاریوں سے نجات یا کمی کےلئے ہمیں کون کونسے اقدامات کرنے چاہئیں؟ ہمارا آج کا موضوع موجودہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرین کی مدد و جلد بحالی ہے۔اس وقت ملک کی آبادی 23کروڑ کے لگ بھگ ہے جس میں سے 4کروڑ آبادی متاثر ہوئی ہے تو باقی 19کروڑ کی آبادی کا فرض بنتا ہے کہ اپنے سیلاب زدہ بھائیوں اور ہم وطنوں کی دل کھول کر مدد کریں اور اس سلسلے میں قوم دل کھول کر سیلاب متاثرین کی مدد کےلئے نکلی ہے اور کراچی نے تو حسب روایت سیلاب زدہ بھائیوں کےلئے ماضی کے تمام ریکارڈ تو ڑ کر امداد دی ہے۔

آئی سی سی نے پلیئرز کی نئی رینکنگ جاری کر دی، پاکستانی بلے بازوں کا راج برقرار
حکومت نے دنیائے عالم سے بھی امداد کی اپیلیں کی ہیں اور اقوام متحدہ نے بھی سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث پاکستان کی مدد کی اپیل کی ہے۔ دنیا بھر سے سیلاب متاثرین کی مدد کا سلسلہ جاری ہے اور تمام ممالک بھی اس سلسلے میں پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔ پاکستان کے 160اضلاع ہیں اگر ان میں سے 60اضلاع کو سیلاب متاثرہ قرار دیکر نکال بھی دیا جائے تو 100اضلاع بچ جاتے ہیں۔ ان اضلاع کے کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کی قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے اپنے ضلع کے 10000مخیر حضرات کی منصفانہ فہرستیں بنائیں اور ان کو قومی جذبے کے تحت اپیل کی جائے کہ وہ چھ ماہ تک باقاعدگی سے ماہانہ فی کس 10000 روپے سرکاری سیلاب فنڈ میں دیں تاکہ اگلے چھ ماہ میں سیلاب متاثرین کی مستقل رہائش و روزگار کی بحالی ممکن ہوسکے۔ پاکستان میں ہر ضلع کی اوسط آبادی اگر 50لاکھ نفوس شمار کرلی جائے تو کیا ان 50لاکھ لوگوں میں سے 10000 ایسے افراد نہیں ہیں جو بآسانی صرف چھ ماہ تک سیلاب متاثرین کی مدد کےلئے ملک کی خاطر ماہانہ 10000 روپے دے سکیں؟

میرے خیال سے ہر ضلع میں ایسے 10000سے زائد افراد ہوں گے جو ماہانہ دس ہزار تک بآسانی سیلاب فنڈ میں عطیہ دے سکتے ہیں اور ہر ضلع کی مقامی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر و اسسٹنٹ کمشنرز کو علم ہوتا ہے کہ ہمارے علاقے میں کون سے مخیر حضرات رہائش پذیر ہیں۔

اگر ایک لاکھ پاکستانی مخیر شہری ماہانہ دس ہزار روپے سیلاب متاثرین کے فنڈ میں صرف چھ ماہ تک دیں تو ہمیں عالمی امداد کے بغیر ہی ماہانہ ایک کھرب روپے کی مقامی فنڈ وصولی ممکن ہے جس سے سیلاب سے متاثرہ تقریباً 4کروڑ آبادی کی مستقل بحالی ممکن ہوسکے گی۔ سیلاب متاثرہ افراد کو اس وقت فوری طور پر خیموں‘ خوراک‘ چارپائیوں‘ کپڑوں‘ دوا¶ں اور برتنوں کی ضرورت ہے لیکن سیلاب متاثرین آخر کب تک اس امداد کے منتظر رہیں گے؟ کیونکہ ان کی زندگی کی جمع پونجی‘ مال اسباب سب کچھ پانی برد ہوگیا ہے اور انکے مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ اسی لئے سیلاب سے متاثرہ افراد کی معمول کی زندگی کی بحالی کےلئے انہیں چھ ماہ کے اندر اندر مناسب رہائش اور مال مویشی کی فراہمی بہت ضروری ہے۔ جگہ جگہ سیلاب کے پانی سے وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ پانی سے بدبو اور بیماریاں پھیلنے کا سلسلہ شدت اختیار کرجائے گا اسی لئے سیلابی پانی کے انخلاءکی بھی کوشش کرنی چاہئے تاکہ زیر کاشت رقبے پر اگلی فصل کی بوائی ممکن ہوسکے بصورت دیگر پاکستان خوراک کے بدترین بحران کا شکار ہوجائے گا۔

زیر کاشت رقبے کی فوری بحالی بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے اور اس سلسلے میں وفاقی و صوبائی حکومتیں جامع حکمت عملی کے تحت زرعی زمینوں کو قابل کاشت بنانے کی پالیسی بناکر اس پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کریں اور اس سلسلے میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی‘ 1122‘ پاکستان کی مسلح افواج سمیت تمام سرکاری اداروں اور نجی سوشل آرگنائزیشنز کی ایک مشترکہ میٹنگ ہونی چاہئے جس میں تمام پہلو¶ں سے ملک کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نجات دلانے کے منصوبے کا آغاز کیا جائے۔

ایسے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں‘ مسلح افواج اور فلاحی تنظیمیں اپنی اپنی حدتک بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں اور پاکستانی قوم بھی اس سلسلے میں اپنی استطاعت کے مطابق سیلاب متاثرین کی دل کھول کر امداد کر رہی ہے۔ مقامی فنڈ سے ہمیں غیر ملکی امداد کی ضرورت نہیں رہے گی اور بہت تیزی سے سیلاب کی موجودہ تباہ کاریوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

دنیا میں 80 لاکھ سے زیادہ انسان تمباکو کے استعمال کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں، ماہرین
پاکستان کی مسلح افواج نے ایک بار پھر سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کرکے قوم کے دل جیت لئے ہیں ۔مسلح افواج مسلسل ریلیف آپریشن کا دائرہ کار بڑھاکر ملک بھر کے سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی کے کام کر رہی ہیں۔

ایسا پہلی بار نہیں ہورہا بلکہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہر مشکل وقت اور قدرتی آفات میں اپنی قوم کو مشکلات سے نجات دلانے کیلئے اپنے تمام وسائل استعمال کئے ہیں اور چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب ہو ‘ ہر حالات میں پاکستان کی مسلح افواج قوم کے شانہ بشانہ رہی ہے اور ہمیشہ ہر مشکل سے نکالنے میں مسلح افواج نے اپنے تمام وسائل استعمال کئے۔بشکریہ نوائے وقت

 

یہ بھی دیکھیں

جب انگریز راج میں خواتین نے نمک پر ٹیکس کے خلاف تحریک چلائی

(وقار مصطفیٰ) 31 دسمبر 1929 کی ٹھٹھرتی رات، لاہور میں راوی دریا کے مشرقی کنارے …