بدھ , 5 اکتوبر 2022

امت اسلامیہ کا ٹوٹ پھوٹ جانا آپسی گفتگو کے فقدان کا نتیجہ:خلیل ہمدان

خلیل ہمدان: امت اسلامیہ کا ٹوٹ پھوٹ جانا آپسی گفتگو کے فقدان کا نتیجہ ہے

امل موومنٹ کی قیادت کونسل کے رکن نے کہا: امت اسلامیہ کا ٹوٹ پھوٹ جانا آپسی گفتگو کے فقدان کا نتیجہ ہے اور نظریات کو ایک دوسرے کے قریب لانا چاہیے تاکہ معاشرہ دشمنوں اور دوستوں کی پہچان کر سکے اور ہر کوئی اپنی ذمہ داری کو پورا کر سکے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے مطابق تحریک امل کی قیادت کونسل کے رکن ڈاکٹر خلیل ہمدان نے اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے ساتویں اجلاس میں تقریر کے دوران کہا: یہ سیشن عقلیت، انصاف اور وقار کے محور کے عنوان سے ہے جس کو عالمی دین اسلام کی مضبوطی اور اسلامی اتحاد پر زور دیتے ہوئے نظریات کے تبادلے کے لیے چیلنجز سے نمٹنے کی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: "عقلیت کا مطلب یہ ہے کہ ترقی اور ناکامی کے عوامل کی نشاندہی کی جائے، کیونکہ دشمنوں کو ان کے پاس موجود سہولیات کو دیکھتے ہوئے شکست نہیں دی جا سکتی، جب تک کہ تمام قوتیں دشمنوں پر فتح حاصل کرنے کے لیے جمع نہ ہوں۔”

امل تحریک کی قیادت کونسل کے رکن نے مزید کہا: امت اسلامیہ کا ٹوٹ پھوٹ جانا آپسی گفتگو کے فقدان کا نتیجہ ہے اور نظریات کو ایک دوسرے کے قریب لانا چاہیے تاکہ معاشرہ دشمن اور دوست کی پہچان کر سکے اور ہر کوئی اپنی ذمہ داری پورا کر سکے۔

ہمدان نے مکتب اہل بیت(ع) کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: عقلیت کے دور میں مکتب اہل بیت(ع) کی طرف لوٹنا عقل اور عقلیت کی معنیٰ کا ادراک ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ہم دوہرے معیارات کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ انصاف سے اس کی سچائی چھین لی گئی ہے اور وہ اپنے نعروں کو فروغ دیتے ہیں جب تک آپ ان جیسا سوچتے ہیں، اور جب تک آپ ایسے ہیں، آپ آزاد ہیں، یقیناً شرط یہ ہے کہ آپ اپنے اقدار سے دور ہو جائیں اور ایسی اصطلاحات استعمال کریں جو بیرونی سطح پر آزادی کا مطالبہ کرتی ہیں اور اندر سے آزادی اور آزادی کے متلاشیوں کو کچلتی ہیں۔

امل تحریک کی قیادت کونسل کے رکن نے مزید کہا: وہ دہشت گردی سے لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں اور 80 سے زائد قومیتوں کے حامل ہزاروں دہشت گردوں کو بحفاظت سرحدوں سے گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور عراق اور شام کے استحکام کا خاتمہ کر کے لبنان، ایران اور یمن کے لیے بھی منصوبہ بندی کرتے ہیں تاکہ صہیونی حکومت کی خدمت کے لیے مستضعفین کے محاذ کر کمزور کر سکیں۔

ہمدان نے تفرقہ کے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہمارے معاشروں میں تفرقے کا خطرہ اب بھی موجود ہے تاکہ وہ تمامتر تقری جو اب تک ہوئی ہے اسے ختم کر سکیں، ہم عراقی عوام سے کہتے ہیں کہ وہ بحران کو بڑھاوا دینا چھوڑ دیں، جو کہ ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: امام خامنہ ای کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ ایک نمونہ ہے کہ ایک ملک عالمی اور علاقائی چیلنجوں کے باوجود، اپنی سلامتی کے ساحل تک پہچنے میں کامیاب ہوا ہے۔

تحریک امل کی قیادت کونسل کے رکن نے مزید کہا: عقلیت، انصاف اور وقار کے عناوین اہل بیت علیہم السلام کے طرز عمل کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں اور دین اسلام نے دین کو سمجھنے کے لیے عقل پر انحصار کرنے پر زور دیا ہے۔ عدالت حکومت کی بنیاد ہے، وقار بھی انسان کو پاکیزہ بناتا ہے اور عزت، آزادی اور دیگر انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو وقار کے میدان میں یکساں طور پر پیدا کیا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

خاشقجی قتل کیس میں ولی عہد کو استثنیٰ حاصل ہے:وکیل محمد بن سلمان

ریاض:سعودی حکومت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وکلاء، جنہیں 2018 میں صحافی …