منگل , 27 ستمبر 2022

یمن پر جارحیت میں اسرائیل کا کردار سامنے آ گیا

دمشق:دمشق میں تعینات یمنی سفیرکا کا کہنا ہے کہ یمن پر جارحیت کی وجہ تحریک انصار اللہ کی طاقت سے تل ابیب کا خوف ہے۔

فارس خبررساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو میں شام میں یمن کے سفیر نے یمن کے خلاف جارحیت کو صیہونی حکومت کی خدمت میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جارحیت کی وجہ تحریک انصار اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت سے تل ابیب کا خوف ہے۔

شام میں یمن کے سفیر "عبداللہ علی صبری” نے عرب ممالک کے حکمرانوں کو فلسطین اور لبنان میں مزاحمت کی فتح کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی نصیحت کی اور واضح کیا کہ یمن کے خلاف جارحیت صیہونی حکومت کی خدمت کے لئے ہے کیونکہ صیہونی حکومت نے تحریک انصاراللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محسوس کر لیا ہے۔

فارس کے نامہ نگار کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے علاقے میں مزاحمت کے محور کی پوزیشن کے بارے میں کہا کہ عرب حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ فلسطین اور لبنان میں مزاحمت کی فتح کے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے لیے بین الاقوامی حمایت کو تقویت دینے میں مصروف عمل ہو جائیں لیکن وہ اس کے برعکس کر رہے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، وہ مزاحمت اور اس کی افادیت پر شک کرنے، مزاحمت کے محوراور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان اتحاد کو چیلنج کرنے کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔

دمشق میں تعینات یمنی سفیر نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ کس طرح عرب لیگ نے شام پر پابندیاں عائد کی تھیں کیونکہ یہ واحد عرب ملک تھا جو مزاحمت پر کاربند رہا۔

عبد اللہ علی صبری نے مزید کہا کہ اسرائیل نے انصار اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کا خطرہ محسوس کر لیا ہے، تحریک انصار اللہ ایک ایسی تحریک جس نے صیہونی حکومت کی مخالفت اور مزاحمت کی حمایت میں اپنے واضح موقف کا اعلان کیا ہے۔

اس یمنی سفارت کار نے عرب نظاموں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بنا پر سرکاری عرب نظام صیہونی – امریکی ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش کرتے ہوئے، اس شخص کی طرح ظاہر ہو رہا ہے جو اپنے پی پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے جبکہ صحیح فہم رکھنے والوں کے لیے بہت سے اختیارات موجود ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع

واشنگٹں:امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع ہوگئی ہیں۔جنوبی کوریا کی بحریہ نے …