منگل , 27 ستمبر 2022

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر ۔۔۔۔۔۔! ؛ سیلاب متاثرین کی مدد کیجیے

(وردہ صدیقی)

دنیا مومن کے لیے قید خانہ، مصائب اور مُشکلات کا گھر ہے، اس دنیا سے جانے کے بعد جنّت اس کی اصل قیام گاہ ہے، جنّت میں وہ جو خواہش، تمنّا اور آرزو کرے گا اﷲ رب العزت اسے فوراً پورا فرما دیں گے۔

وطن عزیز میں سیلاب کی خطرناک صورت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مختلف صوبوں کے کئی اضلاع زیر آب آچکے ہیں، بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہیں، کھیتیاں برباد ہوچکی ہیں، رشتے دار بکھر چکے ہیں، کاروباری مراکز ڈوب گئے ہیں، راستے مسدود ہیں، بھوک و افلاس سے متاثرین پریشان حال ہیں، بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں۔ ان کے لیے ہر نیا دن اپنے ساتھ مزید پریشانیوں کو لا رہا ہے۔

چہار عالم خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ موجودہ اور آئندہ کے خدشات و تفکرات نے ہر طرف سے انہیں لپیٹ رکھا ہے۔ لیکن مومن تو جسم واحد کی طرح ہیں، جب ان کے کسی بھائی کو تکلیف پہنچتی ہے تو انہیں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے پورا پاکستان سوگوار ہے اور اپنے متاثرہ خاندانوں کی بڑھ چڑھ کر خدمت کررہا ہے۔ عوام ان تک کھانے پینے اوڑھنے پہننے اور رہنے کا سامان پہنچا رہے ہیں۔ جس سے جتنا بن پارہا ہے اس نیکی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

سیلاب، آزمائش، عذاب یا رحمت

مومن کو اس دنیا میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے حتی کہ اگر ایک کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ تکلیف اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہے اور اس پر اجر و ثواب سے بھی نوازا جاتا ہے، گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مفہوم: ’’مسلمان جب بھی کسی تھکاوٹ، بیماری، فکر، رنج و ملال، تکلیف اور غم سے دوچار ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اﷲ تعالی اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری)

یہ تکالیف و مصائب اﷲ کے مومن بندوں کے لیے آزمائش ہوتی ہیں۔ اﷲ رب العزت فرماتے ہیں کہ میں تمہیں مختلف انداز سے آزماؤں گا اور گناہ گاروں پر اﷲ کا غضب و سزا ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی غفلت بھری زندگی سے جاگ جائیں اور اپنے خالق کو پہچان کر اس کی مان کر چلیں۔

یہ تکالیف و مصائب باعث رحمت بھی ہیں۔ جو لوگ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں اور اپنے حالات پر اﷲ تعالیٰ سے شکوہ کناں ہونے کے بہ جائے صبر و شکر کی تسبیح پڑھ رہے ہیں۔ ان کے لیے رحمت کا باعث بنتے ہیں آخرت میں اجر و ثواب اور درجات کی بلندی کا سبب بنتے ہیں۔

حکام کو کوسنا عام ہے اور ان کی کوتاہی پر انہیں ملامت کیا جا رہا ہے، یہ بات ایک حد تک درست ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم بہ حیثیت انسان و مسلمان اپنے سیلاب زدہ متاثرین کے لیے کیا کررہے ہیں ؟ دوسروں کی نالائقیوں کو گنوانے کے بہ جائے کیا ہم نے خود سے کبھی یہ سوال کیا ہے کہ ہم اپنے فرائض و ذمے داریوں کو کتنا ادا کررہے ہیں۔

آپ جب کھانا کھانے بیٹھیں تو نوالا منہ میں ڈالنے سے پہلے لازمی ان بھائی، بیٹوں، بزرگوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور معصوم بچوں کا سوچیے گا کہ ان کی طرف بھی کھانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ سامنے سیلابی پانی تو ہے مگر پینے کے قابل نہیں، چاروں طرف کیچڑ ہے، گندے کپڑے، پراگندہ بال، مٹی سے اٹے چہرے، سر چھپانے کو چھت بھی نہیں، وہ بے آسرا بے یار و مدد گار بھوک سے نڈھال کسی خیر خواہ کے منتظر بیٹھے ہیں۔

بچے بھوک پیاس کے مارے بلک رہے ہیں۔ سر پر چھت نہ ہونے اور مسلسل بارشوں کے باعث ننھے پھول اپنے ہی اجڑے ہوئے گلشن میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ سیلابی پانی بچہ دیکھتا ہے نہ بوڑھا، لپیٹ میں آئے ہر مرد و زن کو بہا لے جاتا ہے۔ کئی ماؤں کے لعل ان کی آنکھوں کے سامنے ڈوب گئے تو کسی کے والدین۔ بیوی کو معلوم نہیں کہ اس کا شوہر کہاں ہے۔ بھائی نہیں جانتا کہ بہنیں اگر زندہ ہیں تو کہاں کس حال میں ہیں۔ مکان و مکین دونوں اجڑ گئے۔

ایک لمحے خود کو ان کی جگہ رکھ کر سوچیں! آپ کے حلق سے نوالہ نہیں اترے گا۔ دن کا چین اور رات کا سکون ختم ہوجائے گا۔ نیند روٹھ جائے گی۔ اگر ہم آج محفوظ ہیں تو خدارا! رب کا شکر بجا لائیے کہ اس پروردگار نے آپ کو آزمائش سے بچایا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو آزمایا بھی ہے کہ آیا میرے بندے اب بھی غفلت کی چادر اوڑھے سوتے رہیں گے یا عبرت حاصل کرکے اپنی اصلاح کریں گے۔

اپنی رنگین دنیا میں مست رہتے ہیں یا ان مصیبت زدہ لوگوں کے درد کو سمجھ کر ان کی مدد کرتے ہیں۔ اپنی حیثیت کے بہ قدر امداد میں اپنا حصہ ڈالیے۔ اپنی جمع پونچی میں سے کچھ حصہ اپنے متاثرین بہن بھائیوں کے لیے مختص کر دیجیے۔ اور جو بہنیں آج تک اپنی زیورات کی زکوۃ ادا کرنے میں سستی کا شکار رہی ہیں ان سے گزارش ہے کہ یہ بہترین موقع ہے اپنی زکوۃ، خیرات، عطیات کے ذریعے متاثرین کی امداد کیجیے۔ تاکہ انہیں سر چھپانے کو چھت، اوڑھنے کو کپڑا اور کھانے کو راشن مل سکے۔

مت بھولیں! بُرے اور مشکل حالات سب پر آتے ہیں اگر ہم اﷲ کے فضل سے بچے ہوئے ہیں تو یہ ہمارا کمال نہیں ہے۔ شُکر کیجیے! کہ اﷲ نے ہمارا انتخاب امداد کرنے والوں میں کیا ہے نا کہ امداد لینے والوں میں۔ اﷲ تعالی فرماتے ہیں، مفہوم: ’’اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو۔‘‘

جس ادارے پر آپ کا اعتماد ہے اس ادارے کے ذریعے اپنی رقوم، راشن اور دیگر ضروریات زندگی کا سامان وغیرہ سیلاب زدگان کو بھجوائیے۔ لیکن جس ادارے کو بھی آپ امدادی سامان یا رقوم بھیج رہے ہیں ایک بار ان کے بارے میں تسلی ضرور کرلیجیے۔

ان کا عملی کام لازمی دیکھ لیں۔ درد دل رکھنے والے اداروں کو اپنا حصہ دیجیے جو راستے کی مشکلات سے بے جگری سے لڑتے ہوئے اصل مستحقین تک آپ کی امانتیں پہنچائیں، نا کہ کھٹن راہوں کو دیکھ کر غیر مستحق افراد کو ہی تقسیم کرکے واپس آجائیں۔

تاجر برادری سے خصوصی درخواست

امدادی سرگرمیوں میں سرگرم حضرات کی جانب سے جا بہ جا یہ شکوہ سننے کو مل رہا ہے کہ مارکیٹ میں اشیائے ضرورت کی قلت ہوگئی ہے۔ اشیائے ضرورت کی ذخیرہ اندوزی سے پرہیز کیجیے، بارہا کوشش کے باوجود امدادی سامان ملنا مشکل ہورہا ہے اور جہاں اشیاء میسر ہیں وہ تاجر حضرات دگنی تگنی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ دھوکا دہی سے بچیے کہ آٹے کے تھیلے میں آدھا آٹا اور آدھا پھوک ملایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ بھی کئی شکایات ہیں۔ تاجر برادری سے درخواست ہے کہ بہ راہ کرم یہ وقت دنیاوی کاروبار کا نہیں بل کہ اخروی کاروبار کا وقت ہے۔ اﷲ کے ساتھ کاروبار کرنے کا وقت ہے جو ایک نیکی پر دس گنا منافع سے نوازے گا۔

اﷲ تعالی کے فرمان عظیم کا مفہوم ہے کہ جو لوگ اپنا مال اﷲ تعالی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اﷲ تعالی جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اﷲ تعالی کشادگی والا اور علم والا ہے۔

لہذا ذخیرہ اندوزی سے پرہیز کیجیے، مال ذخیرہ کرنے کے بہ جائے پیش کیجیے، ناپ تول میں کمی نہ کیجیے۔ جس چیز کا جتنا آرڈر دیا جائے مکمل بھیجیے اس میں ڈنڈی مت ماریے۔ اشیاء کی قیمت کو بڑھا چڑھا کر بیچنے کے بہ جائے اپنی اصل قیمت پر فروخت کیجیے۔ معیاری اور صاف ستھری اشیا متاثرین تک پہنچانے میں مدد کیجیے۔ آپ کا یہ عمل بھی بہت اجر رکھتا ہے۔ اﷲ کے ہاں آپ کو اخلاص و ایمان داری پر بھر پور اجر عظیم ملے گا۔

آخر میں سیلاب زدگان سے کہنا ہے کہ وہ حوصلہ رکھیں، آپ کے دکھ، درد و تکالیف کا دنیا میں کوئی بدل نہیں ہوسکتا، آپ کے بچھڑے رشتے کوئی آپ کو واپس لا کر نہیں دے سکتا، اﷲ تعالی انہیں جنّت کی نعمتوں سے نوازے گا لیکن ہم بہ حیثیت قوم اپنی ذمے داری پوری کریں گے ان شاء اﷲ۔ آپ تک راشن اور دیگر سامان پہنچائیں گے، ان شاء اﷲ جلد آپ اپنے گھروں میں ہوں گے اور دوبارہ سے زندگی کی خوشیاں سمیٹیں گے۔

بس آپ نے حوصلہ رکھنا ہے۔ یہ جان تو ویسے بھی ایک دن جانی ہی تھی اور پیسہ، گھر، اولاد سب چھوڑ کر انسان کو اﷲ کے حضور پیش ہونا ہی تھا۔ مگر اس تکلیف کے بعد اب آپ اﷲ کے خاص بندے بن چکے ہیں لہذا صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیجیے گا۔

دنیا میں کڑی آزمائشوں سے آپ گزرے ہیں اس پر اﷲ تعالی نے جو بلند درجات عطا فرمائے ہیں قیامت کے دن جب آپ کو ملیں گے تو لوگ دیکھ کر ارمان کریں گے، اش اش کر اٹھیں گے۔ لہذا مایوس نہیں ہونا کیوں کہ یہ دنیا تو مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے ہمارا اصل گھر تو جنت ہے جہاں آپ کا بلند و بالا مقام اﷲ نے تیار کررکھا ہے۔

ﷲ تعالیٰ ہر قسم کی آزمائشوں کی حفاظت فرمائے ، بے گھر خاندانوں گھر نصیب فرمائے اور مصیبت کی اس گھڑی میں صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

توانائی بحران کے خدشات

(زمرد نقوی) کہا جا رہا ہے کہ موجودہ یورپ کا توانائی بحران جو 52 برس …