پیر , 26 ستمبر 2022

بھارت اور چین نے لداخ سے فوجیوں کی واپسی شروع کردی

نئی دہلی:بھارتی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ بھارت اور چین نے اپنی سرحدوں سے فوجیوں کو واپس بلانا شروع کردیا ہے۔

نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سرحدوں پر سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کشیدگی کے 2 سال بعد سامنے آیا ہے جب کہ اس دوران دونوں ممالک فوجوں کے دوران مختلف اوقات میں ہونے والی ہلاکت خیز جھڑپیں بھی ہوتی رہیں جن میں دونوں ممالک کے کئی فوجی ہلاک ہوئے۔

بھارتی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح کے فوجی مذاکرات کے 16 ویں دور کے دوران گوگرہ ہاٹ اسپرنگس کے علاقے سے فوجیوں کا انخلا شروع کرنے پر اتفاق کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام، لداخ میں دونوں ممالک کے درمیان آباد سرحدی علاقوں میں امن و سکون کے لیے ضروری اور مفید ہوگا۔

بیجنگ نے فوری طور پر اس معاملے اور خبر کوئی رد عمل جاری نہیں کیا جب کہ بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے یہ بیان ایک مشترکہ اعلامیے کے طور پر جاری کیا گیا ہے۔

دونوں ممالک نے متنازع علاقے لداخ کے علاقے میں 2020 میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد قرون وسطی کے دور میں لڑی جانے والی لڑائیوں کی طرز پر، بغیر کسی ہھتیار کے، صرف ہاتھوں سے لڑائی کے فیصلے کے بعد کئی ہزار فوجیوں کو سرحدوں کے اطراف تعینات کیا تھا۔

دونوں بڑے ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات شدید کشیدہ ہوگئے جب کہ یہ ممالک 1962 میں ایک مکمل جنگ لڑ چکے ہیں، ان ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعات کا سلسلہ لداخ سے اروناچل پردیش تک پھیلا ہوا ہے۔

بیجنگ ان علاقوں کو اپنی ریاست کا حصہ سمجھتا ہے اور اسے تبت کا حصہ قرار دیتے ہوئے ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

دونوں ممالک باقاعدگی سے ایک دوسرے پر علاقے پر قبضہ کرنے کی کوششوں کا الزام لگاتے رہے ہیں جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کہا جاتا ہے۔

گزشتہ سال، دونوں ممالک نے لداخ میں متنازع سرحد پر واقع پینگونگ جھیل کے علاقے سے اپنے فوجیوں کو اسی طرح سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا لیکن کشیدگی والے دیگر مقامات پر بدستور فوجیں تعینات ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ کے لیے ترکیہ سب سے اہم ممالک میں سر فہرست ہے: ترک وزیر خارجہ

نیویارک:وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا کہ جب امریکہ کی ترجیحات پر غور کیا …