اتوار , 25 ستمبر 2022

القاعدہ کے نئے سربراہ کے لیے امیدواروں کی فہرست

کابل:افغانستان میں ایک مبینہ امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی جانشینی کا معاملہ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی طے نہ ہوسکا۔

افغانستان میں ایک مبینہ امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی جانشینی کا معاملہ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی طے نہیں ہوسکا۔ تحقیق کے مطابق اس کی ایک وجہ ممکنہ امیدواروں کی فہرست بڑھ جانا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ القاعدہ کی قیادت کے امیدواروں کی دوڑ میں ابو عبیدہ یوسف العنابی، خالد باطرفی اور عمر احمد دیری، سیف العدل اور عبدالرحمٰن المغربی شامل ہوچکے ہیں۔

بنیاد پرست تحریکوں کے امور کے ماہر مصری محقق احمد زغلول کے مطابق اب تنظیم (القاعدہ) کی زوال کی شکار ہو رہی ہے اور یہ صورت حال نئے رہنما کے امتحان کے طور پر سامنے آئی ہے کیونکہ نئے امیر کے انتخاب کے بارے میں اندرونی اختلافات ہیں۔

القاعدہ کی قیادت سنبھالنے کی دوڑ میں کون کون ہے؟

سیف العدل

ایمن الظواہری کی جگہ لینے کے لیے سب سے زیادہ پرامید محمد صلاح زیدان ہیں جن کا ایک نام ’سیف العدل‘ ہے۔

تقریباً 60 سال عمر کے ساتھ وہ اپنے عسکری تجربے کی بدولت بین الاقوامی شدت پسند تنظیم کے ایک تجربہ کار رہنما ہیں۔

امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے ان کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کے اعلان کے ساتھ دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں سے ایک قرار دے رکھا ہے۔

ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ اور انسداد دہشت گردی کے ماہر علی صوفان نے لکھا کہ سیف العدل کی زندگی کی کہانی – یا اس کے بارے میں جو کچھ معلوم ہے ایک ’جہادی ناول‘ لگتا ہے۔

صوفان بتاتے ہیں کہ سیف العدل نے اپنی جوانی سے ہی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اپنی موت کا دھوکہ دیا اور انہیں مکمل یقین دلایا کہ وہ کوئی اور ہیں۔

صوفان کے مطابق صرف تین تصویریں معلوم ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ سیف العدل کی اصلی شکل کیسی ہے۔

پتلے چہرے والے اس شخص کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا اصل نام محمد صلاح زیدان ہے۔

وہ 1989 میں افغانستان چلے گئے، القاعدہ میں شامل ہوئے اور اپنے سابق تجربات کی روشنی میں تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے کئی تنظیموں کے قیام میں حصہ لیا۔ تنظیم کی علاقائی شاخیں، خاص طور پر ہارن آف افریقہ میں وہ سرگرم رہے۔

سیف العدل نے مبینہ طور پر مصری فوج کے ایک خصوصی یونٹ میں شمولیت کے دوران دھماکہ خیز مواد اور انٹیلی جنس سرگرمیوں سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کیا تھا۔

ان پر شبہ ہے کہ انہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر میں سوویت قبضے کے خلاف لڑنے کے لیے افغانستان کا سفر کیا۔ اسی وقت پاکستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں القاعدہ کا قیام عمل میں آیا۔

یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے ماہر اسفندیار میر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں یہ دور ’بہت مبہم‘ ہے۔

جلد ہی سیف العدل اسامہ بن لادن کے بعد تنظیم کی قیادت میں اوپر کے نمبر پر آ گئے اور افغان کیمپ میں تربیت کی قیادت کی۔

اس کے علاوہ انہوں نے سوڈان اور صومالیہ میں دوسرے کیمپ قائم کیے اور یمن میں القاعدہ کی جزیرہ نما عرب کی شاخ کی بنیاد رکھی۔

بن لادن کا راز داں

کہا جاتا ہے کہ اسامہ بن لادن جنھیں 2011 میں پاکستان میں امریکی سپیشل فورسز کے ایک یونٹ کے ہاتھوں ہلاک کیا گیا تھا، سیف العدل سے زیادہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ماسٹر پلانر کے طور پر سیف العدل نے القاعدہ کے دو بڑے حملوں میں مبینہ طور پر حصہ لیا۔

پہلا مشرقی افریقہ میں دو امریکی سفارت خانوں پر حملے، جہاں 1998 کے حملے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور دوسرا امریکی بحری بیڑے ’کول‘ پر 2000 میں حملہ، جس میں 17 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔

11 ستمبر، 2001 کے حملوں اور امریکی افواج کے افغانستان پر حملے کے بعد سیف العدل نے قندھار کے دفاع کی کمان سنبھالی۔

صوفان نے لکھا کہ ’وہ (سیف العدل) ایک انتہائی لچک دار اور وسائل رکھنے والے فوجی رہنما ثابت ہوئے۔‘

سیف العدل اس کے بعد ایران فرار ہو گئے جہاں 2010 میں قیدیوں کے تبادلے میں رہا ہونے سے قبل انہوں نے اگلی دہائی کا بیشتر حصہ تہران میں گھر پر نظربندی میں گزارا۔

انسداد القاعدہ کے ماہرین کے اقوام متحدہ کے پینل کے سربراہ ایڈمنڈ فٹن براؤن کے مطابق امکان ہے کہ مراکش سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمن المغربی بھی ایران میں مقیم ہوں۔

القاعدہ کو فی الحال ISIS سے کم خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات گذشتہ جولائی میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ میں بھی کہی تھی۔

’[القاعدہ] کو افغانستان میں اس کی پناہ گاہ سے براہ راست بین الاقوامی خطرہ کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تنظیم کے افغانستان سے باہر حملوں کا خدشہ نہیں۔یہ تنظیم طالبان کے لیے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتی جو اس وقت ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ گروپ کا حتمی ہدف ایک بار پھر ’عالمی جہاد کے رہ نما کے طور پر دیکھا جانا ہے۔‘

یہ ہدف سیف العدل نامی رہ نما کی قیادت میں حاصل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ پہلے ایران کو چھوڑ دیں یا اسے چلا سکیں۔

ابو عبیدہ یوسف العنبی

امریکی حکومت کی ویب سائٹ پر جاری ابو عبیدہ یوسف العنبی کی تصویر(یو ایس)

امریکی حکومت ابو عبیدہ یوسف العنبی کے، جنہیں ابو عبیدہ یوسف العنبی اور یزید مبارک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے سات ملین ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کر رہی ہے۔العنبی تنظیم اسلامک مغرب میں القاعدہ (اے قیو آئی ایم) کے رہنما ہیں۔

اے قیو آئی ایم نے نومبر 2020 میں العنبی کو گروپ کے نئے رہنما کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

العنبی نے اے قیو آئی ایم کی جانب سے القاعدہ (اے قیو) کے رہنما ایمن الظواہری سے وفاداری کا عہد کیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اے قیو کے عالمی نظم و نسق میں اہم کردار ادا کریں گے۔

العنبی، الجزائر کے شہری ہیں۔ وہ اس سے قبل اے قیو آئی ایم کی کونسل آف نوٹ ایبل کے رہنما تھے اور اے قیو آئی ایم کی شوریٰ کونسل میں خدمات انجام دیتے تھے۔ العنبی پہلے اے قیو آئی ایم کے میڈیا چیف بھی تھے۔

ستمبر 2015 کو امریکی محکمہ خارجہ نے ترمیم شدہ ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق العنبی کو خصوصی طور پر عالمی دہشت گرد کے طور پر نامزد کیا۔

اس کے نتیجے میں، دیگر نتائج کے ساتھ ساتھ، العنبی کی تمام جائیداد اور مفادات جو کہ امریکی دائرہ اختیار کے تابع ہیں، مسدود کر دیے گئے اور امریکی شہریوں کو العنبی کے ساتھ کسی بھی لین دین میں ملوث ہونے سے منع کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ امریکی نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم، اے قیو آئی ایم کی جان بوجھ کر مادی مدد یا وسائل فراہم کرنا یا اس کی کوشش کرنا یا اس کی سازش کرنا جرم ہے۔

العنبی کو 29 فروری، 2016 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 (یو این سی ایس آر 1267) کے تحت پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس سے ان کے بین الاقوامی اثاثے منجمد، سفری اور ہتھیاروں کے حصول پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

نومبر 2020 میں القاعدہ تنظیم کے ذیلی گروپ ’بلاد المغرب الاسلامی‘ نے اپنے مقتول سربراہ عبدالمالک دروکدال کی جگہ ابو عبیدہ یوسف العنبی کو نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

الجزائر سے تعلق رکھنے والے دروکدال رواں سال جون میں مالی میں فرانسیسی مسلح افواج کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔

شدت پسند تنظیموں کے امور کی نگرانی کرنے والی امریکی ویب سائٹ ’سائٹ‘ کے مطابق بلاد المغرب الاسلامی میں القاعدہ تنظیم کے نئے سربراہ کا تقرر تنظیم کی جانب سے جاری ایک ویڈیو ٹیپ میں سامنے آیا۔

امریکہ میں ادارے کاؤنٹر ایکسٹریمز پراجیکٹ کے مطابق گروپ کے نئے سربراہ العنابی الجزائر کی جماعہ سلفیہ برائے دعوت و قتال کے سابق رکن رہ چکے ہیں۔

وہ ستمبر 2015 سے ’بین الاقوامی دہشت گردوں‘ سے متعلق امریکی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔

العنبی بلاد المغرب تنظیم میں میڈیا ونگ کا ذمے دار بھی تھے۔ وہ تنظیم کی جانب سے جاری ویڈیو کلپوں میں باقاعدگی سے سامنے آرے رہے ہیں۔

کون کون سے نام
ان کے مختلف طریقوں سے لکھے جانے والے ناموں میں یوسف ابو عبیدہ الانبی، ابو عبیدہ یوسف العنبی، ابو عبیدہ یوسف العنبی، میبرک یزید، یوسف ابو عبیدہ، مبرک یزید، یوسف ابو عبیدہ یزید، یزید میبرک، یزید مبرک، یوسف ابو عبیدہ، ابویوسف، یزید مبارک، ابو عبیدہ اور یوسف ابو یوسف شامل ہیں۔

خالد سعید بطرافی
خالد جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے عسکری گروپ کے رہنما ہیں۔اقوام متحدہ کے انتہا پسند گروپوں سے متعلق امور کے ماہرین نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا کہ انہیں اکتوبر 2020 میں یمن کے صوبے المھرہ میں ایک مسلح آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق خالد بطرفی عرف ’ابو مقداد الکندی‘ کے ایک معاون سعد عاطف العولقی کو بھی گرفتار کیا گیا۔

اگرچہ اس رپورٹ میں اس آپریشن کی تفصیلات اور انتظامی افسران کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں لیکن یمنی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی صوبہ المھرہ میں مقیم سعودی عرب کی افواج نے کی تھی۔

خالد بطرافی اس گروپ کے سربراہ بن گئے تھے جب جنوری 2020 میں امریکہ کی جانب سے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے سربراہ قاسم الریمی کو ڈرون کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2015 میں خالد بطرافی یمن کے صوبہ حضرموت کی ایک جیل پر حملے کے دوران تقریباً 300 افراد کے ساتھ فرار ہو گئے تھے۔

45 سالہ خالد بطرافی جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے اہم ارکان اور یمن میں القاعدہ سے منسلک میڈیا کے عہدے داروں میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے 2011 میں یمن کے سابق صدر کے خلاف عوامی احتجاج کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کو بھرتی کیا۔انہوں نے اسی سال ابین یمن صوبے میں القاعدہ کی افواج کی کمان سنبھالی تھی۔

وہ خطے میں القاعدہ کے تعلقات عامہ کے ذمہ دار تھے اور قاسم الریمی کے زمانے میں اس گروہ کے ترجمان تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے خالد بطرافی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے پانچ ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ’انصاف کے لیے انعام‘ پروگرام سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ ’بطرفی یمن کے صوبہ حضرموت میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے ایک اہم رکن ہیں۔’وہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی مشاورتی کونسل کے سابق رکن بھی ہیں۔‘

عمر احمد دیری

ستمبر کے اوائل میں جنوبی صومالیہ میں امریکی حملے میں اپنے سابق رہنما احمد گوڈانے کی ہلاکت کے بعد، صومالی عسکریت پسند گروپ الشباب نے عمر احمد دیری کو اپنا نیا رہنما منتخب کیا۔

اناطولیہ سے بات کرنے والے تحریک کے قریبی ایک کارکن کے مطابق عمر احمد دیری نامی یہ رہنما 40 سال کے ہیں اور ان کی عرفیت ابو عبیدہ ہے۔

وہ ایتھوپیا کے زیر قبضہ صومالی سرزمین کے اندر قلفی شہر میں پیدا ہوئے تھے۔

اپنے پیشرو کی طرح ابو عبیدہ میڈیا سے دور رہتے ہیں اور تحریک کے جنگجوؤں میں بھی آنا پسند نہیں کرتے۔

امریکہ نے 2008 میں الشباب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

عبدالرحمن المغربی

امریکہ محمد عباطے کے، جو عبدالرحمن المغربی کے نام سے مشہور ہیں، بارے میں معلومات فراہم کرنے کے بدلے سات ملین ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کر رہا ہے۔

المغربی ایران میں مقیم القاعدہ کے ایک اہم رہنما بتائے جاتے ہیں۔ وہ اقاعدہ کے میڈیا بازو الصحاب کے طویل عرصے سے ڈائریکٹر ہیں اور مرحوم رہنما ایمن الظواہری کے داماد اور سینیئر مشیر تھے۔

القاعدہ کے ایبٹ آباد میں ہلاک ہونے والے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف 2011 کے فوجی آپریشن کے دوران برآمد ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ المغربی کئی سالوں سے تنظیم میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ رہے ہیں۔

المغربی 2012 سے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کے عمومی منتظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے کئی سالوں کے دباؤ کے بعد، وہ ایران منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے دنیا بھر میں القاعدہ کی سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھی۔

تنظیم کی بیرونی مواصلات کے دفتر کے سربراہ کے طور پر المغربی القاعدہ سے منسلک افراد کے درمیان رابطے کا کام بھی کرتے ہیں۔

12 جنوری، 2021 میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترمیم شدہ ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق المغربی کو خصوصی طور پر عالمی دہشت گرد کے طور پر نامزد کیا گیا۔

القاعدہ آج اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہے جو 20 سال پہلے 11 ستمبر کے حملوں کے وقت تھی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ’داعش‘ جیسی تنظیم کے پاس یورپ میں حملے کرنے کے لیے صرف محدود وسائل ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی اجازت کس نے دی؟ جسٹس فائز عیسیٰ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ جو …