جمعرات , 6 اکتوبر 2022

کیا سیلاب زدہ پاکستان کے قرضے معاف ہو سکتے ہیں؟

(سجاد اظہر)

بلوچستان کے ضلع جعفر آباد کے علاقے ڈیرہ اللہ یار میں آٹھ ستمبر، 2022 کو لی گئی اس تصویر میں ایک بے گھر سیلاب زدہ خاندان کی عارضی پناہ گاہ نظر آ رہی ہے(اے ایف پی)

فضائی آلودگی کے بڑھاوے میں پاکستان کا کردار ایک فیصد ہے مگر اس کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے جو ممالک شدید متاثر ہیں ان میں پاکستان کا نمبر پانچواں ہے جو حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد شاید مزید اوپر چلا جائے۔

2010 کے سیلاب میں جو نقصان پاکستانی معیشت کو ہوا اس کا تخمینہ 10 ارب ڈالر تھا اور حالیہ سیلاب میں اس سے بھی زیادہ نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو سالانہ 14 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

گویا پچھلے 20 سالوں کا حساب لگایا جائے تو پاکستان کو 280 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک دونوں اپنی رپورٹوں میں کہہ چکے ہیں کہ اگلے 20 سالوں میں پاکستان کے درجہ حرارت میں اڑھائی درجے سیلسیس کا اضافہ ہو جائے گا جس سے پاکستان کی زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہو گی۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت سے اس کی 40 فیصد لیبر وابستہ ہے۔ اس کی آبادی بھی 22 کروڑ سے زیادہ ہے اگر اتنی بڑی آبادی والے ملک میں غذائی بحران پیدا ہو جائے تو شاید آنے والے سالوں میں یہاں افلاس سے جتنے لوگ مریں گے اتنے آج تک پورے افریقہ میں نہیں مرے ہوں گے۔

گویا پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اس سال بھی گندم کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجہ مارچ اور اپریل میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ تھا جس کی وجہ سے گندم کا دانہ چھوٹا رہ گیا اور کم وزن پر ہی پک گیا۔

پاکستان میں اپریل میں درجہ حرارت گذشتہ 62 سالوں میں سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ بھارت میں اس نے 122 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔

درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے خلیج بنگال اور ملحقہ سمندروں میں بادل بننے کا عمل معمول سے زیادہ ہوا جو پاکستان، چین اور بنگلہ دیش میں تباہ کن بارشوں کی وجہ بنا۔

جنوبی ایشیا اور چین کی آبادی ملائی جائے تو گویا دنیا کا ہر دوسرا فرد ان ممالک میں رہتا ہے جن کی زندگیاں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے داؤ پر لگ چکی ہیں۔ اگر ان ممالک میں غزائی بحران پیدا ہوگا تو اس کی لپیٹ میں پوری دنیا آئے گی۔

کرونا وبا کے دوران پہلے ہی پاکستان میں غربت 22 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد ہو چکی ہے جس میں حالیہ سیلاب مزید اضافہ کرے گا اور شاید پاکستان کا ہر دوسرا بندہ خط غربت سے نیچے چلا جائے۔

اس صورت حال میں جہاں ایک طرف سماجی ابتری خطرناک حد تک بڑھ جائے گی وہاں معاشی بحران میں پھنسی ہوئی حکومتوں کا دائرہ کار بھی محدود ہو جائے گا جس کا مطلب غیر ریاستی عناصر کے اثرورسوخ میں اضافے کی صورت میں نکلے گا جو پاکستان جیسے کثیر آبادی والے ملک کو افغانستان جیسی صورت حال سے دوچار کر دیں گے۔

اس سے وسطیٰ ایشیا ہی نہیں پوری دنیا متاثر ہو گی۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلیوں کو پاکستان میں ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس کا تعلق محض ایک ملک، علاقے یا قوم سے نہیں بلکہ اس سے کسی حد تک پوری دنیا جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے دنیا کو پاکستان کی مدد کے لیے آگے آنا ہو گا۔

بالخصوص پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں کو یا تو معاف کیا جائے یا ان کی ادائیگیاں مؤخر کی جائیں تاکہ ان پیسوں سے پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا زرعی اور معاشی ڈھانچہ بنا سکے۔

اس بات کا کتنا امکان ہو سکتا ہے اور اس کے لیے پاکستان کو کیا کرنا ہو گا اس حوالے سے انڈیپنڈنٹ اردو نے مختلف ماہرین کا نقطہ نظر معلوم کیا کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔

معروف ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے بتایا کہ ابھی تک دنیا میں کسی ملک کا قرضہ اس بنیاد پر معاف نہیں کیا گیا، نہ ان کی پالیسی میں ایسی کوئی شق شامل ہے لیکن اگر کرنا چاہییں تو وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے خود امریکہ کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان کو جو نقصان ہو رہا ہے اس کا وہ ذمہ دار نہیں بلکہ اس کے ذمہ دار امیر ملک ہیں۔

’پیرس کلب نے تو پہلے ہی 2026 تک پاکستان کے قرضے ری شیڈول کر رکھے ہیں مگر پاکستان کے زیادہ تر قرضے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی بینک کے ہیں یہ ادارے کرونا کے دوران سال دو سال کے لیے پاکستان کے قرضے مؤخر کر چکے ہیں مگر ابھی تک ان عالمی اداروں کے ہاں ایسی کوئی روایت نہیں کہ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے تناظر میں کسی ملک کا قرضہ معاف یا مؤخر کیا ہو۔

دوسری طرف پاکستان میں ایسی کوئی پائے کی لیڈر شپ بھی نہیں جس کی بات دنیا سنتی ہو اور جو دنیا کے سامنے پاکستان کا کیس پیش کر سکے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستان سفارتی سطح پر مطالبہ کرے کہ اس کے ذمے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کم از کم اگلے 10 سال کے لیے مؤخر کی جائے۔

’اگر پاکستان یہ مہم مؤثر انداز میں چلا لے تو 10 سال کے لیے نہ سہی پانچ سال کے لیے اسے قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ ضرور مل سکتی ہے۔

کلاؤڈیا ویب برطانیہ میں ہاؤس آف کامنز کی ممبر ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبر دار کیا کہ پاکستان میں جہاں پہلے ہی خراب معاشی حالات کی وجہ سے غربت بڑھی ہے اگر اس کی مدد نہ کی گئی تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔

ذوالفقار جونیئر نے بھی ایک امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں عالمی اداروں سے یہی مطالبہ کیا۔

بارانی زرعی یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر فیاض ساہی نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان اگرچہ ان ممالک میں شامل نہیں جنہیں خوراک کی کمی کا سامنا ہے تاہم موسمیاتی تبدیلیوں نے اس کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

’اس سال معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں جس سے سندھ، بلوچستان، پنجاب میں رحیم یارخان اور ڈیرہ غازی خان میں سیلاب سے بہت تباہی ہوئی۔

’اگر سردیوں میں بارشیں بالکل نہیں ہوتیں اور اگلے سال گرمیوں میں پھر سیلاب آ جاتے ہیں تو پاکستان میں خوراک کی نہ صرف شدید کمی ہو جائے گی بلکہ پاکستان کی کمزور معاشی صورت حال کی وجہ سے وہ باہر سے بھی اتنی بڑی آبادی کے لیے خوراک درآمد نہیں کر سکے گا جس کی وجہ سے یہاں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو ایک وسیع پیمانے پر پلان بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے کافی سرمایہ بھی درکار ہے۔ ’تاہم پاکستان کی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے یہ ممکن نظر نہیں آتا۔‘

برطانیہ میں مقیم ماہر ماحولیات ڈاکٹر صبور جاوید نے کہا کہ پاکستان کا درجہ حرارت 1.3 درجے بڑھ چکا ہے اگر یہ 1.5 تک پہنچ جاتا ہے تو یہ ڈیزاسٹر کو مزید بڑھا دے گا۔

’اس کے نتیجے میں جو تباہی آئے گی وہ اس قدر ہو گی کہ شاید پاکستان کا ایک بڑا حصہ لوگوں کے رہنے کے قابل نہ رہے اور وہاں سے آبادیوں کو منتقل کرنا پڑے۔

’اس کا ذمہ دار پاکستان نہیں لیکن بھگتنا پاکستان کو پڑے گا اس لیے ابھی سے ایک ہنگامی پلان بنایا جائے اور اس پر پوری قوم کو تیار کیا جائے۔

’دنیا تبھی آپ کی مدد کرے گی جب آپ خود کچھ کریں گے لیکن اگر سیاست دان آپس میں اسی طرح لڑتے رہے تو موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سب کچھ لے ڈوبے گی۔‘بشکریہ انڈپینڈیٹ اردو

 

یہ بھی دیکھیں

ایران پر خوردبین لگائے اہل وطن، یہ فساد ہے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس) ایران میں خواتین کتنی آزاد ہیں؟ اس کا اندازہ آپ کو …