پیر , 26 ستمبر 2022

ایران کے ساتھ مذاکرات میں اختلافات اب بھی باقی ہیں:امریکہ

مذاکرات کے حوالے سے اب بھی ایران کے ساتھ اختلافات باقی ہیں، وائٹ ہاوس
وائٹ ہاوس میں قومی سلامتی کونسل برائے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے کوآرڈینیٹر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اختلافات اب بھی باقی ہیں۔

وائٹ ہاوس میں قومی سلامتی کونسل برائے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے کوآرڈینیٹر جان کربی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ واشنگٹن جس طرح چاہتا ہے اس طرح ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے نزدیک نہیں ہے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے اسٹریٹجک رابطوں کے رابطہ کار نے کہا کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں اور ہمیں توقع تھی اس طرح سمجھوتے کو حتمی کرنے کے قریب نہیں ہیں۔ بدستور کچھ شگاف اور اختلافات موجود ہیں، تاہم مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔

جان کربی نے اس سلسلے میں دعوی کیا کہ امریکہ اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے کہ سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکنے کے لئے اس کے پاس کچھ دوسرے آپشنز ہوں گے.

اگلے ہفتے ویانا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا سہ ماہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ گزشتہ روز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے نامہ نگار لارنس نورمین نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے خبر دی تھی کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں ایران کے خلاف کوئی قرارداد پاس کرنا طے نہیں ہوا ہے۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)کے سیکریٹری جنرل رافائل گروسی نے بدھ کے روز خبر ایجنسی رویٹرز کو موصول ہونے والی ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورنیم کے ذخائر مجاز ﴿۲۰١۵ کے جوہری معاہدے میں طے شدہ﴾ حد سے ١۹ گنا بڑھ چکے ہیں۔

رویٹرز کو موصول ہونے والی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورنیم کے ذخائر ٦۰ فیصد تک یعنی ہتھیاروں کے درجے کے قریب تک پہنچ چکے ہیں جبکہ یہ مقدار ایٹم بن بنانے کے لئے کافی ہے۔

رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران کی ٦۰ فیصد تک افزودہ اور UF6 کی شکل میں موجود یورنیم کے بارے میں اندازہ لگایا جارہا ہے کہ رواں سال ۳۰ مئی کو جاری کی گئی ایجنسی کی آخری رپورٹ میں پیش کردہ مقدار میں ۱۲.۵ کلو گرام اضافہ ہوا ہے اور ۵۵.۶ کلو گرام تک پہنچ چکی ہے۔

رویٹرز کو ملنے والی رپورٹ میں یہ دعوی بھی کہا گیا ہے کہ عالمی ایجنسی ایرانی جوہری پروگرام کے محض صلح آمیز ہونے کی ضمانت فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے!

ساتھ ہی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے ماضی کی طرح ایک دوسری رپورٹ بھی شائع کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی مستند جواب نہیں دیا کہ ۳ ظاہر نہیں کی گئی ایٹمی سائٹوں سے جو غالبا پرانی معلوم ہوتی ہیں، ملنے والے یورنیم کے ذرات کہاں سے آئے ہیں؟ جبکہ ایجنسی سالوں سے ان کے متعلق تحقیقات کر رہی ہے!

در ایں اثنا ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اٹامک ایجنسی کے سیکریٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ میں گزشتہ بے بنیاد باتوں کو سیاسی مقاصد کے تحت دوبارہ دھرایا گیا ہے اور مخصوص مقاصد کے لئے الفاظ کے کھیل کے سوا کوئی نیا نکتہ نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مغربی ممالک یوکرین میں جنگ کو طول دینے کے درپے ہیں، روسی وزیر خارجہ

ماسکو:روسی وزیرِ خارجہ سرگئے لاوروف کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک ان کے ملک کو …