جمعرات , 6 اکتوبر 2022

کیا مغربی ایشیا میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟

(عبد الباری عطوان)

مغربی ایشیا کے علاقےمیں اس وقت بہت تیز سفارتی اور سیاسی سرگرمیاں انجام پا رہی ہیں اور رہ بھی کئی محاذ پر ایک ساتھ ۔

ابھی کچھ مہینے پہلے ہی بن سلمان نے قاہرہ کا دورہ کیا، اردون اور ترکی کی آنن فانن میں سفر کا اعلان ہوا۔ شرم الشیخ میں مصرنے اردن اور بحرین کے بادشاہوں کی میزبانی کی۔ آخر ہو کیا رہا ہے جس کی اتنی تیاریاں ہو رہی ہیں؟

سب سے بڑا مسئلہ اسرائیل کا طاری خوف ہے جس کا کوئی نام نہيں لے رہا ہے۔ اس خوف کی وجہ سے ایران اور اس کے اتحادیوں کی تیزی سے بڑھتی طاقت ہے۔ اسرائیل اب یہی خوف عرب ممالک خاص طور پر خلیج فارس کے عرب ممالک کو برآمد کرنے کی فراق میں ہے۔

اسرائیل کے وزیر جنگ بنی گانٹز اسرائیلی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہتے ہيں کہ اسرائیل اس وقت امریکا کے ساتھ مل کر میڈل ایسٹ میں نیا ایئرڈیفنس سسٹم قائم کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد علاقے میں اسرائیل کے گھلنے ملنے کے لئے ماحول مناسب بنانا اور ایران کو تنہائی کا شکار کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عرب حکومتوں کو اتنی تشویش کیوں ہے اور وہ اسرائیل کو بچانے کے لئے اتنی بے چین کیوں ہيں؟

اسرائیل کو سارا ڈر ایران کی بڑھتی طاقت اور اپنی سرنگونی کا ہے تو پھر عرب ممالک کی خوف کی وجہ کیا ہے؟ عربوں کی بات کی جائے تو یہ ان کے لئے بہت اچھا وقت ہے کیونکہ اس علاقے میں طویل عرصے سے لڑی جانے والی جنگ اب یورپ منتقل ہو چکی ہے تو پھر عرب حکومتیں شکست خوردہ امریکی صدر جو بائیڈن کو کیوں یہ موقع دے رہی ہیں کہ وہ آ کر عربوں کے اس سکون و چین کو آگ لگا دیں اور عرب حکومت کو ایران اور اسرائیل کے تصادم میں چھونک دیں۔

عربوں نے اسرائیل سے معاہدہ کیا، امریکا کے دوباؤ میں آکر اسرائیل سے دوستی بڑھائی لیکن اب عرب حکومتیں، اسرائیل کی جنگ میں کودنے کی تیاری کر رہی ہیں تو یہ بہت بڑی بھول ہے۔

عرب حکومتوں کی بات کی جائے تو تیل کی آمدنی سے ان کے حزانے بھر گئے ہيں۔ تیل 125 ڈالر فی بیرل کے ریٹ سے فروخت ہو رہا ہے اور روس کی مہربانی سے یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

سعودی عرب جو بجٹ نقصان برداشت کر رہا ہے آج اس کی روزانہ کی آمدنی ایک ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان حالات میں امریکا اور اسرائیل مل کر ایک نئی جنگ شروع کرکے عربوں کے پیسے اس میں چھونک دینے کی کوششوں میں مصروف ہيں۔

یہ بہت زہریلی کھچڑی ہے جو اسرائیل نے پکائی ہے۔ بائیڈن کی نگرانی میں امریکا سوپر پاور کی پوزیشن کھو چکا ہے۔ جنگ یوکرین میں اس کی کمزوری صاف نظر آنے لگی ہے۔ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ عرب حکومتیں کب تک ان طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونہ بنی رہیں گی جو ان کی دن رات بے عزتی کرتی ہیں اور ان کی دولت لوٹنے سے نہیں تھکتیں۔بشکریہ سحر نیوز

 

 

یہ بھی دیکھیں

ڈالر اور پاک امریکہ تعلقات…

(ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی) ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امریکی ڈالرتاریخ کی سب سے بڑی …