منگل , 27 ستمبر 2022

مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم، عالمی برادری کہاں ہے؟

(تصور حسین شہزاد)

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے بلکہ مظلوم کشمیری عوام کی آہیں اب ہر دردمند دل رکھنے والے انسان کو بے چین کر رہی ہیں۔ مظلوم کشمیریوں کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنا کر مودی سرکار سمجھ رہی ہے کہ وہ کشمیر کو ہضم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، مگر یہ مودی اور اس کے حواریوں کی بُھول ہے۔ ظلم آخر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، خون آخر خون ہے، گرتا ہے تو جم جاتا ہے۔ مودی سرکار کو شائد بے گناہ کے خون کی تاثیر کا علم نہیں، مظلوم کا خون خاموش نہیں رہتا بلکہ اپنا خراج خود وصول کرتا ہے اور تاریخ کی بوڑھی آنکھوں نے ایسے بہت سے مناظر دیکھے ہیں کہ خود کو اختیارِ کُل کا مالک سمجھنے والے ظالم حکمران نشانِ عبرت بنے ہیں۔ بعید نہیں کہ مودی کا انجام بھی کچھ ایسا ہو کہ آنیوالے بھارتی حکمران اس انجام کو سوچ کر بھی کانپ اُٹھیں۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔

ایمنسی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ ’’ہمیں قانون کے ذریعے سزا دی جا رہی ہے، جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد تین سال‘‘ کے عنوان سے اپنی بریفنگ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ وسیع کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جبری سفری پابندیوں، نظر بندی، جابرانہ میڈیا پالیسیوں کا اطلاق ہوا، عدالتوں و انسانی حقوق کے اداروں میں اپیلوں یا فراہمی انصاف کے عمل کو روکنے کی کوششیں کی گئیں۔ بھارتی حکومت تین سال سے مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالے کارکنوں، صحافیوں اور وکلاء کو کریک ڈائون کا نشانہ بنا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اختلاف رائے کو دبانے کیلئے کالے قوانین، سخت گیر کارروائیوں اور غیرقانونی طریقوں کو اختیار کیا جا رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکار پٹیل کے مطابق یہ صورتحال تشویشناک، پریشان کن اور افسوسناک ہے۔ اسے مودی سرکار کی بدقسمتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ بھارتی آئین پر شب خون مارنے کے بعد بھی مقبوضہ کشمیر کو ہڑپنے کی خواہش اس کے گلے میں ہڈی بن کر رہ گئی ہے۔

بی جے پی حکومت نے 5 اگست 2019ء کو بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کا خاتمہ کرکے اپنے تئیں مقبوضہ کشمیر اور کشمیری عوام کی خصوصی حیثیت کو ختم کر ڈالا۔ انڈیا نے تین سال سے غاصبانہ قبضے کے زیر اثر جموں و کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی اور اذیت ناک جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ کشمیر کے عوام اور قیادت کو بدترین پابندیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، نقل حمل، اظہار رائے، ذرائع ابلاغ، مذہبی اجتماعات پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ بھارتی جیلیں کشمیریوں سے بھری پڑی ہیں، قید و بند، تشدد، مار پیٹ کا گھنائونا رویہ مقبوضہ کشمیر کے معمولات کا حصہ بنا ہوا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ کہیں زیادہ شدت اختیار کرچکا ہے۔ اس کے باوجود مودی سرکار اپنے مذموم عزائم کو حاصل کرنے میں شرمناک حد تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ بھارتی آئین پر ڈاکہ زنی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی جسارت کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عرصے سے نئی دہلی کے کاسہ لیس کشمیری بھی حق خود ارادیت کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

کشمیر سے تعلق رکھنے والا عام شہری ہو یا سیاسی رہنما، سماجی کارکن، صحافی، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے ادارے، سبھی بھارتی حکومت کی جابرانہ، غیر منصفانہ اور پرتشدد پالیسیوں کے مقابل اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بی جے پی سرکار اور اس کے کشمیر پر پالیسی ساز حلقوں کو مقبوضہ کشمیر میں ہر سطح کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لالے پڑ چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ایسی سیاسی تنظیمیں، افراد اور سیاسی ساکھ رکھنے والے ذمہ داران دور دور تک نظر نہیں آ رہے جو 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی، غیر انسانی اور آئین شکن اقدام کی حمایت کا حوصلہ کر سکیں۔ عالمی برادری اور علاقائی سطح پر انسانی حقوق اور مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ تسلط کی پالیسی پر بھارت کی بدنامی الگ سے ہو رہی ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ مودی سرکار نے اپنے جارحانہ، بہیمانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے بھارت کو داخلہ و خارجہ ہر میدان میں سخت مشکلات کا شکار کر رکھا ہے۔ بھارت کے انصاف پسند، معتدل اور جمہوری سوچ رکھنے والے حلقے مودی سرکاری کی سخت گیر، ظالمانہ اور غیر منصفانہ پالیسیوں کی وجہ سے شرمندگی اور ندامت کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں روکنے کا جو مطالبہ کیا ہے، بھارت کے جمہوری و سیکولر دعوے کی قلعی کھول رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور خود بھارتی معاشرے میں جبر، ظلم، تعصب، تشدد اور عدم برداشت کے رویے دراصل بھارتی عوام کی بڑی اکثریت کیلئے شرمندگی کا باعث ہیں۔ بھارت کے اندر ایسے طبقات مضبوطی سے اُبھر رہے ہیں جو مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ تسلط اور بھارتی معاشرے میں طبقاتی کشمکش، عدم مساوات، ہندو غلبہ اور اقلیتوں سے نفرت انگیز سلوک پر نالاں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ریاستی دہشت گردی خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ایسے سفاک اور تشدد آمیز رویے میں ملوث ہے کہ جس کو روکا نہ جا سکا تو وادی میں حالات کو قابو رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالی دیگر علاقائی و عالمی تنظیمیں کشمیریوں کے بنیادی سیاسی حقوق کیلئے طویل عرصے سے آواز بلند کر رہی ہیں۔ عالمی برادری کے امن پسند حلقے نئی دہلی پر اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عمل کرتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کو حق خود ارادیت کے استعمال کا موقع فراہم کرے۔

جنوبی ایشیا کے عوام کی بھاری اکثریت محفوظ، پُرامن اور خوشحال مستقبل کیلئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ عالمی برادری خاص طور پر دنیا کے طاقتور ممالک کی ذمہ داری بلکہ فرض ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، سلامتی و استحکام کیلئے بھارتی حکومت کو مسئلہ کشمیر پر زمینی حقائق تسلیم کرنے کا منطقی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرے۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ خود بھارت کے داخلی امن و سلامتی، سالمیت و استحکام اور دنیا میں عزت و وقار کیلئے مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام کی امنگوں کی بنیاد پر حل بہت ضروری ہے۔ بھارت کے پالیسی ساز اس سمت مثبت پیشرفت جتنی تاخیر کریں گے نہ صرف علاقائی امن بلکہ بھارت کی سلامتی کیلئے خطرات پیدا کریں گے۔ بہتر ہوگا کہ نئی دہلی سرکار عالمی رائے عامہ، علاقائی استحکام کے تقاضوں اور خطے کے اعتدال پسند حلقوں کی آواز پر کان دھرتے ہوئے بقائے باہمی، انصاف اور امن کی راہ پر چلنے کی کوشش کرے۔ اسی میں بھارت، خطے کی تمام ریاستوں اور بین الاقوامی برادری کا وسیع تر مفاد پوشیدہ ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

تجربہ کاروں کی تجربہ کاریاں

(ماریہ میمن) شہباز حکومت کو تجربہ کار حکومت کے طور پر پیش کیا گیا اور …