منگل , 27 ستمبر 2022

اربعین کے خلاف سازشیں اور عاشقان امام حسینؑ

(ارشاد حسین ناصر)

اربعین امام حسینؑ و شہدائے کربلا ایک عالمی تحریک کی صورت دنیا بھر کے صاحبان جستجوئے حق کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے، ہر سال اس میں نئے رنگ سامنے آتے ہیں، نئے زاویے نکلتے ہیں، نئی سچوایشنز پیدا ہوتی ہیں، اب یہ ایک افراد کی کثرت کا اجتماع نہیں رہا، نا ہی اسے اس انداز سے دیکھا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہے بلکہ اسے اس کے اثرات و نتائج کے عنوان سے دیکھا جارہا ہے، اربعین امام حسینؑ کے موقع پر ہونے والی مشی، چاہے وہ مشہد سے کربلا ہو یا بصرہ و دیگر کئی سینکڑوں کلومیٹرز پہ مشتمل عراقی شہروں سے ہونے والی مشی (پیادہ روی) ہو یا نجف سے کربلا ہونے والی اسی کلومیٹر کی مشی ہو، اس میں گذرنے والے ہر لمحہ و لحظہ میں سامنے آنے والے حالات، واقعات، رویوں، ایثار، قربانی، عشق، محبت، مہمان نوازی، خلوص، جذبات، احساسات کے نظاروں کو دیکھا جاتا ہے، اس سفر میں جسے عمومی طور پہ سفر عشق کہا جاتا ہے اس میں دنیا کے ہر رنگ کے ساتھ بہشت بریں کے نظاروں جن کا مژدہ و خوشخبری سنائی جاتی ہے، جس کی ہر مومن و مومنہ کو طلب رہتی ہے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

یعنی اگر کسی نے جنت کی کہانیاں سن یا پڑھ رکھی ہیں تو اسے ان کہانیوں میں بیان کی گئی جنت کے وہ نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں، جنت کا حصول اعمال سے مشروط ہے، اس کے بھی مقامات ہیں، ان کا تعلق بھی اعمال سے بتایا جاتا ہے مگر یہاں عشاقان ابا عبد اللہ الحسینؑ کیلئے کوئی فرق نہیں، سب کیلئے ایک جیسا مقام و اہمیت ہے، سب اس جنت کے نظاروں اور مقامات سے یکساں طور پہ مستفید ہوسکتے ہیں، اس سفر میں شریک ہر ایک عاشق کیلئے ایک سا ماحول، ایک سی سہولیات، ایک سی نوازشات اور ایک سے مواقع ہیں جن سے وہ مستفید ہو سکتا ہے، کسی کو کسی پر برتری نہیں، سب یکساں مقام و مرتبہ اور اہمیت کے حامل ہیں، اس لئے کہ سب زائر ہیں، سب عشاق ہیں، سب محبان و موالیان ابا عبد اللہ الحسینؑ ہیں، جنت جس کا مومنین کو وعدہ کیا گیا ہے اس کے جوانان کے سردار بھی حسن و حسین علیھم السلام ہیں تو اس جنت یعنی کربلا کے مالک و مختار بھی ابا عبد اللہ الحسینؑ ہی ہیں۔

یہ کربلا کی زیارت بھی کتنی بڑی تاریخ ہے جس کے بارے میں فقط ہم یہ سنتے ہیں کہ ہر دور میں اس کیلئے عاشقان نے قربانیاں دی ہیں مگر اس سے رکے نہیں، کڑی سے کڑی شرائط بھی انہیں زیارت سے دور نہیں رکھ سکی، حتیٰ اپنے بچوں کی قربانیوں کا بھی سنتے آئے ہیں، ایسے ادوار بھی گزرے ہیں کہ لوگ اپنے ہاتھ یا انگلیاں کٹوا کے اس سعادت کو حاصل کرنے پہ مجبور کئے گئے، یہ سب برداشت کیا گیا، آخر وہ کون سی کشش ہے جس کی وجہ سے لوگ اس سعادت کو حاصل کرنے کیلئے اتنی بڑی بڑی قربانیاں پیش کرتے تھے، اس کا اندازہ اسے ہی ہو سکتا ہے جو اس بارگاہ عالی میں امام عالی مقامؑ کی ضریح مقدس کے سامنے حاضر ہو کے اپنے آنسوؤں کی جھڑیاں بہارہا ہوتا ہے، یقین کریں اسے دنیا و آخرت کی دولت مل جاتی ہے جیسے، اس کیلئے مسلمان، یا شیعیان علی ہونا مشروط نہیں، یہ کوئی کرسچن بھی ہوسکتا ہے، کوئی ہندو بھی ہوسکتا ہے، کسی سکھ کی بھی یہ کیفیت ہوسکتی ہے، کسی یہودی کیساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے اور ہم نے اربعین پہ ایسے بہت سے دیگر مذاہب کے بر جستہ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اسی انداز و کیفیت سے دوچار بارگاہ مولا حسینؑ میں حاضر ہوتے ہیں، ان کو وہ سب کچھ نظر آتا ہے جس کو سن کے یہ لوگ حاضر ہوتے ہیں، ان کے قلوب منقلب بھی ہوتے ہیں، ان کے اندر تبدیلی بھی آتی ہے، ان کے تاثرات دیکھنے اور سننے سے تعلق رکھتے ہیں۔ زیارت روضہ مقدس امام حسینؑ و شہدائے کربلاؑ بالخصوس اربعین کے موقع پہ حاضری دنیا بھر کے عشاقان کربلا کیلئے ایک دلنشیں خواب ہے جس کی تعبیر کیلئے سال بھر انتظار کیا جاتا ہے۔

تیس برس سے زائد صدام و بعث پارٹی کی حکومت رہی تو یہ سلسلہ رکا رہا تھا، جب سے اس ملک کے اصل وارث یعنی غالب اکثریت اہل تشیع کی حکومت آئی ہے اس حوالے سے ہر سال پہلے سے زیادہ پر شکوہ انداز میں شرکت اور حاضری ہوتی ہے، دنیا بھر کے لوگ اس موقع پہ اپنی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے سال بھر انتظام و انصرام اور انتظار میں رہتے ہیں، اہل پاکستان کی غالب اکثریت بھی سال بھر اس کے وسائل کا انتظام و انصرام اور اہتمام کرنے میں مشغول رہتے ہیں اور اربعین پہ حاضری کی سعادت سے سرفراز ہونے کی پوری کوشش کرتے ہیں، اس میں ان مخلصین کو محبین کو بے انتہا مشکلات، رکاوٹوں سے گذرنا پڑتا ہے، ویزے کے مسائل، وسائل کی کمی، راستوں کی بندش، حکومت کی سازشیں، دہشت گردی کا خطرہ، فراڈ سالار حضرات، سفر کی صعوبتیں الغرض ان گنت مشکلات و مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس کے باوجود ہمارے لوگوں کے حوصلے پست نہیں ہوتے، ان کی امیدیں نہیں ٹوٹتی، ان کی آس ختم نہیں ہوتی، ان کی آنکھوں کی چمک ماند نہیں پڑتی کہ منزل کربلا ہوتی ہے۔

یہ سب صعوبتیں، یہ سب تھکاوٹیں، یہ سب مشکلات کافور ہوجاتی ہیں جب ابا عبد اللہ الحسینؑ کا مقدس روضہ نظر آتا ہے، ویسے بھی ان مشکلات اور تاریخ میں بیان کردہ قربانیوں کا تذکرہ سن سن کے یہ مشکلات سہنے کیلئے ذہنی و شعوری طور پہ بندہ تیار ہوچکا ہوتا ہے۔ امسال اربعین کے حوالے سے عجیب صورتحال سامنے آئی ہے کہ پہلے سے اس برس عراقی ویزوں، اپرول کے مسائل میں بے حد و حساب اضافہ ہوا ہے، جن لوگوں نے عاشور سے قبل اپرول اپلائی کی تھی انہیں ابھی تک اپرول نہیں دی گئی جبکہ اب کم از کم بائی روڈ پہنچنے کے چانسز ختم ہوچکے ہیں، اسی طرح ماضی میں عراقی ایمبیسی اسٹکر ویزہ جاری کرتی تھی تو نارمل فیس لیتی تھی، اب یہ حالت ہے کہ تین تین سو ڈالرز کے ویزے بک رہے ہیں وہ بھی یقینی نہیں کہ اصلی ہیں یا دو نمبر، یعنی اسٹکر اصلی ہوتا ہے مگر ساتھ لیٹر نہیں دیا جاتا جس کی بنیاد پہ داخلہ ممکن ہوتا ہے، بہت سے گروپس کی فلائٹس بُک تھیں مگر ویزے نا ہونے کی وجہ سے ان کا بڑا نقصان ہوا ہے۔

اسی طرح بارڈر کے ذریعے بائی روڈ جانے کے خواہش مند زائرین کیساتھ یہ ظلم ہوا ہے کہ اگر ان کے عراقی ویزے لگ گئے ہیں تو ایرانی ویزہ سینٹرز نے یہ کہہ کے ویزے نہیں دیئے کہ عراق نے بائی روڈ داخلہ بند کیا ہے لہذا ڈبل انٹری ویزہ نہیں دیا جاسکتا اور پاسپورٹس بھی زائران کو واپس نہیں دیئے کہ اگر سنگل انٹری ہی دے دیتے تو لوگ بائی ایئر افورڈ کرنے والے جاسکتے تھے۔ ایسے ہی ویزوں میں کلیریکل غلطیوں کے باعث بھی عین فلائٹس کے وقت لوگوں کو خواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کی بھی بہت سی شکایات سامنے آئی ہیں، کئی دفعہ تو تصویر کسی کی ہوتی ہے اور ڈیٹا کسی اور کا ہوتا ہے، ایسی غلطیوں کی وجہ سے اگر کوئی زیارت سے محروم ہوتا ہے اور اس کی ٹکت ضائع ہوتی ہے تو اس کا خمیازہ کون بھگتے گا، سفارت تو کسی کے دائرہ اختیار میں نہیں اور بیچارہ سالار یا ٹریول ایجنٹ نشانہ بنے گا۔ ان تمام مسائل، مشکلات اور پریشانیوں میں سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ کورونا کے باعث دو برس سے زیارت کیلئے تڑپنے والے مومنین و مومنات، عاشقان کربلا اس برس کسی بھی انتظامی نا اہلی، کسی سازش، کسی کمزوری کی وجہ سے محروم زیارت ہیں، در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، تڑپتے ہوئے اپنے تئیں بھاگ دوڑ میں مصروف ہیں۔

افسوس کہ پاکستان بھر میں ہماری قیادتوں نے بر وقت اقدام نہیں کیا اور متعلقہ وزارتوں میں روابط نہیں کئے، اس وقت تک کسی طرف سے سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، اندازہ لگائیں کہ وزیر خارجہ آئے روز ٹویٹ کرتے ہیں کہ ایرانی ہم منصب سے فلاں ایشو پہ بات ہوئی، اگر ہماری قیادتوں میں سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے ملاقات کرتے اور انہیں اس جانب بروقت متوجہ کرتے اور راستہ دکھاتے کہ عراقی ہم منصب سے بات کی جائے اور مسائل حل کئے جائیں تو پاکستانی زائرین یوں در بدر نا ہوتے، یوں ان کا نقصان نا ہوتا، ایسے زیارت سے محروم نا رہتے۔ بہرحال میری ذاتی رائے میں جس جس نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا نہیں کیا در حالانکہ وہ کرسکتا ہے اور جس جس نے اس میں منفی کردار ادا کیا ہے، ابا عبد اللہ الحسینؑ اپنے زائرین کو اذیت اور تکلیف میں مبتلا کرنے اور زیارت سے محروم رکھنے پہ ضرور پوچھیں گے، مولا کریمؑ ہمیں ان میں شمار نا کرنا کہ ہم نے پورے اخلاص کیساتھ ذمہ داران کو اس جانب بر وقت متوجہ کیا تھا کہ یہ مسائل آنے والے ہیں ان کا سدباب کریں۔

یہ بھی دیکھیں

تجربہ کاروں کی تجربہ کاریاں

(ماریہ میمن) شہباز حکومت کو تجربہ کار حکومت کے طور پر پیش کیا گیا اور …