بدھ , 28 ستمبر 2022

سیلاب: 2022 ریاست کٹہرے میں

(محمود شام)

آج اتوار ہے۔ بیٹے بیٹیوں۔ پوتے پوتیوں۔ نواسوں نواسیوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے کا دن۔ ان کی باتیں۔ ان کے سوالات سننے کے لمحات۔ خوشی ہوتی ہے جب کوئی پڑھنے والا یہ کہتا ہے کہ میں نے اتوار بچوں کو دینا شروع کردیا ہے۔ یہ اتوار جو تاریخ کے سب سے تباہ کن سیلاب کے دنوں میں آرہے ہیں۔ ہمارے بچے ٹی وی اسکرین۔ یوٹیوب۔ فیس بک پر طوفانی ریلوں کی زد میں آنے والے ہم وطنوں کی بے بسی کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ یہ طوفانی پانی پاکستان کے380بچوں کو بہا لے گیا ہے۔ مائوں کی گود اجڑ گئی ہے۔ باپ کی آنکھیں رو رو کر خشک ہوگئی ہیں۔ دادا دادی، نانا نانی کے بازو اٹھ اٹھ کر رہ جاتے ہیں۔ ان سے لپٹنے والے ان کی آنکھوں کے سامنے بہہ گئے۔ گھر پھر تعمیر ہوجائیں گے۔ کھیت پھر لہلہائیں گے۔ سڑکیں پھر ٹریفک کا خیر مقدم کریں گی۔ مگر جانے والے تو لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

بارشیں رُک گئی ہیں۔ لیکن تباہی، بربادی کی داستانیں جاری ہیں۔ شاہ لطیف۔ شہباز قلندر۔ سچل سرمست کا سندھ سب سے زیادہ زخم زخم ہے۔ 577جیتے جاگتےانسان لقمۂ اجل بن گئے ہیں۔ جن میں251بچے بھی شامل ہیں۔ 16 لاکھ گھر جزوی یا پورے تباہ ہوئے ہیں۔63پل گر گئے ہیں۔ بلوچستان میں 263کی سانسیں اکھڑیں جن میں 79بچے ہیں۔ 64ہزار گھر صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ۔ کے پی کے میں 88ہزار مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ 84پل گرے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے) روزانہ تازہ ترین اعداد و شُمار جاری کررہی ہے۔ غرقاب راستے۔ منہدم پل۔ ڈوبی بستیاں۔ حضرت انسان سے کچھ پوچھ رہی ہیں۔

14 جون سے ہونے والی بارشوں۔ پہاڑوں سے آتے پانی۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے ہماری 1971سے جاری حکمرانی کی ناکامیوں۔ گھپلوں۔ اسکینڈلوں۔ خامیوں سے پردہ اٹھادیا ہے۔ان برسوں میں ہم نے، آپ نے اپنے ایم این اے۔ ایم پی اے۔ سینیٹرز کی رہائش گاہوں کو وسعت پاتے۔ علاقے تبدیل ہوتے تو دیکھا ہے۔ کراچی میں ناظم آباد۔ پی ای سی ایچ ایس سے کلفٹن۔ ڈیفنس۔ کریک وزٹا۔ لاہور میں بھاٹی۔ لوہاری سے گلبرگ۔ ڈیفنس۔ چھوٹے شہروں سے اسلام آباد۔ کراچی۔ ان کے ساتھ ساتھ ہم نے بیورو کریٹس کو بھی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ رہائشی تبدیلیاں کرتے پایا ہے۔ ان میں سے اکثر کے دبئی۔ لندن۔ امریکہ۔ کینیڈا میں بھی اپارٹمنٹ ہیں۔سیلاب 2022نے ہمارے تعمیراتی زخم ہرے کردیے ہیں۔ ہماری مواصلاتی بیماریاں واضح کردی ہیں۔ ادھر 50سال سے نا انصافی ۔ جبر۔ نابرابری۔ غربت۔ مافیا کے مظالم سہتے کروڑوں کے ذہنوںمیںبھی طوفان برپا ہیں۔ ان کے سماجی شعور نے بھی ان دہائیوں کی حکمرانی کی قلعی کھول دی ہے۔ محروموں نے جان لیا ہے کہ ان کو محرومیوں میں کس نے مبتلا کیا۔ ان کے درمیان لسانی، علاقائی، نسلی اورصوبائی تعصبات کس نے پیدا کئے۔ آبادی میں اضافہ ہوتا رہا۔ شرح پیدائش بڑھتی رہی۔ اس حساب سے شہروں میں آبادیاں بڑھتی رہیں۔ لیکن حکمرانوں۔ بیوروکریٹوں نے اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کیا۔ بستیاں اپنے طور پروجود میں آتی رہیں۔

کوئی ماسٹر پلان تھا نہ پینے کے پانی میں ضرورت کے مطابق اضافہ۔ اور نہ گندے پانی کے نکاسی کے راستے۔ روپے۔ درہم۔ ریال۔ ڈالر کی ہوس نے پولیس۔ افسر شاہی اور انتخابیوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے سربراہی اجلاس ہورہے تھے۔ اقوام متحدہ متنبہ کررہا تھا۔ ہمارے گلیشیئر ہمیںپکار رہے تھے۔ پہاڑ آوازیں دیتے تھے۔ دریا منتیں کرتے تھے۔ نہریں پائوں پکڑتی تھیں۔ سمندر واویلا کرتا تھا۔ مگر ہماری ترجیحات کچھ اور ہی تھیں۔ یہ جو کچھ ہوا ہے یہ بھی ملک کی سلامتی کا ہی مسئلہ ہے۔ لاکھوں لیٹر پانی کا استعمال میں آنے کی بجائے تباہی کا سبب بننا بھی سیکورٹی کاخطرہ ہے۔ اس وقت انسانی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ انسانی خوراک کی سیکورٹی مشکل میں ہے۔

زندہ قوموں کے لئے ایسے ہنگامی حالات فیصلہ کن موڑ بن جاتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کے لئےتوبہ کا وقفہ ہوتا ہے۔ اپنے گناہوں۔ خطائوں۔ غیر ذمہ داریوں کا اعتراف۔ ان 51برسوں میں منتخب حکومتیں بھی رہی ہیں۔ غیر جماعتی منتخب بھی۔ فوجی حکومتیں بھی۔ ایک دوسرے کے آبائو اجداد پر الزامات کی بجائے ہم بطور قوم یہ تسلیم کریں کہ ہم نے ملک کو درپیش مسائل کو بروقت حل نہیں کیا۔ پہاڑ۔ سمندر۔ دریا۔ جھیلیں۔ نہریں۔ وادیاں۔ جو دنیا میں ترقی کا سبب ہوتی ہیں۔ صدیوں سے ان کا یہی کردار رہا ہے۔ ہم نے ان کی دیکھ بھال نہیں کی۔ آبپاشی کا صوبائی محکمہ ناجائز آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا ،اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں ناجائز کام ہوتے رہے۔ اس لئے اب وہی نہریں۔ وہی جھیلیں منہ زور ہوگئی ہیں۔

گردشِ ایّام پر نظر ڈالیں ۔مسئلہ تھا بہتر یا ابتر حکمرانی کا۔ ہم نے اسے جمہوریت اور آمریت کے درمیان کشمکش کی عبا پہناکر حکمرانی کی خرابیوں کو چھپانا چاہا۔ آئین کی حرمت کا نام لے کر سارے غیر قانونی کام کئے جاتے ہیں۔ اپنی کرپشن سے توجہ ہٹانے کے لئے فوج کو ساری پریشانیوں کاذمہ دار ٹھہراتے رہے۔

اب ہم سب کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ تین کروڑ سے زیادہ متاثر ہونے والے عوام ہمارے ہم وطن ہیں۔ ہم میں سے کسی نہ کسی کے رشتے دار۔ برادری۔ قبیلے کے۔ دوسری قوموں نے تحقیق۔ ایجاد کے ذریعے زندگی کو بہت آسانیاں فراہم کردی ہیں۔ ہمیں نئے تجربوں اور نئی ایجادات کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ہمیں کم از کم چھ ماہ تعمیرنَو کے لئے وقف کرنا ہوں گے۔ متاثرین کی اپنے نئے گھر میںباعزت واپسی، ان کو مالی طور پر مستحکم کرنا تو ہمارا فوری ہدف ہونا چاہئے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے آئندہ کے انتباہ کو سامنے رکھتے ہوئے کم از کم آئندہ پچاس برس کے پائیدار منصوبے بنائیں۔ اس عرصے میںآبادی بھی بڑھے گی۔ درجۂ حرارت بھی۔ خوراک کی ضروریات بھی۔ ایک خوشحال فلاحی ریاست کی منزل تک کیسے پہنچنا ہے؟ ایک ایٹمی ریاست کو صرف باہر سے نہیں اندر سے بھی محفوظ ہونا چاہئے، جس کے لیے نیک نیتی۔ اور ایک ایک پائی کا صحیح استعمال شرط اوّل ہے۔ کیا ہم اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرنے کو آمادہ ہیں؟

ہمارے اکثر قارئین توما یوس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے حکمران طبقے بدلنے کو قطعاً تیار نہیں ہیں۔ ان کی ہوسِ اقتدار اگر اسی طور رہی اور انہوں نے اچھی حکمرانی کی طرف توجہ نہ دی تو عجب نہیں کہ محروم اکثریت کے کھردرے ہاتھ اشرافیہ کے گریبانوں تک پہنچ جائیں۔بشکریہ جنگ نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

توانائی بحران کے خدشات

(زمرد نقوی) کہا جا رہا ہے کہ موجودہ یورپ کا توانائی بحران جو 52 برس …