منگل , 27 ستمبر 2022

موجودہ موسمی صورتحال میں پاکستان کے لیے 4 اہم سبق

(علی توقیر شیخ)

لوئر کوہستان کے سناگئی گاؤں سے گزرنے والی دُبیر ندی میں اچانک طغیانی آگئی تھی اور اس طغیانی سے بچتے ہوئے وہ 5 لوگ کسی طرح ندی کے درمیان موجود ایک چٹان تک پہنچ گئے۔ انہوں نے اس امید کے ساتھ اپنے جسم کے گرد رسیاں باندھ لیں کہ انہیں دوسری جانب کھینچ لیا جائے گا، لیکن ان کے لیے اپنی جگہ سے ہلنا بہت مشکل تھا۔

کچھ یہی حال ندی کے دونوں کناروں پر جمع ہونے والے ہجوم کا بھی تھا۔ یہ پانچوں لوگ مقامی ہی تھے، ان میں سے 2 ڈرائیور تھے۔ وہ ندی کے ساتھ چلنے والی لنک روڈ پر پانی کے بہاؤ میں پھنسی اپنی گاڑیاں نکالنے کی کوشش کررہے تھے اور اب خود پھنس چکے تھے۔ ان کے چاروں جانب پانی ہی پانی تھا جو اچانک ہی پہاڑوں سے نمودار ہوا تھا۔ اس موقع پر تیز لہروں میں اترنا بہت زیادہ خطرناک تھا۔

ان 5 لوگوں نے 3 گھنٹوں سے زیادہ انتظار کیا کہ شاید انہیں ریسکیو کرلیا جائے۔ مختلف لوگوں کی جانب سے مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکام کو بارہا اطلاع دی گئی لیکن کوئی مدد نہیں پہنچی۔ پھر کناروں پر جمع ہجوم نے وہ منظر بھی دیکھا کہ ان 5 میں سے 4 افراد بے رحم موجوں کی نذر ہوگئے، اور اس ہجوم نے ایک شخص کو ڈوبنے سے بچا لیا۔

اس واقعے کی جو ویڈیوز وائرل ہوئیں ان میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ 5 افراد بے یار و مددگار ایک چٹان پر کھڑے انتظار کررہے ہیں کہ کوئی ان کی مدد کو آئے، لیکن کوئی نہ آیا۔ اس وقت پاکستان کے ایک بڑے علاقے کا یہی منظر ہے جہاں لوگ سخت موسمی حالات اور حکومتی نااہلی کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

ملک کے دیگر علاقوں میں بھی دریاؤں کے کناروں یا بہاؤ کے راستے میں تعمیر کیے گئے ہوٹل اور بڑی عمارتیں سیلاب کے سامنے ٹک نہ سکیں اور بہہ گئیں۔ اس سیلاب کے ساتھ بڑے بڑے پتھر اور چٹانیں یوں بہہ رہی تھیں جیسے وہ کنکر ہوں۔ پانی کے دباؤ کے نتیجے میں ہیڈورکس اور ڈیم ٹوٹ گئے جبکہ پُل اور سڑکیں یا تو بہہ گئیں یا پھر ڈوب گئیں۔

سندھ اب تک سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے۔ یہاں سیلاب سے پورے کے پورے اضلاع ڈوب چکے ہیں۔ گھروں اور اسکولوں میں پانی داخل ہوچکا ہے، جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں، مال مویشی ڈوب گئے ہیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ ریل کی پٹریاں بھی پانی میں ڈوب چکی ہیں اور بھوکے پیاسے اور تباہ حال مرد، عورتیں اور بچے سوکھی زمین کی تلاش میں ہیں۔

جون کے وسط میں بارشوں کا آغاز ہونے کے بعد سے بلوچستان میں اب تک معمول سے 400 فیصد اور سندھ میں صرف جولائی کے مہینے میں ہی معمول سے 500 فیصد زیادہ بارشیں ہوچکی ہیں۔ اب تک ان بارشوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10 لاکھ سے زائد گھر یا تو مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں مویشی ہلاک ہوچکے ہیں جس سے پہلے سے ہی غریب لوگ مزید غریب ہوگئے ہیں۔

اس سیلاب کے نتیجے میں اندازاً 20 لاکھ ایکڑ قابلِ کاشت زمین کو نقصان پہنچا ہے۔ یوں اب حال اور مستقبل میں کپاس، کھجور، گندم، سبزیوں اور چاول کی پیداوار پر ایک سوالیہ نشان لگ چکا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں مہنگائی اور غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے آفس فار دی کوآرڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز (او سی ایچ اے) نے باضابطہ طور پر ایسے 116 اضلاع کی نشاندہی کی ہے جو مون سون کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں 66 اضلاع کو ‘آفت زدہ’ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں 31 اضلاع بلوچستان، 23 سندھ، 9 خیبر پختونخوا اور 3 پنجاب کے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے اضلاع جو پاکستان میں سب سے کم ترقی یافتہ علاقے ہیں وہ اس سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

اگرچہ حکومت، مختلف مقامی این جی اوز اور اب دیگر ممالک بشمول ترکی، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، کینیڈا اور امریکا مالی امداد، ٹینٹ، میڈیکل کٹس اور غذائی اشیا متاثرین کو فراہم کررہے ہیں تاہم وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمیرِ نو میں 5 سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

1960ء کے بعد سے تعمیر ہونے والا ڈیولپمنٹ انفراسٹرکچر کا ایک بڑا حصہ یا تو بہہ چکا ہے یا پھر غیر فعال ہوچکا ہے۔ یہ سب زیادہ تر ان تحصیل اور تعلقوں میں ہوا ہے جو ترقی کے اعتبار سے پہلے ہی بہت پیچھے تھے۔ اس سیلاب سے ہونے والے معاشی اور معاشرتی نقصان کے ازالے میں کئی سال یا شاید کئی برس لگ جائیں۔

پورا ملک اس وقت قدرتی آفات کے نتیجے میں غیر معمولی تباہی سے دوچار ہے۔ اگر ایک موسمیاتی تبدیلی ان ہونے والے نقصان میں اضافے کی وجہ ہے تو ہماری حکومتی نااہلی بھی اس کی وجہ ہے۔ یہ امتزاج بہت ہی تباہ کن ہے، ان کا سب سے زیادہ شکار غریب اور پسا ہوا طبقہ ہی ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ انسانی جانوں کے ضیاع، قدرتی آفت اور بڑی تباہی کی صورت میں نکل سکتا ہے اور اس سیلاب میں ایسا ہوا بھی ہے۔

2010ء میں آنے والا سیلاب دریائی سیلاب تھا جس نے معیشت کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔ 2022ء میں آنے والا سیلاب دریائی سیلاب نہیں ہے۔ اس وقت ہم نے 5 مختلف موسمی آفات کو دیکھا جو ایک ساتھ آئیں۔ ان میں بلوچستان اور وسطی سندھ میں غیر معمولی بارشیں، جنوبی پنجاب اور زیریں سندھ میں آنے والا تیز سیلاب جو کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے سے شروع ہوا، اربن فلڈنگ جس کا زیادہ شکار کراچی، حیدر آباد، سکھر اور دیگر شہری علاقے ہوئے، اپر انڈس بیسن میں آنے والے گلیشیئل آؤٹ برسٹ فلڈ اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر ہونے والی تیز بارش شامل ہیں جن کے نتیجے میں دریائے سندھ میں سیلاب آیا۔

ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، کم از کم 1918ء کے بعد سے تو ایسا نہیں ہوا۔ یہ وہ سال ہے کہ جب سے موسم کے اعداد و شمار کو ریکارڈ کرنا شروع کیا گیا تھا۔ اگرچہ یہ واقعات بھی اپنے آپ میں تباہ کن تھے لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ دریائی سیلاب کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ منگلا اور تربیلا ڈیم اب بھی بھر رہے ہیں اور ابھی ان کے اسپل وے کھولنے کی نوبت نہیں آئی ہے۔ اب چونکہ بارشیں تھم چکی ہیں اس وجہ سے امید کی جارہی ہے کہ دریائے سندھ میں ماضی کی طرح اونچے درجے کا سیلاب نہیں آئے گا۔

پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کی لپیٹ میں
بنیادی طور پر پاکستان مون سون نظام میں پہلی اہم تبدیلی کا تجربہ کررہا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان اس بڑے پیمانے پر آنے والے غیر دریائی سیلاب کا شکار ہوا ہے جو تبدیل ہوتے مون سون نظام کا اشارہ ہے۔ ماضی میں جس طرح کے دریائی سیلاب آتے تھے ان کی پیشگوئی کرنا اور ان کے حوالے سے تیاری کرنا نسبتاً آسان ہوتا تھا۔ تاہم اب طوفانی بارشوں، گلیشیئر کے پگھلنے، فلیش فلڈ (تیزی سے آنے والے سیلاب) اور بادل پھٹنے کی پیشگوئی کرنا قدرے مشکل کام ہے۔

عام طور پر مون سون کا سلسلہ خلیج بنگال سے شروع ہوتا تھا اور کشمیر کے راستے وادی مہران میں داخل ہوتا تھا۔ یہ وادی خیبر پختونخوا اور پنجاب کے لیے اس کا راستہ بنتی تھی۔ اس سے ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں انسانی آبادیوں اور فصلوں کی ضروریات پوری ہوتی تھیں اور دریا بھر جاتے تھے۔ جب تک یہ سلسلہ سندھ اور بلوچستان تک پہنچتا تھا تب تک یہ کمزور پڑچکا ہوتا تھا اور یہاں کم ہی تیز بارش ہوتی تھی۔ تاہم اس مرتبہ یہ سب کچھ تبدیل ہوگیا۔

اس مرتبہ مون سون نے اپنا صدیوں پرانا راستہ تبدیل کیا اور روایتی راستہ اختیار کرنے کے بجائے بھارتی راجستھان اور گجرات سے کراچی سے کچھ پہلے براہِ راست سکھر، خیرپور اور وسطی سندھ کے ملحقہ اضلاع میں داخل ہوا۔ ماہرین موسمیات کے مطابق اس مرتبہ معمول کے ایک یا دو اسپیل کے بجائے بارشوں کے تقریباً 5 سے 6 اسپیل ہوئے جن کی شدت بھی یکساں تھی اور ان کے درمیان یا تو بہت معمولی وقفہ تھا یا بالکل نہیں تھا۔ کئی ماہرین بہت پہلے سے خبردار کررہے تھے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث مون سون کا نظام بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس مرتبہ وہ واقعی درست ثابت ہوئے۔

یہ تباہی اتنے بڑے پیمانے پر تھی کہ اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود بھی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سے نمٹ نہ سکیں۔ جس طرح 2014ء میں آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے قتلِ عام کے بعد انسدادِ دہشتگردی کا ایک نیا بیانیہ تشکیل پایا تھا اسی طرح یہ سیلاب بھی موقع ہے کہ ملک کے مقتدر حلقے ماحول دوست ترقی کی بنیاد رکھیں۔

غربت اور ماحولیاتی تبدیلی
پاکستان کو موسمیاتی تباہی کے اعتبار سے ان ممالک میں شامل کیا جاتا ہے جن کی اس حوالے بہت کم تیاری ہے۔ کچھ اشاریوں نے تو پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے سب سے زیادہ شکار ہونے والے ممالک میں کیا ہے۔ بدقسمتی سے ملک کے دو بڑے مسائل یعنی بڑھتی غربت اور بڑھتے ہوئے موسمی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی تقریباً نصف آبادی ایسی ہے جو غربت کی لکیر کے قریب زندگی بسر کرتی ہے اور روزانہ 3 سے 4 ڈالر سے بھی کم کماتی ہے۔ عالمی سطح پر جیسے جیسے تفاوت میں اضافہ ہورہا ہے، اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، ملک کی شرح نمو کم ہوتی جارہی ہے اور بڑھتی آبادی کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔

اس دوران عالمی سطح پر بھی موسمی خطرات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس کا اشارہ تواتر کے ساتھ آنے والے سیلابوں، آگ لگنے کے واقعات، خشک سالی، ہیٹ ویو اور طوفانوں سے بھی ملتا ہے جو نہ صرف ایشیائی اور افریقی ممالک بلکہ آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ اور امریکا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی رونما ہورہے ہیں۔

ہم متعدد مرتبہ ایسا دیکھ چکے ہیں کہ موسمی خطرات اور غربت ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھا دیتے ہیں۔ لوگ جتنی زیادہ غربت میں رہیں گے وہ موسم کی تباہ کاریوں کا بھی اتنا زیادہ ہی شکار ہوں گے۔ یہ دونوں پہلو عموماً ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ تمام غریب لوگ موسمی خطرات کا شکار نہیں ہوتے اور تمام امیر افراد اس سے محفوظ نہیں ہوتے۔ تاہم موسم کی تباہ کاریاں کسی کو نہیں بخشتیں، چاہے وہ سمندر کنارے موجود اشرافیہ کی رہائش گاہیں ہوں یا پھر کراچی کی ملیر ندی کے اطراف موجود گھر۔

پاکستان اور دیگر ممالک میں آنے والے طوفان، سیلاب، ہیٹ ویو اور خشک سالی نے اس نکتے کو ثابت بھی کیا ہے۔ ہم 2010ء سے اس بات کا مشاہدہ کرتے آرہے ہیں کہ پاکستان غربت اور عدم مساوات کا مقابلے کرے بغیر موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ہر موسمیاتی آفت اس جنگ کو مشکل سے مشکل تر بنارہی ہے۔ موسمیاتی تحفظ کا دارومدار سماجی انصاف پر ہے اور حالیہ سیلاب نے اس نکتے کو مزید واضح کردیا ہے۔

یہ بات سب کو ہی معلوم ہے کہ اچھی حکومت کی بنیاد شراکت اور شفافیت پر ہوتی ہے۔ شراکت اور شفافیت اس حوالے سے کہ ملک کا نظام اس قابل ہو کہ وہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں موجود غریبوں تک پہنچ سکتا ہے اور ان کی مد کرسکتا ہے۔ شفافیت ختم ہونے کے نتیجے میں طاقت مفاد پرست لوگوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ بہتر حکومت ہو تو اداروں سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ وہ سب کو یکساں مواقع دیں گے۔ لیکن ملک میں اشرافیہ کے قبضے سے ریاست اور اس کے ادارے کمزور ہوجاتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر وسائل اور انصاف تک وہ رسائی متاثر ہوتی ہے جو موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے لازم ہے۔

حکومت اور ماحولیاتی تبدیلی کا چیلنج
مٹیاری کے رہائشی اپنے تباہ شدہ مکان سے سامان نکالتے ہوئے— تصویر: عمیر علی
ایک ترقی پذیر ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان پائیدار ترقی کے لیے جدوجہد کررہا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی ایک طبقے کے بجائے سب کے مفاد میں کام کیا جائے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بڑے پیمانے پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ملک کسی مخصوص طبقے کی گرفت میں ہے جس کی وجہ سے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ شدید موسم اور موسمی خطرات سے دوچار ہوتا ہے۔

سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویو، جنگلات میں لگنے والی آگ، بارشیں اور طوفان عموماً ایک کے بعد ایک آتے ہیں۔ یہ موسمی حالات سے نمٹنے کی ہماری صلاحیتوں کو کمزور کردیتے ہیں۔ مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی اور ملک میں فیصلہ سازی کا کوئی طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں موسمی حالات سے نمٹنے کی قدرتی صلاحیت ختم ہوگئی ہے۔ یہ 2010ء کے سیلاب سے سیکھا جانے والا ایک اہم سبق تھا۔ اس کے باوجود بھی ہم مقامی حکومتوں سے متعلق قوانین کو نافذ نہیں کرتے اور ہر سطح پر حکومت کو ممکن نہیں بناتے۔

موسمی حالات کے حوالے سے لاحق خطرات مقامی مسئلہ ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی حکومتیں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ لیکن پاکستان میں کئی مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد بھی مقامی حکومتیں کہیں نظر نہیں آتیں۔ قوانین کا نفاذ اور الیکشن کروانا، مقامی حکومتوں کو بننے دینا اور انہیں فنڈ، دفاتر اور اختیارات دینا تو بہت دُور کی بات ہے ہماری حکومتیں تو اس حوالے سے درکار قانون سازی ہی پوری نہیں کرتیں۔

یہ ایک ایسی صورتحال لگتی ہے جس میں ایک کا فائدہ دوسرے کا نقصان ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے سے صوبائی اور وفاقی حکومتیں کمزور ہوجائیں گی۔ یہ سوچ ہمارے سیاسی کلچر میں جڑ پکڑ گئی ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی سیاسی جماعت کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔

مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی نے پالیسی سازی، وسائل کی فراہمی اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مرکزی معاملہ بنادیا ہے۔ مقامی سطح پر یعنی اضلاع، تحصیل اور یونین کونسلوں میں بڑا ادارہ جاتی خلا موجود ہے۔ جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو وزیرِاعظم یا وزیر اعلیٰ کو خود جاکر ریلیف کے کاموں کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے مقامی قیادت کی نہ ہی تربیت کی جاتی ہے اور نہ ہی حوصلہ افزائی۔ یہاں تک کہ مقامی تاجر انجمنوں، بار ایسوسی ایشنز، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور این جی اوز کے کردار پر بھی شک کیا جاتا ہے اور انہیں محدود رکھا جاتا ہے۔

مقامی انتظامیہ میں شاید ہی امدادی اشیا کی تقسیم اور ہنگامی امداد فراہم کرنے کی اہلیت موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ماحولیات کے مسئلے اور قدرتی آفات پر توجہ نہیں دی جاتی۔ مقامی حکومتیں بھی ‘المیہِ عوام’ یا ‘ٹریجیڈی آف دی کامنز’ کا شکار ہوگئی ہیں۔ ‘المیہِ عوام’ اس صورتحال کو کہتے ہیں کہ جہاں پارکوں، کھیل کے میدانوں، قبرستانوں، نالوں، گرین بیلٹس، فٹ پاتھوں اور پارکنگ لاٹ جیسے عوامی مقامات پر قبضہ ہوجاتا ہے اور مقامی افراد کی زیرِ ملکیت زمینیں اور جنگلات ختم ہوجاتے ہیں، دریاؤں میں کھدائی کرکے ریت نکال لی جاتی ہے اور جھیلیں اور آبی ذخائر آلودہ ہوجاتے ہیں۔

ہمارے ہاں سیلاب اور دیگر موسمی آفات کے انتظام کے لیے شاید ہی کوئی ایس او پی ہو۔ سویلین ادارے خاص طور پر میونسپل خدمات اور ماحولیات کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے چاہے ان کا کام پینے کے اور سیوریج کے پانی سے متعلق ہو، برساتی نالوں سے متعلق ہو یا پھر ہنگامی امداد کی فراہمی سے متعلق، وہ سب تباہ ہوچکے ہیں۔

سیلاب یا دیگر آفات کے دوران اشیائے ضروریہ کی کمیابی یا ان کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست تعلق بلدیاتی حکومتوں کی عدم موجودگی سے ہے۔ جب تک مقامی حکومتوں کے ادارے بنائے نہیں جاتے، انہیں مضبوط نہیں کیا جاتا، ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا اور انہیں وسائل نہیں دیے جاتے تب تک ان آفات کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو کم نہیں کیا جاسکتا۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) 2007ء میں قائم ہوئی تھی اور اس کے قیام کو اب 15 سال ہوچکے ہیں لیکن اب تک ضلعی سطح کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) کو نہ ہی نوٹیفائی کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ممکنہ طور پر ان کے نوٹیفیکیشن سے بھی مسئلہ فوری طور پر حل نہیں ہوگا لیکن ہم کم از کم اتنا تو کرسکتے تھے کہ مقامی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ادارے قائم کرکے مقامی خطرات اور درکار خدمات کو ریکارڈ پر لے آتے۔

پھر ہمارے پاس پنجاب کے کچھ بڑے شہروں کی طرح 1122 جیسے ہنگامی امداد کے مقامی ادارے بھی نہیں ہیں۔ اگر ہماری حکومت فیصلہ کرے تو آئندہ مون سون سے قبل مقامی حکومتوں کا نظام فعال کیا جاسکتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کو ترجیح میں رکھا جائے۔

کیا صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے؟
سیلاب سے تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد— او سی ایچ اے رپورٹ (26 اگست 2022ء)
ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کو درپیش سب سے بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اسے ہماری قومی سلامتی کے منظرنامے میں بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آتے ہیں اور انہیں اب طویل عرصے میں ایک بار ہونے والے واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اس سیلاب سے قیمتی انفراسٹرکچر کا بھی نقصان ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں پُلوں، سڑکوں، ہائیڈرو پاور پلانٹس، چیک ڈیم، آبپاشی اسکیموں اور دیگر انفراسٹرکچر کا نقصان ہوا ہے۔ سیلاب کے باعث ہماری معیشت کو بالعموم اور غذائی تحفظ کو بالخصوص نقصان پہنچا ہے۔

جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ رواں سال آنے والا سیلاب غیر معمولی تھا اور یہ دریائی سیلاب سے بھی مختلف تھا۔ اس حوالے سے ہم 3 ممکنہ منظرناموں پر غور کرسکتے ہیں۔

پُرامید صورتحال

یہ بھلے ہی ایک مشکل سال ہو لیکن ممکن ہے کہ ہم اگلے کچھ برسوں یا دہائیوں تک ایسے بڑے غیر دریائی سیلاب کا سامنا نہ کریں۔ ہم ایسے کسی سیلاب کا انتظار نہیں کررہے ہیں لیکن مستقبل میں ہماری تیاری بہتر ہوگی۔ اسی وجہ سے ہم مستقبل میں بہتر انتظمات کرسکیں گے۔

مایوس کن صورتحال

یہ سیلاب اب زیادہ تواتر کے ساتھ آئیں گے لیکن ہم ان سے کوئی سبق نہیں سیکھیں گے بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے 2010ء کے سیلاب سے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا۔ ہم مون سون کے بدلتے ہوئے نظام کے ساتھ ہی زندگی گزاریں گے اور اسے نیا معمول بنالیں گے۔

بدترین صورتحال

یہ غیر دریائی سیلاب مزید تواتر کے ساتھ آئیں گے اور ان کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب بھی آئیں گے۔ اس سے یہ سیلاب مزید تباہ کن بن جائیں گے کیونکہ ہماری تیاری میں تو کوئی بنیادی تبدیلی آنے سی رہی۔

ایسا کوئی سائنسی طریقہ نہیں ہے جس کی مدد سے ہم اس صورتحال کا تعین کرسکیں جس کے ہونے کا امکان زیادہ ہو۔ تاہم اس سال آنے والے سیلاب کے تناظر میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ لوگوں کی جان بچانے کے لیے کی جانے والی کوششیں بڑی حد تک کامیاب رہیں تاہم ان میں اب بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کو مزید کم کیا جاسکتا ہے۔

اس کے لیے درکار کم از کم ضروریات میں ارلی وارننگ سسٹم اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی شامل ہے۔ ملک میں اس کا انتظام کافی مشکل کام ہے کیونکہ اس کے لیے بہت سی ادارہ جاتی، پالیسی اور ٹیکنالوجیکل رکاوٹوں کو عبور کرنا ہوگا۔

ہم کورونا اور سیلاب جیسے ہنگامی حالات میں متاثرین میں رقوم تقسیم کرنے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کامیابی سے استعمال کرچکے ہیں۔ یہ فوری طور پر رقوم کی تقسیم کے مقبول اقدام کے لیے ایک اچھا آلہ ثابت ہوا ہے، چاہے اس کے لیے یہ اپنے اصل مقاصد سے ہٹ ہی کیوں نہ جائے۔ ممکن ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اس آزمودہ طریقے کو مستقبل میں بھی اس قسم کی ضروریات کے لیے استعمال کریں گے۔

این ڈی ایم اے کے تخمینے کے مطابق اس سیلاب سے تقریباً 10 لاکھ گھر تباہ ہوگئے ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے اور اسی تعداد میں مویشیوں کا بھی نقصان ہوا ہے۔ اس وقت فصلوں کو ہونے والے نقصان کے حوالے سے کوئی تخمینہ موجود نہیں ہے۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس نقد امداد کی تقسیم کے علاوہ ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے جسے متاثرین کو درپیش خطرات کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے یا جس سے انفراسٹرکچر کو درپیش خطرات کم کیے جاسکیں۔ ایسا اس وقت تک رہے گا جب تک پاکستان قدرتی آفات کے حوالے سے اپنے ردِعمل میں بہتری لانے کا فیصلہ نہیں کرتا۔

نقطہ نظر میں تبدیلی کی ضرورت ہے
حالیہ تباہی ہمارے لیے اپنے طرزِ عمل میں بہتری لانے کا ایک موقع بھی ہے۔ یہ نقصانات بہت زیادہ ہیں اور یہ ایسے انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہیں جو موسمی حالات کا مقابلہ کرسکے۔ اب وقت آگیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس بات کا فیصلہ کریں کہ رسک ٹرانسفر اور انشورنس کے لیے نئے اور خصوصی ادارے بنائے جائیں۔

اس ضمن میں ابتدائی طور پر 5 بڑے نقصانات جیسے انسانی جان (آغاز میں برسرِ روزگار شخص) کے نقصان، رہائش کے نقصان، مال مویشی کے نقصان، کھڑی فصلوں کے نقصان اور چھوٹے کاروبار کے نقصان کے حوالے سے کوئی طریقہ کار ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ ہمیں نقد رقم کی تقسیم کو کم کرکے رسک ٹرانسفر اور انشورنس اداروں کے لیے جگہ بنانی ہوگی۔

یہ بات تو واضح ہے کہ پانی اترنے اور اپنے علاقوں میں لوگوں کی واپسی میں ابھی کم از کم 4 ماہ لگیں گے۔ اس عرصے میں ہنگامی امداد کی اشیا جیسے کہ ٹینٹ، خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی ہماری واضح قومی ترجیح ہونی چاہیے۔

اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ملیریا، ڈینگی اور مچھروں سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں سے بچانا بھی ایک سنگین چیلنج ہوگا۔ اس طرح اسکولوں میں تعلیم کا دوبارہ آغاز بھی ایک مشکل کام ہوگا کیونکہ سیکڑوں اسکولوں کو یا تو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل تباہ ہوگئے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ بین الاقوامی تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی بچہ یا بچی اسکول سے باہر نہ رہے۔ موسمی آفات معاشروں کی مضبوطی اور استحکام کا امتحان ہوتے ہیں۔

طویل مدت میں دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے موسمی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والی آفات سے نمٹنے کے لیے 4 اہم سبق ملتے ہیں جو ان آفات سے بچنے کے لیے ہماری قومی تیاری میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

پہلا سبق یہ ہے کہ پانی کے گزرنے کے راستوں کا تحفظ کریں۔ ایسی کسی چیز کی اجازت نہیں دینی چاہیے جو پانی کے بہاؤ میں رخنہ ڈالے پھر چاہے وہ کوئی ہوٹل ہو، آبادی ہو، فیکٹری ہو، بجلی کے گرڈ ہوں یا کوئی اسکول، اسپتال یا سرکاری عمارت۔ پاکستان کو دریا کے کناروں کو بحال کرنے اور مضبوط بنانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ قوانین میں موجود ابہامات کو ختم کرنا چاہیے اور ان کے نفاذ کو بہتر بنانا چاہیے۔ پانی کشش ثقل کے ساتھ بہتا ہے اور اس کے اصولوں کا احترام کرنے سے ہم جانی اور مالی نقصان سے بچ سکتے ہیں۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ تعمیرات کے معیارات اور تعمیراتی سامان پر نظرثانی کی جائے۔ اس حوالے سے موجودہ طریقہ کار ناکام ہوگیا ہے اور اس سے سالانہ مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ مون سون اور غیر مون سون علاقوں اور اونچے پہاڑوں پر پانی سے متعلق انفراسٹرکچر کے لیے تو بہت ہی ضروری ہے۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ نقد رقم کی تقسیم کے بجائے اب رسک ٹرانسفر اور انشورنس اسکیموں پر توجہ دینی چاہیے۔ ایسا خاص طور پر دیہی آبادی اور شہری علاقوں میں غیر رسمی بستیوں اور کچی آبادیوں کے لیے کرنا چاہیے۔ یہ غریب کسانوں اور ان کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک طرح کی ہدفی سبسڈی ہوسکتی ہے۔ ایک ایسا ملک جس کی معیشت پہلے ہی بہت کمزور ہو وہ ترقیاتی منصوبوں میں کمی کرکے رقوم کی تقسیم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

چوتھا اور سب سے اہم سبق یہ ہے کہ چونکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درپیش خطرات بنیادی طور پر مقامی مسئلہ ہے اس وجہ سے اس کا حل فعال مقامی حکومتوں اور مقامی اداروں کے بغیر ممکن نہیں۔ محدود صلاحیت اور وسائل کی مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ان حکومتوں کے نتائج آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن اگر اس حوالے سے فیصلہ کرلیا جائے تو انہیں اگلے مون سون سے قبل فعال کیا جاسکتا ہے۔

درحقیقت تعمیرِ نو اور بحالی کے اقدامات کے تحت ان چاروں نکات پر فوری طور پر کام کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ 2005ء میں آنے والے زلزلے کے بعد ‘پہلے سے بہتر تعمیر’ کی پالیسی اپنائی گئی تھی جس کی ناکامی سے بھی ہمیں ایک سبق ملتا ہے۔ وہ سبق یہی ہے کہ فوری نوعیت کے معاملات کی وجہ سے ہمیں اہم معاملات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

اگر ہم نے فوراً کام نہ کیا تو ممکن ہے کہ کچھ ہفتوں کے اندر ہم یہ موقع گنوادیں گے۔ پاکستان کو اب ایسی تعمیرات کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرسکیں۔ موجودہ تباہی نے اس حوالے سے ہمارے سامنے ایک موقع پیش کیا ہے۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

توانائی بحران کے خدشات

(زمرد نقوی) کہا جا رہا ہے کہ موجودہ یورپ کا توانائی بحران جو 52 برس …