بدھ , 5 اکتوبر 2022

کیا پنجاب میں گرینڈ پلان تیار ہوچکا ہے؟

سیاسی حالات میں جس قدر تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ عمران خان کے خلاف شکنجہ کسا جارہا ہے۔ حال ہی میں چشتیاں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نےہمیشہ عدلیہ اور فوج کی مضبوطی کی بات کی، میرےبیانات دیکھ لیں ہمیشہ کہا کہ فوج اورعدلیہ مضبوط ہونی چاہیے، جو جماعت قوم کوجوڑرہی ہےاسےروکنےکی کوشش کی جارہی ہے،صحافیوں کو ہدایات دی جارہی ہیں کہ عمران خان کی کوریج نہ کریں، میراچیلنج ہےجو کچھ بھی کرناہےکرلو آپ لوگ شکست کھائیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ مجھےمعلوم ہوا ہے اب ایک نیا منصوبہ بنایاگیاہے، ہماری پنجاب کی حکومت کو گرانےکی کوشش کی جارہی ہے، لوٹےبنانےکی کوشش ہورہی ہے، پنجاب میں کروڑوں روپےدیئےجارہےہیں۔یاد رہے کہ دوسری جانب ضمنی انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کاکہنا تھا کہ اگرچہ سیلاب کی وجہ سے ملک میں غیر معمولی حالات پیدا ہو گئے ہیں اور ان حالات میں انتخابات ممکن نہیں دکھائی دے رہے، ممکن ہے کہ انتخابات ملتوی کرنے سے عمران خان کا ٹیمپو برقرار نہ رہے مگر ملک میں عمران خان کی مقبولیت کا جو تاثر پیدا ہو رہا ہے، ممکن ہے کہ انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ اس تاثر سے نمٹنے کے لئے کسی گرینڈ سکیم کا حصہ ہو۔

معروف صحافی نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ عمران خان نے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر بہت پریشر ڈال دیا ہے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے ہیں۔ اب اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا پڑ رہا ہے کہ کس طریقے سے بات آگے بڑھائی جائے۔ خان صاحب کی مقبولیت ایسی ہے اور اداروں کے اندر ان کی سپورٹ ہے۔ عدلیہ کے اندر بھی آپ ان کو نااہل کرا کر سسٹم سے آؤٹ نہیں کر سکے۔ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی عمران خان کے حوالے سے اپروچ نرم ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان کے خلاف کوئی سخت فیصلہ لے گی۔ وہ بھی کوئی راستہ نکالیں گے اور عمران خان بھی۔ اگر پھر بھی کوئی راستہ نہ نکلا تو سپریم کورٹ راستہ نکال دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان اور نواز شریف کے لئے برابر کھیل کا میدان دے گی۔ اس پلان پر اب کام شروع ہو چکا ہے۔ اسحاق ڈار واپس آئیں گے اور نواز شریف بھی واپس آئیں گے۔ نوازشریف واپس آ کر جیل نہیں جائیں گے۔ الیکشن کا اعلان ہو جائے گا۔ جنوری میں الیکشن ہوں گے۔ اس حکومت کی چھٹی ہو جائے گی اور نگران حکومت نیا آرمی چیف لگائے گی۔ الیکشن کا اعلان ہونے سے قبل پنجاب میں حکومت دوبارہ (ن) لیگ کو دے دی جائے گی۔ عمران خان کے سر پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے تلواریں لٹکی رہیں گی مگر استعمال نہیں ہوں گی۔ نگران حکومت عمران خان، نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت سے بنے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبشلمنٹ اس وقت مشکل صورت حال میں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو مجبوری کے تحت نکالا مگر اس کے بعد بھی خان صاحب کی پاپولر سپورٹ ختم نہیں ہو رہی، نااہلی کے ساتھ وہ نواز شریف کو ختم نہیں کر سکے تو عمران خان کو کیسے ختم کریں گے۔ عمران خان اگر دو تہائی اکثریت کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں تو یہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہوگا اور (ن) لیگ کے لئے بھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے لئے آرام دہ صورت حال یہی ہے کہ آئندہ کی حکومت اتحادی حکومت ہو۔بشکریہ شفقنانیوز

یہ بھی دیکھیں

آل شریف کی سیاست کا فیصلہ چند دن میں لندن کی میٹنگ میں ہونےجا رہا ہے، شیخ رشید

راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ آل شریف …