منگل , 27 ستمبر 2022

کیا عمران خان تیزی سے تنہا ہورہے ہیں؟

آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں دیے گئے بیان پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ واضح کرچکے ہیں کہ عمران خان اس صورت حال میں کسی ریلیف کی امید نہ کریں۔ اس لئے عمران خان کے طرز عمل کو وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اس وقت ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے علاوہ اسٹبلشمنٹ کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد لازمی طور سے اداروں سے لڑائی نہیں ہے بلکہ خود کو سیاسی طور سے زندہ رکھنے کی شدید خواہش ہے اور وہ اسی کے مطابق حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس مرحلہ پر معافی مانگنے سے گریز کیا گیا ہے کیوں کہ غیر مشروط معافی تو فرد جرم عائد ہونے اور عدالتی کارروائی کے دوران کسی بھی وقت مانگی جا سکتی ہے۔ اور بظاہر عدالت اسے قبول کرنے کی طرف مائل بھی ہوگی۔ لیکن عمران خان اس وقت ہر معاملہ کو قومی سیاسی منظر نامہ میں خود کو توجہ و بحث کا مرکز بنائے رکھنے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

آرمی چیف کی تقرری کے سوال پر حکومت اور وزیر دفاع عمران خان کو غدار اور ملک دشمن قرار دینے کا طریقہ اپنا کر درحقیقت عمران خان کے سیاسی جال میں پھنس رہے ہیں۔ حکومت عمران خان کے مقابلے میں متبادل سیاسی بیانیہ سامنے لانے میں پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ عمران خان کی باتوں سے فوج کی توہین اور اعلیٰ فوجی افسروں کی حب الوطنی پر شبہ کا سراغ لگانے کی بجائے اگر اس معاملہ پر دو ٹوک اور شفاف موقف اختیار کیا جاتا تو شاید عمران خان کی سیاسی جارحیت کا رخ موڑا جاسکتا تھا۔ وزیر دفاع کا یہ بیان کہ ابھی آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں بات کرنے کا وقت نہیں ہے، حکومت کے اس خوف کی علامت بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اسے تو خود ہی معلوم نہیں ہے کہ شہباز شریف کی حکومت کتنے ہفتے یا مہینے قائم رہے گی۔ یا کم از کم اس کا تاثر ضرور پیدا ہوا ہے۔

پشاور کے جلسے میں عمران خان فیصل آباد جلسے میں اپنی متنازع گفتگو کی وضاحت کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے اور ابھی تک عوام کے ذہنوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی تازہ سرزنش کی بازگشت باقی ہے اور آئی ایس پی آر کے ردعمل کو بھی کوئی نہیں بھول سکا۔ ذرائع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے اندر اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ چیئرمین عمران خان تیزی کے ساتھ ایسے ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہو گا۔ سخت رویے اور بے باک سیاست کا جس قدر فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا وہ تحریک انصا ف اور اس کے سربراہ اٹھا چکے ہیں اور وہ رفتہ رفتہ جس قسم کے تنازعات کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں اس سے فائدہ کم اور نقصان نہ صرف زیادہ بلکہ دیرپا بھی ہو گا۔ بعض حلقوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ 12 اپریل کے بعد عمران خان اور ان کی جماعت کے ردعمل اور طرز سیاست سے متاثر ہونے والے عوام ہیں۔

وہ لوگ نہیں جنہیں ہماری سیاست میں خواص کہا جاتا ہے اور جن کے درمیان ہمارے روایتی سیاسی لیڈر پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان کے جلسوں اور احتجاجی ریلیوں کی رونق بڑھانے والے وہ لوگ ہیں جو پہلے ہی عمران خان کے ووٹر ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کی جماعت کو ووٹ تو دیے لیکن عملی طور پر جلسے جلوسوں میں شریک نہ ہوئے۔ ووٹر تو وہ پہلے ہی عمران خان کے تھے بس اب وہ پورے پورے خاندان کے ساتھ جلسوں میں بھی شریک ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 12 اپریل کے بعد جن لوگوں کو صوبائی اور قومی سطح کے انتخابات میں جیتنے یا ہارنے کے بعد لیڈر قرار دیا جاتا ہے۔

ان میں سے تو کوئی ایک بھی اپنی پہلی جماعت کو چھوڑ کر عمران خان کی جماعت میں شامل نہیں ہوا۔ ایسی صورت میں سب کچھ عمران خان کے حوالے کر دینا یا ان کو یہ اجازت دے دینا کہ وہ جب چاہے عدلیہ کے خلاف نکل کھڑے ہوں، اگر شکوک و شبہات اور خدشے زیادہ محسوس ہونے لگیں تو سکیورٹی اداروں اور ان کے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانے پر رکھ لیں۔ یہ ممکن نہیں، اسی لئے آسانی کے ساتھ اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف اور جناب عمران خان سے وہ تمام آسانیاں اور سہولتیں رفتہ رفتہ واپس لی جا رہی ہیں جن سے وہ بھرپور فائدہ اٹھاتے چلے آئے ہیں۔

پنجاب کی موجودہ سیاست اور صوبائی حکومت پر نظر رکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ فیصل آباد جلسے میں عمران کی متنازع تقریر کے مندرجات سے اتفاق نہ کرنے والوں میں پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی بھی شامل ہیں جو دبے لفظوں میں خان صاحب کے بیان کی تردید کر رہے ہیں اور انہوں نے ٹویٹ کر کے نہ صرف اپنا موقف واضح کر دیا ہے بلکہ خان صاحب کو یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ جس طرف وہ نشانہ باندھے ہوئے ہیں وہ نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ مستقبل کی سیاست کے لئے تباہ کن بھی۔

اگلے ہفتے شروع ہونے والی اہم پیشیاں منظر نامہ مزید واضح کر دیں گی اور اگرچہ عمران خان کے بڑے جلسوں میں شور برپا رہے گا اور سوشل میڈیا پر بھی مخالفین پر گولہ باری جاری رہے گی لیکن تحریک انصاف کی صفوں میں مزید سکوت طاری ہو جائے گا۔ یہ وہ موقع ہے کہ جناب عمران خان کو بھی نہایت توجہ کے ساتھ اپنی رفتار کا جائزہ لینا چاہیے اور 12 اپریل سے اب تک جتنے سگنل وہ توڑ چکے ہیں، انہی پر اکتفا کر جائیں اور قواعد کی مزید خلاف ورزی سے وہ کسی موڑ پر اپنے لائسنس سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

پاکستان کی سائبر سکیورٹی: پاکستان کی اہم شخصیات اور ان کے دفاتر کتنے محفوظ ہیں؟

(ترہب اصغر) پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ ن سے …