جمعرات , 6 اکتوبر 2022

ناظم جوکھیو کی والدہ نے قاتلوں سے صلح نامے کو زبردستی قرار دے دیا

کراچی:مقتول صحافی ناظم جوکھیو کی والدہ نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ قاتلوں نے ان سے زبردستی صلح نامے پر دستخط کرائے۔

بے گناہ قتل ہونے والے مظلوم ناظم جوکھيو کے کيس ميں نيا موڑ آگيا ہے، کیوں کہ مقتول کی والدہ نے قاتلوں سے صلح نامے کو زبردستی کرايا گيا معاہدہ قرار دے کر مسترد کرديا ہے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ماڈل کورٹ ملیر میں ناظم جوکھیو قتل کیس کی سماعت ہوئی۔

ملزمان کے وکيل نے بتايا کہ مدعی افضل جوکھیو، مقتول کی بیوہ اور ان کی والدہ کی ملزمان سے مصالحت ہوچکی ہے، عدالت ملزمان کو بری کرکے ختم کردے۔

سماعت کے دوران ناظم جوکھیو کی والدہ عدالت پہنچ گئیں۔ ۔ جہاں انہوں نے عدالت میں دہائياں دیں کہ بیٹے کے خون کا انصاف کیا جائے۔

مقتول کی والدہ نے عدالت کو بتايا کہ انہوں نے مجھ سے زبردستی صلح نامہ پر اور کمپرومائیز پیپر پر انگھوٹے لگوائے۔عدالت نے ملزم جام اويس کو 24 ستمبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اس سے پہلے ناظم جوکھيو کی بيوہ نے پوليس کے تاخيری حربوں اور بااثر افراد کی دھمکيوں سے خوف زدہ ہوکر ملزمان سے سمجھوتا کرليا تھا۔

ملزمان سے صلح نامے کے بعد پولیس نے کیس سے دہشت گردی کے دفعات ختم کردی تھيں، اور جام کریم سمیت 13ملزمان کے نام خارج کرنے کی سفارش کی تھی۔

پولیس کی سفارش کے بعد انسداد دہشتگردی عدالت نے بھی ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس سیشن عدالت منتقل کرديا تھا۔

ناظم جوکھیو کا قتل

مقامی صحافی ناظم جوکھيو کو گزشتہ سال نومبر ميں ملیر میں غیرملکیوں کو شکار سے روکنے کی ويڈيو وائرل ہونے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

مقدمے میں نامزد پيپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالکریم جوکھیو ملک سے فرار ہوگئے تھے اور اب ضمانت پر ہيں۔ جب کہ رکن سندھ اسمبلی اویس جوکھیو کیس میں گرفتار ہيں۔

یہ بھی دیکھیں

جاپان کا روسی سفارت کار کو 10 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا حکم

ٹوکیو:جاپان کی حکومت نے روسی سفارت کار کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔عرب میڈیا …