پیر , 3 اکتوبر 2022

صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں 3 سے 6 ماہ لگیں گے، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی:وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں 3 سے 6 ماہ کا عرصہ لگے گا۔مون سون کی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے 14 جون سے 9 ستمبر کے درمیان ملک بھر میں ایک ہزار 396 افراد جاں بحق اور 12 ہزار 728 زخمی ہوئے جب کہ 3 کروڑ سے زیادہ شہری بے گھر ہوئے ہیں۔

تباہ کن سیلاب کے دوران سندھ اب تک سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں اور سب سے زیادہ شہری زخمی ہوئے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایک ہزار 396 اموات میں سے سندھ میں مجموعی طور پر 578 شہری جاں بحق ہوئے، اسی طرح صوبے میں زخمیوں کی تعداد 8 ہزار 321 ہے جب کہ ملک بھر میں زخمیوں کی مجموعی تعداد 12 ہزار 728 ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبے کی موجودہ صورتحال اور تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو ایک ہونا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قدرتی آفت اور موسمیاتی تباہی سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین بھی سیلاب کی زد میں آ چکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں کسانوں کو تقریباً 3 ارب 50 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے جب کہ لائیو اسٹاک کے شعبے کو 50 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ علاقوں میں کم از کم 8 سے 10 فٹ پانی ہے، جن علاقوں میں سیلابی پانی اتر چکا ہے وہاں بھی ایسی صورتحال نہیں ہے کہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جاسکیں، پاکستان میں اس سال غیر معمولی بد ترین بارشیں ہوئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رواں سال صوبے میں معمول سے 10 سے 11 گنا زیادہ بارشیں ہوئیں، عام طور پر گڈو اور سکھر کے مقام پر تقریباً 4 لاکھ کیوسک سیلابی ریلا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے اور صوبے کے نکاسی آب اور آبپاشی کے نظام کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کے اخراج میں 3 سے 6 ماہ لگیں گے۔

مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ صوبے کو خیموں اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے سربراہ سے ملاقات کے دوران اٹھایا تھا۔

دادو کی نازک صورتحال
دادو سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی پیر مجیب الحق نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ دادو کی پیر شاہنواز اور یار محمد کلہوڑو یونین کونسلز کے 150 دیہات زیر آب آگئے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیلابی پانی اب دادو شہر کی جانب بڑھ رہا ہے۔

دادو کے ڈپٹی کمشنر سید مرتضیٰ علی شاہ نے بتایا کہ رنگ بند میں پڑنے والے شگاف سے نمٹنے کے لیے بھاری مشینری طلب کرلی گئی ہے۔

گزشتہ روز دادو شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر دور، پیر شاخ پر رنگ بند میں 500 چوڑا شگاف پڑنے سے پانی دادو شہر کی جانب بڑھنا شروع ہو گیا تھا جس سے راستے میں موجود 300 کے قریب دیہات زیر آب آگئے تھے۔دادو تعلقہ کے پیر شاہنواز، کمال خان اور یار محمد کلہوڑو کے علاقے سیلاب کے پانی سے متاثر ہوئے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکام نے گزشتہ روز دادو ڈسٹرکٹ جیل سے قیدیوں کو دیگر جیلوں میں بھی منتقل کردیا تھا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دادو کے پیر شاہنواز، یار محمد کلہوڑو کے علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں، پانی دیگر علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور شہری ان علاقوں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

دادو تعلقہ کی 2 یونین کونسلز زیر آب آنے کے بعد ہزاروں خاندان سڑکوں پر آگئے ہیں جب کہ سیکڑوں خاندان اب بھی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم کا سربراہ اقوام متحدہ سے اظہار تشکر
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی بے مثال حمایت پر انتونیو گوتریس کا شکریہ ادا کیا۔

شہباز شریف نے ‏اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ا نتونیو گوتریس کا سیلاب متاثرین کی مثالی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیلاب متاثرین کے دُکھوں کی آواز بن گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔‏

اپنے ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ انتونیو گوتریس کی سیلاب متاثرین کی مثالی حمایت پر ان کے شکر گزار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا 2 روزہ دورہ اس انسانی سانحے کے بارے دنیا بھر میں آگاہی پھیلانے میں نہایت اہم رہا، ان کی ہمدردی اور قائدانہ خصوصیات نے مجھے متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔‏

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شدید گرمی میں سیلاب متاثرہ علاقوں اور امدادی کیپمس کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو دیکھ کر ششدر رہ گئے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ سیلاب متاثرین کے دُکھوں کی آواز بن گئے ہیں، دنیا کو ان کی موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے حوالے سے گفتگو پر توجہ دینی چاہیے۔

دوسری جانب سربراہ اقوام متحدہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور تباہی کے باعث آنے والے سیلاب سے پاکستان میں ایسی تباہی نہیں دیکھی۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بحران ہے اور یہ صورتحال عالمی ردعمل کا مطالبہ کرتی ہے۔

بارش کی پیش گوئی
نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) نے اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بتایا ہے کہ کشمیر، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، بالائی پنجاب، جنوب مشرقی سندھ اور گلگت بلتستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے جب کہ بارش سے کشمیر، خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلگت بلتستان، گلیات اور مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ہیں۔

این ایف آر سی سی کا مزید کہنا ہے کہ ملکی تاریخ کے بد ترین، تباہ کن سیلاب سے سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، نوشہرو فیروز، دادو، ٹھٹہ اور بدین شامل ہیں۔

سینٹر کے مطابق بلوچستان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفر آباد، جھل مگسی، بولان، صحبت پور اور لسبیلہ شامل ہیں۔

فورم کے مطابق اسی طرح خیبر پختونخوا میں دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک، ڈیرہ اسمٰعیل خان اور پنجاب میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع ہیں۔

نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر نے ریسکیو اینڈ آپریشن سے متعلق بتایا کہ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں نے مختلف علاقوں میں 485 پروازیں کی ہیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 22 پروازیں کی گئیں جب کہ مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے 70 افراد کو نکالا گیا اور 29.9 ٹن امدادی اشیا سیلاب متاثرین تک پہنچائی گئیں۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب کابینہ نے 100ارب روپے کے احساس راشن رعایت پروگرام کی منظوری دیدی

لاہور:پنجاب کابینہ نے 100ارب روپے کے احساس راشن رعایت پروگرام کی منظوری دے دی ہے، …