پیر , 26 ستمبر 2022

خدا ترسی بھی سائنس ہے

(وسعت اللہ خان)

سنہ 2005 کا زلزلہ، سنہ 2010 کا سیلاب اور سنہ 2022 کی آبی قیامت اور اس دوران دہشت گردی سے اجڑے لاکھوں لوگوں سمیت ہم کئی بڑے قومی دھچکوں سے گزر چکے ہیں اور ابھی تو محض ابتدا ہے۔

ایسے آسمانی و زمینی المیات سے کیسے نپٹا جائے یا ان سے پہنچنے والے نقصانات کو کس حد تک کم سے کم کیا جا سکے؟ ان ادق موضوعات پر بحث اور ناقابلِ عمل حکمت عملی یکے بعد دیگرے وضع کرنے کے لیے بہت سے دماغ پہلے کی طرح آج بھی مصروف ہیں۔ انھیں تاحیات مصروف رہنے دیجیے۔

اس وقت میری توجہ کا مرکز وہ خدا ترسی ہے جو کسی بھی سانحے کا سن کر ایک بے غرض شہری کے خون میں وقتی اچھال پیدا کر دیتی ہے اور وہ مدد کے خیال سے جو شے ہاتھ لگے اسے اٹھا کر مصیبت زدگان یا امدادی اداروں کی جانب دوڑ پڑتا ہے۔ اور جب اسے لگتا ہے کہ اپنا فرض پورا کر کے ضمیر مطمئن کر لیا ہے تو پھر سے روزمرہ کاموں میں کھو جاتا ہے۔

چونکہ مخیر و فلاحی سرکاری و غیر سرکاری ادارے بھی انہی جیسے افراد پر مشتمل ہیں لہٰذا ان کی سوچ بھی دماغ سے زیادہ دل کے تابع ہو جاتی ہے۔ یوں ان کی توانائی و وسائل ضرورت مندوں کے کام کم آنے کے بجائے غیر ضرورت مندوں کے ہاتھوں ضائع ہوتے چلے جاتے ہیں۔

مثلاً موجودہ آبی قیامت کا شکار ہونے والے لاکھوں انسانوں میں نوزائیدہ بچوں سے بوڑھوں تک ہر عمر کے انسان شامل ہیں اور عمر کے اعتبار سے ان کی ضروریات بھی مختلف ہیں۔ مگر فلاحی حکمتِ عملی ان ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے بجائے ہر انسان دوست فرد، تنظیم اور ادارے کی سوچ ایک ہی دائرے میں گھوم رہی ہے۔ کھانا، ٹینٹ، کھانا ٹینٹ، کھانا ٹینٹ ۔۔۔۔۔۔

کھانے سے مراد صرف نمکین چاول ہیں اور ٹینٹ سے مراد کسی بھی سائز یا کوالٹی کا ٹینٹ جو بارش اور دھوپ سے مکمل یا جزوی بچا سکے۔ کوئی بھی انسان ایک مہینے تک دونوں وقت نمکین چاول کھا کے بنا صاف پانی پئے کتنی دیر تک اپنی جسمانی مدافعت بحال رکھ سکتا ہے۔ اور ٹینٹ ملنے کے باوجود مچھروں اور کیڑے مکوڑوں سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔

کتنی فلاحی تنظیمیں اور سرکاری خیر کے ادارے بڑھ چڑھ کے امداد کی اپیل کرتے وقت دیگر لازمی ضروریات کو بھی اتنا ہی اہم سمجھتے ہیں جتنا کھانے اور ٹینٹ کی اپیل کو۔ حالانکہ یہ سب سوچنا اور سمجھنا راکٹ سائنس نہیں۔ پھر بھی ایک جامع اپیل کا نمونہ پیشِ خدمت ہے۔ اس میں ترمیم و اضافے کی گنجائش ہمیشہ رہے گی۔

‘اے صاحبانِ استطاعت آپ کے امدادی جذبے کو سلام۔ مگر ہمیں ایسے افراد، کمپنیوں اور اداروں کی مدد درکار ہے جو پانچ برس تک کی عمر کے بچوں کے لیے دودھ اور دلیے کے پیکٹ ارسال کر سکیں۔ ہمیں بوتل بند صاف پانی کی بڑی مقدار چاہیے۔ ایسی ٹکنیکل مدد بھی درکار ہے جو آلودہ پانی کو فوری طور پر انسانی استعمال کے قابل بنا سکے۔ہمیں پورٹیبل بیت الخلا اور غسل خانے درکار ہیں جنھیں آسانی سے منتقل اور نصب کیا جا سکے۔

ہمیں ان ٹرانسپورٹروں کا دستِ تعاون چاہیے جن کے پاس اگر کم ازکم دس فور وہیلر گاڑیاں، ٹرک، ڈمپرز یا وینز ہیں تو ان میں سے ایک گاڑی اگلے پندرہ دن یا مہینے بھر کے لیے عملے سمیت کسی بھی قابلِ بھروسہ تنظیم یا ادارے کے حوالے کر دیں۔

ہمیں بڑی تعداد میں جنرل فزیشنز، گائنی ماہرین، ہیلتھ ورکرز اور ویکسینیٹرز کی ضرورت ہے جو ہفتہ، پندرہ دن یا ایک ماہ کے لیے اپنی خدمات مصیبت زدگان کے لیے وقف کر سکیں۔

ہمیں ایسے اصحاب اور اداروں کا تعاون درکار ہے جو حسبِ استطاعت سینٹری پیڈز کی کھیپ خرید کر یا تیار کروا کے عطیہ کر سکیں۔ ہمیں ہزاروں مچھر دانیاں، مچھر مار ادویات اور لوشن درکار ہیں جو کھلے آسمان تلے ہزاروں لوگوں کو ملیریا، ڈینگی اور دیگر کیڑے مکوڑوں سے لاحق خطرات سے بچا سکیں۔ ہمیں ہر متاثرہ علاقے میں ایمبولینسوں کی بھی ضرورت ہے۔

ہمیں ہزاروں کی تعداد میں ایسے نوجوان درکار ہیں جو فی الوقت بے روزگار مگر فلاحی جذبے سے سرشار ہیں تاکہ وہ روزمرہ کی امدادی سرگرمیوں میں حسبِ صلاحیت کسی نہ کسی ادارے یا تنظیم کا ہاتھ بٹا سکیں۔

ہمیں ایسے اداروں اور افراد کا دستِ تعاون درکار ہے جو لاکھوں جانوروں کے لیے خشک چارے، ویکسینز اور ادویات کی فراہمی ممکن بنا سکیں۔ اگر یہ جانور بھی نہ بچے تو ہزاروں خانماں برباد کنبے معاشی طور پر زندہ درگور ہو سکتے ہیں۔

ہر شہری جو مدد کے جذبے سے سرشار ہے اسے فلاحی اداروں اور سرکار کی جانب سے بروقت پیشہ ورانہ رہنمائی درکار ہے۔ تاکہ امداد صرف تنبو، خشک و پکے ہوئے راشن یا کپڑوں کی روایتی اپیل تک ہی محدود ہو کر نہ رہ جائے بلکہ ہر بنیادی انسانی ضرورت کا احاطہ کر سکے۔

فلاحی کام صرف جذبے کا نام نہیں بلکہ اس جذبے کو سائنسی انداز میں مربوط و مؤثر کر کے آخری ضرورت مند تک پہنچنے کا نام ہے۔بشکریہ بی بی سی اردو

 

یہ بھی دیکھیں

دروازہ کربلا پر (سفرنامہ)

(تحریر: سید تنویر حیدر) ہیلو، ہیلو، ایزنی فرھنگی جمہوری اسلامی ایران، اسلام آباد سے رمضان …