جمعرات , 6 اکتوبر 2022

ترکی نے 3 ہزار سے زائد پناہ گزینوں کو ملک بدر کردیا

انقرہ:ترک محکمہ داخلہ نے ہفتہ کے روز 3 ہزار 38 پناہ گزینوں جو انقرہ کیجانب سے غیر قانونی مہاجر سمجھے جاتے تھے کو ملک بدر کرنے کا اعلان کردیا۔ ان پناہ گزینوں کے نصف سے زائد افغان شہری ہیں۔ذرائع نے ترک نیوز ایجنسی اناٹولی سے رپورٹ دی ہے کہ ان افراد کو 2 سے 8 ستمبر تک ملک بدر کردیا گیا ہے۔

ترک محکمہ داخلہ کے ادارے برائے مہاجرین کے امور کی رپورٹ کے مطابق، ان افراد میں سے ایک ہزار 492 افغان، 448 افراد پاکستانی اور باقی دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جن کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

اس ادارے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں سال سے اب تک ترکی میں غیر قانونی طور پر آنے والے مہاجرین کو ملک بدر کرنے کی تعداد 78 ہزار 716 تک پہنچ گئی ہے۔

اس ادارے نے کہا کہ اپنائے گئے حفاظتی اقدامات نے مذکورہ مدت کے دوران، 4 ہزار 352 افراد کو غیر قانونی طور پر ترکی میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

ترک محکمہ داخلہ کے ادارے برائے مہاجرین کے امور کی رپوٹ کے مطابق، رواں عیسوی سال سے اب تک، انقرہ کے حکام نے 209 ہزار 318 مہاجرین کو اس ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

تا ہم ترک حکام نے کہا کہ اب 4 ملین پناہ گزین جن کا اکثر تعلق شام، عراق، افغانستان اور وسطی ایشیا کے کئی دیگر ممالک سے ہے، اس ملک میں رہائش پذیر ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اگر یورپی یونین فسادات کی پشت پناہی کرے تو ہم جوابی اقدام کریں گے: امیر عبداللہیان

تہران:ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر یورپی یونین فسادات کی پشت پناہی …