پیر , 26 ستمبر 2022

ڈنمارک کے اسکولوں میں اسکارف پر پابندی کی تجویز پر احتجاج

کوپن ہیگن: ڈنمارک کی حکمران سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے قائم کردہ ایک ادارے نے حکومت کو ڈینش ایلیمنٹری اسکولوں میں اسکارف پر پابندی کی تجویز پیش کی ہے۔

غیر ملکی رساں ادارے کے مطابق اسکارف پر پابندی کی تجویز کے بعد ملک میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے جبکہ بعض شہروں میں احتجاج بھی شروع ہوگیا ہے۔

دیگر سفارشات میں ڈینش زبان کے کورسز فراہم کرنے، نسلی اقلیتی خاندانوں میں بچوں کی پرورش کے جدید طریقوں کو فروغ دینے اور ایلیمنٹری اسکولوں میں جنسی تعلیم کو مضبوط بنانے کی تجویز ہے۔کمیشن کی رپوٹ کا دعویٰ ہے کہ اسکولوں میں اسکارف کا استعمال بچوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔

آرہس یونیورسٹی میں ڈینش سکول آف ایجوکیشن میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ارم خواجہ نے بھی اس تجویز کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پابندی سے لڑکیوں کو درپیش مسائل حل نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ اسکارف پر پابندی کی تجویز پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں طالبات اسکارف اتارنے پر مجبور ہو جائیں گی۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ کے لیے ترکیہ سب سے اہم ممالک میں سر فہرست ہے: ترک وزیر خارجہ

نیویارک:وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا کہ جب امریکہ کی ترجیحات پر غور کیا …