منگل , 27 ستمبر 2022

پاکستان میں جبری مشقت کی وجوہات مذہبی اور نسلی تفریق ہے،رپورٹ

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 5 کروڑ افراد جبری مشقت یا جبری شادی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔پاکستان سے متعلق جبری مشقت کی وجوہات یا بنیاد کو مذہبی اور نسلی تفریق سے جوڑا گیا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ نے سال 2030 تک جدید دور میں ہر قسم کی جبری غلامی کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم سال 2016 سے 2021 کے درمیان ایک کروڑ افراد جبری مشقت یا جبری شادیوں میں پھنس گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تحقیق کے دوران ماہرین نے اس بات کی نشان دہی کی کہ پاکستان سے متعلق جبری مشقت کی وجوہات یا بنیاد مذہبی اور نسلی تفریق ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے لیبر اینڈ امیگریشن نے واک فری فاؤنڈیشن کے ساتھ مشترکہ تحقیق کی۔ اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ پچھلے برس کے آخر تک 2 کروڑ 28 لاکھ افراد جبری مشقت کا شکار تھے جبکہ 2 کروڑ 20 لاکھ افراد جبری طور پر شادی کے بندھن میں پھنسے ہوئے تھے۔

رپورٹ کےمطابق اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا میں ہر 150 افراد میں سے ایک شخص جدید دور میں غلامی کی زندگی گزار رہا ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے سربراہ گئے رائیڈر نے اس صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا اور کہا کہ پریشان کن یہ ہے کہ غلامی اور جبری مشقت میں کمی نہیں آرہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت کا پی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کیلیے 40 ہزار آنسو گیس شیل کی خریداری

اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ لانگ مارچ کے شرکا …