پیر , 26 ستمبر 2022

ایف اے ٹی ایف سے متعلق 11 میں سے 10 نکات پر پاکستان کے اقدامات ‘کم موثر’ قرار

ایشیا پیسیفک گروپ آن منی لانڈرنگ (اے پی جی) نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) کے خلاف 11 میں سے 10 عالمی اہداف اور نکات کے حصول کے لیے پاکستانی اقدامات کو ‘کم موثر’ قرار دیا ہے جب کہ ملک نے واچ ڈاگ کی 40 میں سے 38 تکنیکی سفارشات اور نکات پر عمل در آمد مکمل کرلیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے سڈنی میں موجود علاقائی دفتر نے 2 ستمبر کو اپنے علاقائی ممبران کی درجہ بندی سے متعلق اپ ڈیٹ جاری کی تھی جس میں رائے دی گئی تھی کہ پاکستان نے مطلوبہ 11 میں سے صرف ایک نکتے پر ‘درمیانے درجے کے موثر’ اقدامات کیے ہیں۔

اس نکتے کے تحت، پاکستان مناسب معلومات، مالیاتی انٹیلی جنس اور شواہد سے متعلق عالمی سطح پر تعاون کرتا ہے اور مجرموں اور ان کے اثاثوں کے خلاف کارروائی میں سہولت فراہم کرتا ہے۔

ایف اے ٹی ایف اور اے پی جی کے 15 رکنی مشترکہ وفد نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک پاکستان کا آن سائٹ دورہ کیا تھا۔وفد کے دورہ پاکستان کا مقصد اس بات کی تصدیق کرنا تھا کہ جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلیٰ ترین سطح پر فراہم کردہ 34 نکاتی ایکشن پلان پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔

ٹاسک فورس نے رواں سال فروری میں قرار دیا تھا کہ پاکستان نے تمام 34 نکات کے مطابق مکمل طور پر یا بڑی حد تک اقدامات کرلیے ہیں اور گرے لسٹ سے ملک کو نکالے جانے کا باضابطہ اعلان کرنے سے قبل ان اقدامات سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینے اور تصدیق کے لیے آن سائٹ مشن بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف، اے پی جی کے تشخیصی طریقہ کار کے تحت، فوری نتائج سے متعلق موثر درجہ بندی اس حد کو ظاہر کرتی ہے کہ ملک کے اقدامات کس حد تک موثر ہیں۔

یہ جائزہ ان 11 فوری نتائج کی بنیاد پر لیا جاتا ہے جو ان کلیدی اہداف کی نمائندگی کرتے ہیں جو موثر اے ایم ایل، سی ایف ٹی نظام کے لیے درکار ہیں۔

تاہم، اس درجہ بندی کا پیرس میں 18سے 22 اکتوبر کے دوران ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اس اجلاس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے جس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالے جانے کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

گزشتہ ماہ اے پی جی نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق ایف اے ٹی ایف کے مطلوبہ 40 میں سے 38 نکات اور ٹیکنیکل سفارشات پر پاکستان کی جانب سے عمل درآمد کو اہداف کے مطابق ‘مطابق’ یا ’بڑے پیمانے پر تعمیل کردہ قرار دیا تھا، تاہم اس نے اسلام آباد کو ‘انہانسڈ فالو اپ’ پر برقرار رکھا تھا جب تک کہ دو رہ جانے والی سفارشات پر مزید پیش رفت نہیں ہو جاتی۔

ان سفارشات پر عمل در آمد کا مطلب ہے کہ پاکستان نے ‘گرے لسٹ’ سے باہر نکلنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی تکنیکی سفارشات پر بڑی حد تک عمل در آمد کرلیا ہے لیکن ایف اے ٹی ایف کے مؤثر فوری نتائج سے متعلق اس کے اقدامات اب بھی غیر موثر ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

برطانوی حکومت کا غیرملکی ورکرز کیلئے ویزا پروگرام نرم کرنے کا فیصلہ

برطانوی حکومت کی جانب سے ویزا سسٹم میں نمایاں تبدیلیاں لائے جانے کا امکان ہے …