بدھ , 5 اکتوبر 2022

نظام بدلنا ہوگا؟

(مظہر برلاس)

قومی کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن کی طرح ہمارا انتظامی ڈھانچہ بھی زمین بوس ہو چکا ہے۔اس انتظامی ڈھانچے میں اکثریت آسیب زدہ افراد کی ہے۔ ہماری سول و ملٹری بیوروکریسی سب ایک سامراجی نظام کی باقیات ہیں یہاں اصلاحات کی ضرورت ہے دنیا میں کہیں بھی اتنے بڑے بڑے گورنر ہائوس ، کمشنر ہائوس اور ڈپٹی کمشنر ہائوس نہیں ہیں یہ سب کچھ محکوموں کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا ایک خوددار قوم کیلئے اسے ازسرِنو ترتیب دینا پڑے گا ۔کبھی آپ ریلوے کےافسروں کے بڑے بڑے گھر دیکھیں اور کبھی محکمۂ آب پاشی کے افسروں کے وسیع وعریض بنگلوں کا ہی رُخ کر لیں اور تو اور محکمۂ ڈاک کے افسروں کی عالی شان رہائش گاہیں بھی قابلِ دید ہیں ۔ لاہور کے جی او آر میں درختوں کی اوٹ میں چھپے ہوئے دلنشیں گھروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ملک کسی طور پر غریب نہیں ہے ۔

آپ نے کبھی سوچا کہ آج کل پاکستان کا ہر شہری ہزاروں نہیں لاکھوں روپے کا مقروض ہے اور یہ قرضے اس کے ذاتی نہیں ہیں بلکہ یہ وطن عزیز کے لئے گئے قرضے ہیں، ان قرضوں میں آئی ایم ایف ایک طرف تو خلیجی ممالک اور چین سمیت کئی ملک دوسری طرف ہیں ۔ ملک کے تجارتی خسارے کا حجم بہت بڑھ چکا ہے، ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں، ہمارے ہاں ٹیکس چوری کا کلچر عام ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہم نے اندرونی بینکوں سے بھی قرضے لے رکھے ہیں، ہمارا پاور سیکٹر قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے مگر اس صورتِ حال میں بھی ہمارے افسروںکو کوئی فکر نہیں، ان کا طرزِ زندگی شاہانہ ہے۔

مجھے یہاں ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے والے پاکستانی وفد کے رُکن نے سنایا تھا۔ اس نے کہا، ’’ہمارا پورا وفد فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرا، ہم سب لوگ سوٹڈ بوٹڈ ہو کر آئی ایم ایف والوں سے مذاکرات کرنے جاتے، ہم کوئی پیدل تھوڑا ہی جاتے تھے ہمارے لئے شاندار لیموزین گاڑیاںآتی تھیں، ہم ان اعلیٰ گاڑیوں پر قرضے کے لئے مذاکرات کرنے جاتے تھے ، ایک دن ایسے ہی مذاکرات میں وقفے کے دوران چائے کی میز پر مجھ سے آئی ایم ایف کے مذاکراتی وفد کے ایک رکن نے کہا کہ’’ جناب آپ کی شان وشوکت دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ آپ ہمیں قرضہ دینے آئے ہیں کیوں کہ آپ کا ہوٹل، گاڑیاں اور لباس اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ قرضہ لینے والے نہیں ہیں۔ ‘‘ جی ہاں! ہمارے حکمراں، ہمارے وزرا اور ہمارے افسران ایسا ہی کرتے ہیں ہمارے سفیر صاحبان بھی ملک کا نہیں سوچتے بلکہ ہمارے اکثر سفیروں کی دوسری بیوی کسی دوسرے ملک سے ہے پھر ہمارے سفیر ہمہ وقت اس تگ ودو میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے بچے اور کاروباربیرونِ ملک سیٹ ہو جائے ۔ہمارا ملک مقروض ہے مگر ہمارے ملک میں آج بھی سرگودھا ڈویژن کا کمشنر ایک سوچار کنال کے گھر میں رہتا ہے اس گھر کو سنبھالنے کے لئے ہمہ وقت 33ملازمین مستعد رہتے ہیں، ان ملازمین کا سارا خرچہ اس ملک کے ٹیکس سے ادا ہوتا ہے۔ ان کی تنخواہیں کمشنر صاحب اپنی جیب سے ادانہیں کرتے بلکہ یہ تنخواہیں ملکی خزانے سے ادا ہوتی ہیں۔ 2018ء کی بجٹ رپورٹ کے مطابق صرف آٹھ افسروں کی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش پر پاکستان کے خزانے سے چودہ ارب روپے خرچ ہوئے۔صرف سول و ملٹری بیوروکریسی ہی نہیں یہاں کے ججز کی مراعات کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ کس طرح ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اشرافیہ سترہ ارب ڈالرز مراعات کے نام پر کھا جاتی ہے۔

سرگودھا کے بعد آپ کو ملتان کی مثال دے دیتا ہوں جہاں کمشنر کا گھر 95کنال پر مشتمل ہے جو بہت مہنگی جگہ پر ہے۔ ملتان شہر میں ایک اولڈ کمشنر ہائوس بھی ہے جہاں کسی زمانے میں کمشنر صاحب رہائش پذیر ہوا کرتے تھے ،یہ اولڈ کمشنر ہائوس بھی 80کنال پر مشتمل ہے ۔کیا عیاشی ہے کہ یہ اولڈ کمشنر ہائوس بھی کمشنر صاحب کے قبضے میں ہے جہاں وہ اپنے مہمان ٹھہرا تے ہیں، آپ کو اندازہ نہیں کہ ہمارے ہاں ہر ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا گھر کئی کئی کنالوں پر مشتمل ہے ، یہاں ملازمین کی فوج ظفر موج خدمات انجام دیتی ہے، اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ افسروں کی بیگمات او ربچوں کی خدمت کیلئے دس دس بیس بیس ملازمین الگ سے ہیں،ان افسروں کے پاس درجنوں گاڑیاں ہیں آپ کو مزید حیرت اس بات پر ہو گی کہ پنجاب میں وزیر کے پاس ایک کھٹارا گاڑی ہو گی تو اسی محکمے کے سیکرٹری کے پاس آٹھ سے دس شاندار اور نئی گاڑیاں ہوں گی مگر یہاں پوچھنے والا کوئی نہیں ،یہاں کا پارلیمانی نظام بھی جاگیرداروں ،رسہ گیروں اور قبضہ مافیا کو پالتا ہے جب تک نظام تبدیل نہیں ہو گا ،جب تک نئے سرے سے انتظامی ڈھانچہ ترتیب نہیں دیا جاتا یہ جونکیں اس ملک کا خون چوستی رہیں گی۔آپ کے ذوق کے لئے اردو کی خوبصورت اور عظیم شاعرہ نوشی گیلانیؔ کا شعر؎

ہمارے درمیاں عہدِ شب مہتاب زندہ ہے

ہوا چپکے سے کہتی ہے ابھی اک خواب زندہ ہے

(Thanks by: Jang news)

 

یہ بھی دیکھیں

پاکستان، پاکستان ہے !

(محمد مہدی) بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کا حصول صرف اس وقت ہی ممکن ہے …