منگل , 27 ستمبر 2022

بے بس سیلاب متاثرین اور بے حس سیاستدان

سیلاب نے آدھے سے زیادہ پاکستان ڈبو دیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں انسانی جانیں اور لاکھوں کی تعداد میں مال مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ لاکھوں ایکڑ رقبے پر کھڑی اوربعض تیار فصلیں اور باغات تباہ ہو گئے۔ساڑھے تین کروڑ سے زائد انسان دربدر ہو گئے ۔

ہزاروں دیہات کا نام و نشان باقی نہیں رہا۔ سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان سندھ میں ہوا ہے۔ دوسرے نمبر پر بلوچستان میں بےحساب تباہی ہوئی ہے۔ کروڑوں لوگ بے گھر ہیں اور اب مختلف بیماریوں نے ان آفت زدگان کو گھیر لیا ہے۔ صاف پانی اور کھانے کی شدید قلت ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ ایک انسانی المیہ ہے جس نے پاکستان کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس قدرتی آفت نے پاکستانی معیشت کا توازن جو بڑی مشکلوں سے بننے لگا تھا پھر بگاڑ دیا ہے۔

سیلاب متاثرین کےمسائل اور مشکلات انتہائی گمبھیر ہیں۔ ان متاثرین کی دوبارہ آباد کاری ایک بڑا چیلنج ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بالکل درست کہا ہے کہ متاثرین کی آباد کاری تک یہ ایک طویل اور مسلسل عمل ہے۔
پاکستان ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور مقدور بھر مدد کی اور یہ سلسلہ فی الحال جاری ہے۔ اندرون ملک فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات کا اپنے بہن بھائیوں کی مدد کا جذبہ لائقِ تحسین ہے۔

سیلاب متاثرین کی مدد جس طرح افواج پاکستان نے کی اور کر رہی ہیں، یہ اپنی مثال آپ ہے۔ اور متاثرین کی آباد کاری تک ہر طرح سے مدد و تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔ قوم کو بجا طور پر اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔ ملکی دفاع سے لے کر ہر مشکل گھڑی اور دہشت گردی کے خاتمے تک کسی بھی مرحلے پر افواجِ پاکستان نے قوم کو مایوس نہیں کیا۔ پوری قوم پاکستانی افواج کے ملک و قوم کےلیے اس محبانہ جذبے پر اسے سلام پیش کرتی ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس نکتے کی صحیح نشاندہی کی ہے کہ بیرونی ممالک سے متاثرین کی امداد کا سلسلہ ایک وقت اور حد تک رہے گا۔لیکن ان متاثرین کو دوبارہ ان کے گھروں میں آبادکرنے اور ان کی زمینوں پر فصلیں اگانے تک ان کی مدد ہم کو خود کرنی ہے۔اس لئے مخیر حضرات کو دل کھول کر اس کار ِخیر میں حصہ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔

ذرا غور کریں کہ اس وقت جب کہ ملکی معیشت نہایت مشکل میں ہے، اس قدرتی آفت میں متاثرین کو سنبھالنا بہت بڑی آزمائش ہے۔ اب دو مشکل مرحلوں کا سامنا ہے ۔سیلاب متاثرین کی آباد کاری اور اس کے ساتھ ہی ملک کو چلانا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد اور اتفاق و پختہ عزم کے ساتھ نیک نیتی سے سب چلیں گےتو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ضرور یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا۔

نہایت افسوس کا مقام ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اس آفت کے مارے بہن بھائیوں کے لئے دنیا سے مدد کی اپیل کرتے ہیں تو اس حال میں بعض مفاد پرست اور ملک وقوم سے بے پروا، اپنے مفادات کے اسیر، ان کا مذاق اڑاتے ہیں ،یہ کتنے بےحس لوگ ہیں کہ خود تو ان آفت زدگان کے لئے کچھ بھی نہیں کرتے لیکن بیرونی ممالک اور اداروں کو بھی روکنے کی مذموم اور ناکام کوششیں کرتے ہیں کہ سیلاب زدگان کی مدد نہ کی جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے تمسخرانہ انداز میں کہا ہے کہ جس طرح شہباز شریف مانگتے ہیں ایسے کوئی نہیں مانگ سکتا۔

اسی طرح عمران خان نے گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں جلسے سےخطاب کے دوران وہ وڈیو چلوا کر تمسخر اڑایا جس میں شہباز شریف دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو سیلاب متاثرین کی ضروریات سے آگاہ کررہے تھے۔ ایسے مذموم رویے اور بیانات و تبصرے باعثِ شرم ہیں۔

دراصل یہ وزیر اعظم پاکستان کا نہیں بلکہ سیلاب سے تباہ حال ان مجبور ،بے گھر اور لاچاروں کا مذاق اڑانا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن ،جماعتِ اسلامی اور دیگر مخیر اداروں کو ان مصیبت کے ماروں کی عملی کرتے دیکھنا ہو تو سندھ،بلوچستان ،کے پی ، پنجاب اور شمالی علاقہ جات میں کوئی جا کر دیکھے۔ ان سب نے نہ کوئی ٹیلی تھون ڈرامے کئے نہ سیلاب زدگان کے نام پر چندہ اکٹھا کیا ،پیسے خود ہڑپ کئے۔ ان سب کی عوام میں اتنی ساکھ ہے کہ لوگ خود جا کر سیلاب متاثرین کے لئے امداد ان کے حوالے کرتے ہیں۔

ملک میں ایک طرف سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور دوسری طرف بعض لوگ سیاست سیاست کھیل رہے ہیں۔ جلسوں پر جلسے اور دھمکی آمیز بیانات دیئے جا رہے ہیں۔ اداروں کی توہین اور قانون کو نہ ماننے والے ہر ایک کے لئے برابر کے قانون کی باتیں کرتے ہیں۔ جلسوں میں کسی معزز جج کا نام لے کر ان کی تعریف کرنے کا کیا مقصد ہے جب کہ ان ہی کی عدالت میں تعریف کنندہ کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔

سیاست کے نام پر تمام حدود و قیود کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے جس سے اب تک اس نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے۔ ایک صاحب تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی عمران خان کو نااہل کر کے اسلام آباد سے باہر جا کر دکھائے۔ اب تو نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ انتخابات بھی زبردستی کرانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔

یہ سلسلہ اگریوں ہی جاری رہا تو کل جس کے پیچھے دو چار ہزار لوگ ہوں گے، وہ بھی اپنی من مانی کرےگا، اداروں کی توہین کرے گا ،اس طرح پاکستان خدانخواستہ کہیں شہر ناپرساں نہ بن جائے۔ یہ تو ملک کو جنگل کے قانون کی طرف لے جانے کے مترادف ہو گا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے تو پہلے بھی عرض کیا تھا کہ فی الحال اس کا کوئی امکان نہیں البتہ نظام کی تبدیلی ناگزیر ہے۔

یہ بھی دیکھیں

چین سی پیک منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کیوں نہیں کر رہا؟

(میاں عمران احمد) گل زیب خان گوادر کے رہائشی ہیں۔ وہ چھوٹے تاجر ہیں اور …