جمعہ , 7 اکتوبر 2022

کراچی میں ڈینگی بے قابو؛ اسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی

کراچی:کراچی میں ڈینگی کے بڑھتے کیسز کے سبب کئی اسپتالوں نے مزید مریض داخل کرنے سے منع کردیا ہے، جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈینگی سے متاثرہ مریض ایک سے دوسرے اسپتال منتقل کیے جا رہے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں 161 مریض مختلف اسپتالوں میں داخل کیے گئے ہیں، ستمبر کے 12 یوم کے دوران کراچی میں ایک ہزار 227 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار بچے ڈینگی بخار میں مبتلا ہورہے ہیں جو خطرے کی بات ہے، شہریوں کو چاہیے کہ وہ گھروں اندر اور باہر پانی جمع نہ ہونے دیں، صفائی کا خیال رکھیں، شام کے اوقات میں عوامی میل ملاپ سے گریز کریں۔

کراچی میں سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ڈینگی بخار میں مبتلا مریضوں کے لیے مختص وارڈز مریضوں سے بھر گئے ہیں جس کے بعد اسپتالوں نے مزید مریض داخل کرنے سے انکار کردیا ہے اور جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کو ایک سے دوسرے اسپتال ریفر کیا جانے لگا ہے۔

جناح اسپتال شعبہ ایمرجنسی کے سربراہ ڈاکٹر سکندر کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ڈھائی سو کے قریب مریضوں کو لایا گیا ہوگا، جناح اسپتال میں چار میڈیکل وارڈز موجود ہیں جہاں ڈینگی بخار میں مبتلا مریضوں کو داخل کیا جاتا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت چاروں وارڈز میں ڈینگی وائرس کا شکار مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے ان وارڈز پر دبائو بڑؑھ گیا ہے اور وارڈ میں دوسری بیماریوں کے نتیجے میں داخل مریض بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

ڈینگی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے جناح اسپتال میں علیحدہ وارڈ قائم کیا ہے جہاں 50 مریضوں کی گنجائش موجود ہے۔

رتھ فائو سول اسپتال کراچی کی میڈیکل سپرینٹنڈنٹ ڈاکٹر روبینہ بشیر نے کہا کہ سول اسپتال کی ایمرجنسی میں یومیہ 40 کے قریب مریض ایسے آتے ہیں جن کی علامات ڈینگی وائرس سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔

ایمرجنسی آنے والے ان مریضوں کے بلڈ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جس کے بعد ڈینگی وائرس کی تصدیق ہونے اور پلیٹی لیٹس کی کمی پر میڈیکل وارڈز میں منتقل کیا جاتا ہے،

انہوں نے بتایا کہ سول اسپتال میں 5 میڈیکل وارڈز ہیں جہاں ڈینگی وائرس کے مریضوں کو داخل کیا جا رہا ہے، اس وقت ڈینگی کے بڑھتے مریضوں کی وجہ سے ان وارڈز میں رش ہے۔

عباسی شہید اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نعیم نے بتایا کہ عباسی شہید میں میڈیکل کے تین وارڈز میں ڈینگی مریض داخل کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ہمارے پاس 40 بستروں کا ایک ورڈ الگ سے موجود ہے جسے ضرورت پڑنے پر ڈینگی کے مریضوں کے لیے مختص کردیا جائے گا۔

انسٹیٹیوٹ آف انفیکشیس ڈیزیز کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالواحد راجپوت نے بتایا کہ ان کے اسپتال مین اس وقت ڈینگی وائرس کے 60 مریض داخل ہیں اور اسپتال میں مزید جگہ موجود نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی کے لیے مخصوس وارڈ بنانے کے لیے ان کے پاس اب جگہ موجود نہیں ہے۔

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے صدر ڈاکٹر عبداللہ متقی نے سماء ڈیجیٹل کو باتای کہ اس وقت شہر کے اسپتالوں میں ڈینگی بخار میں مبتلا مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اس لیے تمام سرکاری اسپتالوں میں کووید کی طرز پر ڈینگی وائرس کے مریضوں کے لیے علیحدہ وارڈ بنانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اسپتالوں میں جگہ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اسپتال مزید مریضوں کو لینے سے انکاری ہیں اور مریض ایک سے دوسرے اسپتالوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔

جن دوسرے وارڈ میں ڈینگی کے مریض داخل کیے جا رہے ہیں وہاں دوسری بیماریوں کا شکار مریض کو مشکالت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ماہر امراض خون اور چلڈرن اسپتال گلشن اقبال کے سربراہ ڈاکٹر ثاقب انصاری کہا کہ ڈینگی کے بڑھتے مریضوں کے پیش نظر ڈینگی کے لیے مخصوص علیحدہ وارڈ بالکل ہونا چاہیے اس کے نتیجے میں مریضوں کے لیے گنجائش بنے گی دوسرا ڈینگی وائرس کا پھیلائو بھی رکے گا۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وائرل انفیکشن کوئی بھی ہو اس میں بعض مریض 80 ہزار پلیٹی لیٹس پر بھی بلیڈ کرجاتے ہی اور بعض مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو انتہائی کم پلیٹی لیٹس پر بھی بلیڈ نہیں کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ڈینگی وائرس ایک تو پلیٹی لیٹس کی تعداد میں کمی کرتا ہے دوسرا ان پلیٹی لیٹس کی کوالٹی بھی متاثر کرتا ہے جس سے کم قوت مدافعت والے مریضوں میں خون جمانے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اور ایسے میں اچھے خاصے پلیٹی لیٹس ہونے کے باوجود مریض کے جسم کے کسی بھی حصہ سے خون بہنا شروع ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر ثاقب انصاری کا کہنا تھاکہ ڈینگی سے متاثر ہونے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے جن کی عمریں 15 سے 30 سال کے درمیان ہیں کیونکہ اس عمر کے نوجوان شام کے اوقات مین ہوٹلوں پر بیٹھتے ہیں، باہر گیدرنگز کرتے ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان دنوں میں باہر بیٹھنے سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس بار دو سے پانچ سال کی عمر کے بچے بھی ڈینگی وائرس کا شکار ہو رہے ہیں جو خطرناک صورتحال ہے، والدین کو چاہیے کہ بچوں کو شام کے اوقات میں باہر نہ نکلنے دیں ، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ لانگ ٹرم پلاننگ کرے، انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اگلے سال جب بارشیں ہوں تو پانی جمع نہ ہونے پائے اور مون سون شروع ہوتے ہی مچھر مار اسپرے کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں خصوصا بچوں و فل آستین والے کپڑے پہنائے جائیں، ان دنوں میں جہاں بھی فوارے ہوں بند کر دیے جائیں، گملوں ، نالیوں، پنکچر شاپس میں موجود ٹائروں میں پانی جمع نہ ہونے دیں، گھروں میں بھی پانی جمع کرنے والے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھیں، گھر کے اندر اور باہر پانی جمع نہ ہونے دیں۔

اگر تین دن تک بخار نہ اترے تو ڈینگی اور ملیریا کے تشخیصی ٹیسٹ کروائے جائیں، بخار توڑنے کے لیے پیراسیٹامول کھائیں، سیلف میڈیکیشن سے گریز کریں اور مستند قریبی معالج سے رجوع کریں۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں 161 مریض مختلف اسپتالوں میں داخل کیے گئے ہیں، ستمبر کے 12 یوم کے دوران کراچی میں ایک ہزار 227 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، رواں برس کراچی میں ڈینگی وائرس کے 3 ہزار 434 کیسز اور 9 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں غربت کی شرح میں 2.5 فیصد سے 4 فیصد اضافے کا خدشہ،رپورٹ

لندن:عالمی بینک نے سیلاب سے پاکستانی معیشت کو 40 ارب ڈالر تک نقصانات کا تخمینہ …