منگل , 27 ستمبر 2022

ڈینگی کی علامات اورعلاج کیا ہیں؟

اسلام آباد:ملک میں آج کل ایک مرتبہ پھر ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے، اس لئے اس بیماری کی علامات جاننا انتہائی ضروری ہے تاکہ بروقت علاج کو یقینی بنایا جاسکے۔

ڈینگی وائرس ایک خاص قسم کے مچھر ایڈیز (Aedes) کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہی مچھر زیکا، چکن گونیا اور دیگر وائرس بھی پھیلاتے ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ہر سال 40 کروڑ افراد ڈینگی کا شکار بنتے ہیں۔ جن مین سے 10 کروڑ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور کم و بیش 40,000 اس وائرس کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ایک شخص کتنی بار ڈینگی کا شکار ہوسکتا ہے؟

سائنسدانوں کے مطابق کرونا کی طرح ڈینگی کی بھی 4 اقسام ہیں، جنہیں عام طور پر ڈینگی وائرس 1، 2، 3، اور 4 کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ایک شخص اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ 4 بار ڈینگی وائرس سے متاثر ہوسکتا ہے۔

ڈینگی کا ہر شکار بیمار نہیں ہوتا

ماہرین طب کے مطابق ڈینگی مچھروں کا شکار ہر شخص بیمار نہیں ہوتا۔ کسی بھی انسان کی قوت مدافعت اسے اس مرض کی شدت سے بچاتی ہے۔ ڈینگی کے شکار ہر 4 میں سے سے ایک فرد میں ہی ہی اس کی علامات سامنے آتی ہیں۔

ڈینگی سے بیمار ہونے والے 20 میں سے 1 شخص اس سے شدید متاثر ہوتا ہے۔شیر خوار بچوں اور حاملہ خواتین کو اس کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

علامات:

ڈینگی کے مریض میں اس کی علامات عام طور پر مچھر کے کاٹنے کے 4 سے 6 دن بعد سامنے آتی ہیں۔ عام طور پر ڈینگی کے مریض اس کی علامات کے باعث اسے عام بخار سمجھتے ہیں لیکن چند علامات سے اس کی تشخیص ممکن ہے۔

## تیز بخار

مریض کو تیز بخار ہوتا ہے اور اس دوران بخار کے دوران مریض غنودگی کی کفیت میں مبتلا رہتا ہے۔

## سر اور آنکھوں کے پیچھے شدید درد

ڈینگی کے مریضوں میں سب سے عام علامت شدید سر درد اور خاص طور پر آنکھوں کے پیچھے عضلات میں درد ہے۔

## ہڈیوں اور جوڑوں میں درد

ڈینگی کا مریض جسم خصوصاً سر، کمر اور ٹانگوں میں شدید درد محسوس کرتا ہے ۔

## متلی اور قے

ایڈیز مچھر کا کاٹا مریض کو 2 سے 7 روز متلی محسوس ہوتی ہے اور اس دوران وہ قے بھی کرسکتا ہے۔

## خارش اور جسم پر سرخ نشان

ڈینگی کے مریض کے جسم بالخصوص کمر پر سرخ نشان پڑجاتے ہیں اور ان جگہوں پر خارش ہوتی ہے۔

## خون کا بہاؤ اور دھڑکن متاثر

ڈینگی کا وائرس خون کے بہاؤ اور دل کی دھڑکن کو بھی متاثر کرتا ہے اور اس سے فشارِ خون یا بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

## مریض کیا کرے

اگر کسی شخص میں ان میں سے چند علامات پائی جائیں تو فوری طور پر اپنے معالج سے رابطہ کرے اور تجویز کی گئی دواأں کا استعمال شروع کردے۔

جتنا ممکن ہو آرام کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ بخار پر قابو پانے اور درد کو دور کرنے کے لیے پیراسیٹامول لیں۔ اسپرین یا آئبوپروفین نہ لیں۔جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں، اس کے لئے ایسے مشروبات استعمال کریں جس سے جسم میں نمکیات کی کمی نہ ہو۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت کا پیناڈول اور پیراسیٹا مول بنانے والی کمپنیوں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے پینا ڈول اورپیرا سیٹا مول بنانے والی کمپنیوں کو سبسڈی دینے …