جمعہ , 7 اکتوبر 2022

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی مسلمانوں سے نفرت انتہا کو پہنچ گئی

نئی دہلی:بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی مسلمانوں سے نفرت انتہا کو پہنچ گئی۔ ریاست کرناٹک میں ہندو تہوار گنیش چتھرتھی پر حکمران جماعت بی جے پی رہنما کی زیرِ قیادت جلوس نکالا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جلوس میں شریک انتہا پسند مسجد کے باہر ساری رات گانے گاتے رہے۔ مسجد کے باہر شور و غل اور غل غپاڑہ مچایا جاتا رہا۔

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں اور مظالم کا سلسلہ برقرار ہے۔ ریاست اتر پردیش کی مقامی عدالت نے بنارس کی مسجد میں پوجا کی اجازت دینے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔

عدالت نے گزشتہ روز مسلم جماعت انجمن کمیٹی کی اُس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں ہندو پجاریوں کے مقدمے کو چیلنج کیا گیا تھا جو کہ بنارس کی گیان واپی مسجد کے احاطے میں عبادت کرنے کی اجازت کی درخواست کر رہے تھے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک ہندو فریق نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ مذکورہ مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔

اس درخواست کی دوسرے مسلمان فریق نے مخالفت کی اور عدالت سے درخواست خارج کرنے کا مطالبہ کیا تاہم عدالت نے درخواست پر سماعت 22 ستمبر کو مقرر کردی۔

رواں سال شہر بنارس میں گیان واپی مسجد کے احاطے سے مبینہ طور پر مورتی کا ایک حصہ ملنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس کے بعد ہندو پجاریوں کا کہنا تھا کہ دیوتا کی مورتی کا یہ حصہ شیولنگ ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت مانگی۔

 

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب میں سماجی کارکنان سزا مکمل ہونے کے باوجود پابند سلاسل

ریاض:سعودی عرب میں سماجی کارکنوں کے متعدد قیدی اپنی سزا پوری ہونے کے باوجود سلاخوں …