جمعرات , 6 اکتوبر 2022

لز ٹرس کی وزارت عظمیٰ اور پاکستانی تارکین وطن

(عمر کریم)

برطانیہ میں موسم گرما اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔ ایسے میں برطانوی سیاسی درجہ حرارت بھی تبدیل ہو رہا ہے۔سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، جن کی سیاسی کشتی کافی عرصے سے مختلف طوفانوں سے نبرد آزما تھی، آخر ڈوب گئی اور انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

برطانیہ میں 2019 کے عام انتخابات کے بعد بورس جانسن قومی سیاست میں بلاشبہ ایک نہایت طاقت ور شخصیت کے طور پر ابھرے تھے۔ان کا عوامی انداز اور منفرد اطوار کئی ایسے حلقوں میں بھی مرکز نگاہ بنا جو روایتی طور پر کنزرویٹو پارٹی کے ووٹر شمار نہیں ہوتے۔

2019 کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو سب سے بڑی کامیابی شمالی انگلستان کے ان علاقوں میں حاصل ہوئی جو تاریخی طور پر لیبر پارٹی کے مضبوط گڑھ شمار کیے جاتے اور سرخ دیوار کہلاتے تھے۔بورس جانسن نے بریگزٹ کے نعرے کو نہایت کامیابی کے ساتھ استمعال کیا۔

اس بیانیے نے خصوصاً سفید فام محنت کش طبقے کو متاثر کیا، جس نے لیبر پارٹی سے اپنی وفاداری کو خیرباد کہتے ہوئے پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں کنزرویٹو امیدواروں کو ووٹ دیا اور تاریخی کامیابی دلوائی۔

مارگریٹ تھیچر کے بعد بورس جانسن وہ پہلے وزیر اعظم ٹھہرے جنہوں نے اس قدر تاریخ ساز پارلیمانی اکثریت حاصل کی۔لیکن کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں کے مصداق ان کی اس تاریخی فتح کو بھی جلد نظر لگ گئی۔

کرونا وبا کے دوران وزیر اعظم کی رہائش گاہ میں ہونے والی خلاف قانون تقریبات کو عوامی حلقوں میں شدید ناپسندیدگی سے دیکھا گیا۔

اس پارٹی گیٹ سکینڈل کے منظرعام پر آتے ہی ان کا سیاسی زوال شروع ہو گیا اور ایک ایک کر کے ان کے حامی ان کا ساتھ چھوڑنے لگے۔وہ شاید اپنے عہدے پر ڈٹے رہتے مگر ان کی کابینہ کے اہم وزرا کے استعفوں نے بازی پلٹ دی اور ان کو وزارت عظمیٰ کا منصب چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

ان کی جانشینی کے لیے کنزرویٹو پارٹی میں کئی گروہ برسر پیکار تھے اور جلد ہی پارٹی کے اندر ایک خانہ جنگی کی سی فضا بن گئی۔آخر کو مقابلہ سابق وزیرخزانہ رشی سونک اور وزیر خارجہ لزٹرس میں رہ گیا۔

اگرچہ بھارتی نژاد رشی سونک کو کنزرویٹو پارٹی کے پارلیمانی ممبران کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی لیکن پارٹی کے نئے سربراہ کا انتخاب پارٹی ممبران نے کرنا تھا۔

یوں تو کنزرویٹو پارٹی کی صفوں میں نسلی تنوع بڑھا ہے اور بہت سے ایشیائی اور سیاہ فام چہرے پارلیمان میں پارٹی کی نمائندگی کرتے بھی نظر آتے ہیں لیکن آج بھی جماعت کے اراکین کی اکثریت سفید فام مرد اور خواتین پر مشتمل ہے، جن کے لیے ایک ایشیائی نژاد فرد کو پارٹی کا سربراہ اور برطانوی وزیراعظم بنانا شاید قدر مشکل تھا۔

ایسے میں قرعہ فال سفید فام لز ٹرس کے نام نکلا اور یوں وہ برطانیہ کی تیسری خاتون وزیراعظم بن گئیں۔لز ٹرس کا ماضی بھی نہایت دلچسپ ہے۔ وہ زمانَۂ طالب علمی کے دوران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ تھیں اور پارٹی کی آکسفورڈ یونیورسٹی تنظیم کی سربراہ بھی رہیں۔

اس دوران وہ بادشاہت کے خاتمے کی بھی حامی رہیں، لیکن دیگر سیاست دانوں کی طرح لز ٹرس نے بھی اپنا سیاسی قبلہ اور نظریات تبدیل کر لیے اور کنزرویٹو پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔

2010 سے لز ٹرس مشرقی برطانیہ کے دیہاتی علاقے نارفوک سے رکن پارلیمان ہیں اور کابینہ میں مختلف عہدوں پر براجمان رہی ہیں۔

اگرچہ ان کا شمار کنزرویٹو پارٹی کے صف اول کے رہنماؤں میں ہوتا ہے لیکن اپنے بدلتے سیاسی رجحانات اور نظریات کی وجہ سے ان کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

بہت سے سیاسی پنڈت یہ سوچ رکھتے ہیں کہ بطور وزیراعظم ٹرس زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہو پائیں گی اور نتیجتاً کنزرویٹو پارٹی اگلے عام انتخابات میں پارلیمانی اکثریت کھو سکتی ہے۔

برطانوی سیاست کے ان تغیرات کا اثر جہاں دوسرے نسلی گروہوں پر ہوتا ہے وہیں اس کے اثرات پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں پر بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔نئی وزیراعظم کی مرکزی کابینہ میں کسی پاکستانی نژاد ممبر پارلیمان کو شامل نہیں کیا گیا۔

صرف ایک پاکستانی نژاد رکن پارلیمان نصرت غنی کو وزیر مملکت کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔اس کے برعکس دو بھارتی نژاد وزرا مرکزی کابینہ کے رکن ہیں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بورس جانسن کی طرح ٹرس حکومت میں بھی بھارتی نژاد ممبر پارلیمان کو پاکستانی نژاد مبران پر فوقیت دی گئی ہے۔2019 کے انتخابات کے دوران بننے والی سیاسی فضا نے اس رجحان میں خاص کردار ادا کیا۔

آخری عام انتخابات میں 15 کے قریب پاکستانی نژاد امیدوار کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کی طرف سے ممبر برطانوی دارالعوام منتخب ہوئے تھے۔مگر پاکستانی نژاد تارقین وطن کی اکثریت نے اپنے ووٹ لیبر پارٹی کے امیدواروں کو دیے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جیریمی کوربن کی سربراہی میں لیبر پارٹی نے مسئلہ کشمیر پر واضح موقف اپناتے ہوئے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت میں قرارداد منظور کی تھی۔

اس سیاسی اقدام نے برطانیہ میں بسنے والے بھارتی نژاد تارکین کو لیبر پارٹی سے ناصرف بدظن کیا بلکہ ردعمل کے طور پر اس بھارتی لابی نے اپنا پورا سیاسی بوجھ کنزرویٹو پارٹی کے پلڑے میں ڈال دیا۔

اس طرح ان انتخابات میں پہلی بار پاکستان اور بھارت کی سیاسی مخاصمت اس قدر کھل کر برطانوی سیاست میں بھی سامنے آئی۔

چونکہ کنزرویٹو پارٹی ان انتخابات میں ظفریاب ہوئی اس لیے نئے حکومتی نظام میں بھارتی اثرو نفوذ غالب رہا۔بورس حکومت میں کئی ایسے فیصلے کیے گئے جہاں بھارت اور پاکستان کے لیے دوہرا میعاراپنایا گیا۔برطانیہ نے کرونا وبا کے دوران پاکستان اور بھارت دونوں ممالک پر سفری پابندیاں لگائیں۔

بھارت سے یہ پابندیاں جلد اٹھا لی گئیں لیکن پاکستان کو جہاں کرونا کا پھیلاؤ قدرے کم تھا برطانوی ریڈ لسٹ میں مزید کئی ہفتوں تک رکھا گیا۔

لہذا اس بات کا غالب امکان ہے کہ پاکستان اور پاکستانی نژاد تارکین وطن کی طرف یہ سیاسی رجحان لز ٹرس حکومت میں بھی برقرار رہے گا۔

اگرچہ موجودہ لیبر پارٹی کی قیادت مسئلہ کشمیر پر اپنے سابق موقف سے پیچھے ہٹ چکی ہے لیکن پھر بھی امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں برطانوی حکومت کی تبدیلی کی صورت میں برطانیہ کی بھارت نواز پالیسی میں شاید کچھ تبدیلی واقع ہو۔بشکریہ دی انڈپینڈینٹ

 

یہ بھی دیکھیں

ایران پر خوردبین لگائے اہل وطن، یہ فساد ہے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس) ایران میں خواتین کتنی آزاد ہیں؟ اس کا اندازہ آپ کو …