پیر , 26 ستمبر 2022

شامی قبائل کا امریکہ اور ترکی سے شام سے نکلنے کا مطالبہ

دمشق:شام کے قبائلی عمائدین نے ملک کی ارضی سالمیت پر زور دیتے ہوئے ، امریکی اور ترک فوج کے فوری اور غیرمشروط انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔شمال مشرقی شام میں آباد قبیلے الراشد کے عمائدین کا جرگہ قامشلی کے نواحی گاؤں عامریہ الحسو میں منعقد ہوا جس میں امریکی اور ترک فوج کی غاصبانہ موجودگی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قبیلہ الراشد کے سربراہ شیخ حسین الحسو کا کہنا تھا کہ صوبہ الحسکہ کے تمام لوگ اس جرگے کے ذریعے ، اپنے ملک میں امریکی اور ترک فوج کی موجودگی کی کھلی مخالفت کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ الحسکہ کے قبائل اور شہری ملک کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کے تحفظ پر زور اور شامی فوج کے حمایت کرتے ہیں جو عوام کی سلامتی کی ذمہ دار ہے۔

جبور قبیلے کے سربراہ حسن المسلط نے اس موقع پر کہا کہ اس اجتماع میں شریک قبائلی عوام یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ملک میں بیرونی مداخلت اور غاصبوں کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غاصب امریکی فوجی تو ہمارے ملک سے تیل اور گندم چوری کرکے لے جارہے ہیں جبکہ ترکیہ والے ہمارے پانی اور بجلی کے نیٹ ورک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایک اور قبائلی رہنما احمد المحمد نے یہ بات زور دے کر کہی کہ شام کے عوام ملکی وحدت کے حامی اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کے عوام ایک خاندان کے فرد ہیں اور وہ کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ ہمارے قدرتی ذخائر پر ہاتھ صاف کرے اور ہمارے درمیان تفرقہ پھیلانے کی کوشش کر ے۔

قابل ذکر ہے کہ شام کے شمال مشرقی علاقے قدرتی ذخائر سے مالا مال ہیں یہی وجہ ہے امریکہ اور ترکیہ اپنے آلہ کاروں کے ذریعے، یہاں سے تیل اور گندم کی اسمگلنگ میں مصروف ہیں۔شام کے نائب وزیر خارجہ بشارجعفری کا کہنا ہے کہ امریکی قبضے اور تیل چوری اور ترکیہ کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت، بحران جاری رہنے کی اصل وجہ ہے۔

نائب وزیر خارجہ بشار الجعفری کا کہنا تھا کہ امریکا اور ترکیہ نے شام میں بحران کو بڑھاوا دینے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ بشار الجعفری نے انقرہ کے تباہ کن اقدامات کو عالمی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

 

یہ بھی دیکھیں

امریکہ کے لیے ترکیہ سب سے اہم ممالک میں سر فہرست ہے: ترک وزیر خارجہ

نیویارک:وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا کہ جب امریکہ کی ترجیحات پر غور کیا …