پیر , 26 ستمبر 2022

کیا فیصل مسجد صرف مردوں کے لیے مختص ہے؟

(صوفیہ کاشف)

کوئی بھی اسلام آباد پہلی بار آئے تو جس جگہ حاضری لازم ہوتی ہے اس کا نام فیصل مسجد ہے۔ صرف پاکستان سے ہی نہیں باہر سے بھی کوئی مہمان آئے تو سب سے پہلے فیصل مسجد ہی دیکھنا چاہتا ہے۔ یہیں پر بس نہیں بلکہ کوئی بھی شہزادہ شہزادی، کوئی بادشاہ، وزیر، کوئی خصوصی مہمان پاکستان کے دورے پر ہو تو اسے بھی جس مقام پر لازماً لے جایا جاتا ہے وہ فیصل مسجد ہی ہے۔

ہم اب یہ سوچ رہے ہیں کہ جس مقام کی تعمیر کے لیے پیسے باہر سے آئے ہوں، سنگِ بنیاد اور افتتاح تک آپ نے نہ کیا ہو وہ کسی مہمانِ خصوصی کو دکھانے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ کسی بھی طرح آپ کی کوئی کامیابی یا کارکردگی نہیں۔

چلیں اگر آپ کہتے ہیں کہ دکھانا ضروری ہے کیونکہ اسے قومی مسجد کا درجہ حاصل ہے تو کم سے کم اسے اتنا صاف ستھرا اور محفوظ تو رکھیں کہ دوسروں کو فخر سے دکھانے کے قابل ہو۔ آپ نے اس تحفے کا جو حشر کردیا ہے اسے دیکھ کر تو بس عبرت حاصل کی جاسکتی ہے، اور یہ بات ہم کیوں کہہ رہے ہیں یہ ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

سب سے پہلے تو مسجد میں داخل ہوتے ہی جوتے سنبھالنے والوں کے ٹھیلے کسی مچھلی بازار کا منظر پیش کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے مسجد نہیں کسی جمعہ بازار میں آگئے ہیں۔ ٹوٹی ٹوکریوں میں جوتے ڈالنے کے بعد انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ جس فرش پر کھڑا ہے وہ بہت گندا ہے۔ شاید روزانہ کی صفائی کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ جوتیاں سنبھالنے والوں کے ان ٹھیلوں سے بہتر بھی کئی چیزیں ہوسکتی تھیں جیسے کہ شوز ریک موجود ہونا مگر کیا کیجیے کہ ہمیں بھی سمجھ آتی ہے کہ یہاں کسی کی ذمہ داری بہت ضروری ہے ورنہ ہمارے ہاں آسمانی مخلوق جوتے اٹھا لیجانے پر قادر ہے۔

یہاں پر تمیز سے کچھ قطاریں جوتوں کے ریکس کی لگی ہوں، ان پر ترتیب سے جوتے رکھے جائیں اور ان کو کوئی اٹھا کر نہ لے جائے، یہ شاید یہاں ممکن نہیں، لہٰذا اس کو چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔ مٹی سے بھرے فرش پر چلتے ہوئے پاؤں اچھے خاصے مٹی سے لت پت ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ جب ہم نے یہ سب نظارے دیکھے تب اچھا خاصا بارشوں کا موسم تھا اور بارش نے صحن کو خاصی حد تک دھو رکھا تھا۔

اب اندر کی طرف چلنا شروع ہوئے تو مسجد کے احاطے میں فقیروں کی قطاریں نظر آئیں۔ یعنی مسجد کے احاطے کے گندے فرش پر جوتوں کی اجازت نہیں مگر فقیروں کو وہاں داخلے کی کھلی اجازت ہے۔ آخر ہم اب تک فقیروں کو قابو کیوں نہیں کرسکے؟ اب تک ایسا کوئی بھی پاکستانی نظام ایجاد کیوں نہیں ہوسکا جس کے ذریعے فقیروں کو قابو پانا ممکن ہوسکے۔

چلیں ان سے بھی نظر چرائیں اور آگے بڑھیں۔ یہ نیلے رنگ کی پرانی اور ٹوٹی ہوئی ٹائلوں والے تالاب دیکھیں جن میں پانی شاید کسی شاہی دورے پر بھرا جاتا ہے ورنہ اس کی میلی ٹائل دُور سے ہی نظر آجاتی ہیں۔ ویسے بھی پاکستان پانی کی شدید کمی کا شکار ہے تو ایسے میں اس حوض میں پانی خرچ کرنا یا ان ٹائلوں کی حفاظت اور صفائی پر خاصی محنت اور توجہ صرف ہوتی ہے جس کا ہمارے پیارے پاکستان میں خاصا قحط برپا ہے۔

یہاں پر داغی سفید پتھر آپ کے منتظر ہوں گے۔ کسی زمانے میں شاید یہ پتھر جگمگاتے ہوں گے مگر اب تو محض اسی سوچ کو دعوت دیتے ہیں کہ آخر خستہ اور عجیب و غریب رنگت والے پتھروں میں ایسی کونسی خاص بات ہے جسے کوئی خاص طور پر دیکھنے آئے، اس سے زیادہ چمکدار اور خوبصورت پتھر تو اسلام آباد کے رہائشی گھروں پر لگے ہیں۔ پھر تو بہتر ہے کہ لوگ اس شہر کے پوش علاقوں کا چکر لگا لیں جہاں اس مسجد کو سنبھالنے والے رہتے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ وہاں پتھر چمکتے بھی ہیں اور اربابِ اختیار کا صفائی ستھرائی اور دھلائی، رگڑائی کا ذوق بھی بہت عمدہ اور قابلِ داد ہے۔

اسی کشش کو ڈھونڈتے جس کے لیے ہر کتاب اور تعلیمی ادارے میں فیصل مسجد کا ایک سبق ضرور پڑھایا جاتا ہے ہم داخلی دروازے پر جا پہنچے۔ سامنے کے دروازے پر بلآخر وہ گارڈ کھڑے تھے جو لوگوں کو روک سکتے تھے۔ سامنے جتنے دروازے نظر آئے سب پر لکھا تھا مردوں کے لیے۔ اب عورتوں کا داخلہ کدھر ہے؟ دائیں سے بائیں دُور تک نظر دوڑائی تو آخری کونے میں جیسے ٹوائلٹ کی جگہ ہوتی ہے ویسے ہی ٹوائلٹ کے ساتھ ایک کونے میں 4، 5 مردوں کے دروازوں کے بعد ایک دروازہ عورتوں کے لیے نظر آیا۔

اس دروازے پر بھی ایک خاتون تالا لگائے نظر آئی کہ اندر داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ گن گن کر ایک آدھ خاتون کو داخلے کی اجازت مل رہی تھی۔ یہ دیکھ کر دل بہت خراب ہوا کہ عورتوں کے ساتھ اس قدر متعصبانہ سلوک کیوں کیا جارہا ہے؟ خاتون دربان سے درخواست کی تو اس نے ہم پر مہربانی کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا، یوں ہمارے ساتھ کچھ ایسی خواتین بھی اندر داخل ہوگئیں جو ناجانے کب سے داخلے کی منتظر تھیں۔

دروازے کی دربان خاتون کے ڈانٹنے ڈپٹنے کی آواز ہمیں دُور تک آتی رہی مگر ساتھ ہی اس غریب کی مجبوری بھی سمجھ آگئی۔ خواتین کے لیے مختص جگہ درحقیقت ٹوائلٹ سے بھی چھوٹی تھی۔ یونہی ایک کونے پر چند فٹ کی بالکونی جس پر گندا بدبودار قالین بچھا ہوا تھا۔

عرب امارات کی ہر مسجد میں عورتوں کی باقاعدہ آدھی جگہ نہ صرف رکھی جاتی ہے بلکہ وہاں کی عورت نماز کے لیے مسجد جاتی بھی ہے۔ سعودیہ کی ہر اہم مسجد میں ہم عورتوں کے باقاعدہ بڑے بڑے حصے دیکھ چکے ہیں۔ دونوں کے خانے الگ مگر جگہ کی تقسیم مساوی ہے۔ تو یہ کونسا نظام ہے جس میں مسجد کا پورا احاطہ مردوں کے لیے کھلا چھوڑ کر کونے کی چند فٹ کی گیلری میں مسکین عورت کو گھسا دیا گیا ہے؟ پھر وہ 2 فٹ کی کوٹھری بھی انتہائی بدبودار اور گندے قالین سے سجائی گئی تھی کہ سرخ قالین پر مٹی دُور سے اور ننگی آنکھ سے دیکھی جاسکتی ہے۔

اس بالکونی پر لٹک کر ہم نے دو گھڑی حسرت سے مسجد کے اس پورے احاطے کو دیکھا جس میں مرد چاروں طرف گھوم رہے تھے اور ایسے گھوم گھوم کر سیلفیاں لے رہے تھے جیسے کسی باغ میں پھر رہے ہوں۔ دوسری طرف ہمیں ایک ڈربے میں بند کردیا گیا تھا کہ ہم مسجد کی کوئی چیز، کوئی حصہ قریب سے نہ دیکھ سکتے تھے۔

انتہائی کبیدہ طبیعت سے ہمارا وہاں کھڑے ہونے کو بھی دل نہیں کیا۔ اس متعصب سلوک سے ہم وہاں سے ناراض ناراض اترے اور باہر کو چلے کہ بس بطور خاتون یہی ایک جھلک ہماری قسمت میں تھی۔

اب یہاں اگر کوئی یہ پوچھنا چاہے کہ ایسا نہ کریں تو کیسا کریں؟ تو جناب جنہوں نے یہ مسجد کے لیے گرانٹ دی ہے انہی سے سیکھ لیں۔ کوئی ایسا انتظام کرلیں جس کے بعد عورت اور مرد دونوں عزت سے مسجد میں داخل ہوسکیں اور نماز پڑھ سکیں۔ مگر مسجد کے ساتھ ہمارے ہاں وہ نظام نہیں پہنچ سکا جس میں عورت مسجد میں نماز پڑھنے کی حقدار ہے۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہے کہ عورتیں مسکینوں کی طرح باہر صحن میں کھڑی ہیں جبکہ مرد آزادی سے مسجد کے اندر باہر گھوم رہے ہیں۔

اس کے بعد واپسی کے راستے ہم نے کیا کچھ دیکھا اس کے لیے بہتر ہے کہ اوپر والا وہی حصہ دوبارہ پڑھ لیں کہ پھر سے گیٹ تک واپسی میں وہی کچھ دیکھا۔ ہاں ایک اضافہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ باہر نکلتے ہوئے کچھ غیر ملکی گورے خواتین و مرد گروپ کی شکل میں اندر جاتے نظر آئے، انہیں دیکھ کر سخت پیشمانی ہوئی کہ اب یہ بھی وہی کچھ دیکھنے والے ہیں جو ہم دیکھ کر آئے ہیں اور جو کسی طرح بھی قابلِ تعریف نہیں۔ یہ گورے جاکر کیا بتائیں گے کہ ہم بڑے پاک صاف بننے والے لوگ عبادت گاہوں کو کتنا گندہ رکھتے ہیں۔

ہمارا کوئی حکمران اور سرکاری افسر ایسا نہیں جس نے دنیا نہ دیکھ رکھی ہو۔ کیا عرب اور ترکی میں مسجدیں ایسی گندی رکھی جاتی ہیں؟ کیا لندن اور دبئی میں رہنے والے حکمران بتائیں گے کہ ان کے علاقوں میں مساجد تو کیا دکانیں اور مال بھی اتنے گندے ہوتے ہیں؟ مگر فیصل مسجد کیسی ہے ان کو کیا خبر کہ انہوں نے تو اپنی عبادت کے لیے مسجدیں اپنے ہی محلوں کے اندر بنالی ہیں اور یہاں شاید کسی شاہی دورے پر ہی مسجد کی کچھ صفائی ہوجاتی ہو۔ تاہم مہمان کو کیا نظارہ نظر آتا ہے وہ یا تو وہی جانتا ہے یا اس کا خدا جانتا ہے۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

دروازہ کربلا پر (سفرنامہ)

(تحریر: سید تنویر حیدر) ہیلو، ہیلو، ایزنی فرھنگی جمہوری اسلامی ایران، اسلام آباد سے رمضان …