جمعرات , 6 اکتوبر 2022

میونخ کا قتل عام جرمنی اور یہودیوں کے درمیان ایک دردناک معاملہ کیوں ہے؟

اسرائیلی مبصرین کا کہنا ہے کہ 1972 کے میونخ اولمپکس کے قتل عام کے لیے جرمنی کی معافی تھوڑی دیر سے آئی ہے اوریہ کہ انھیں جرمنی سے مزید توقعات تھیں۔ پچاس سال قبل 5 ستمبر 1972 کو مغربی جرمنی نے میونخ میں اولمپک گیمز کی میزبانی کی تھی۔

وہ اس تقریب کو دنیا کے سامنے اپنی ایک مختلف تصویر پیش کرنے کے موقع کے طور پر لینا چاہتا تھا، جو کہ تین دہائیوں پہلے کے بدلے ہوئے اس ماضی کےجرمنی کی تصویر ہے جب ایڈولف ہٹلر بر سر اقتدارتھا اور اس ملک نے 1936 میں برلن میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی تھی۔

لیکن ایک بہت بڑا سانحہ اس وقت رونما ہوا جب بلیک ستمبر کے عسکریت پسند گروپ کے آٹھ ارکان نے اولمپک ولیج ، جو کہ اسرئیلی وفد کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہا تھا، کے کوارٹرز میں ، دو افراد کو ہلاک کرنےکےبعدوفد کے نو افرادکو یرغمال بنا لیا۔

اس واقعہ کے نتیجے میں مسلح افراد اور جرمن سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان 24 گھنٹے تک خونریز مقابلہ جاری رہا۔ جیسے ہی پرتشدد یرغمالی عمل کا منظر اپنے اختتام کو پہنچاجو پہلے ہی جرمن سکیورٹی سروسز کی غلطیوں سے بدتر ہو گیا، کل 11 اسرائیلی ایتھلیٹس، ایک جرمن پولیس افسر کے ساتھ، ہلاک ہو گئے تھے – ہولوکاسٹ کے تین دہائیوں سے بھی کم عرصے بعد وقوع پذیر ہونے والے اس واقعے کے نتیجے میں یہودی ریاست میں گہری مایوسی پھیل گئی۔

جرمنی کی معذرت
اس پیر کو، فرسٹن فیلڈ برک ایئر بیس، جہاں فائنل شو ڈاون اپنے عروج پر پہنچ گیاتھا، قتل عام کے جرمن اعتراف کا مقام بن گیا – پہلا باضابطہ طور پر جاری کیا گیا،جس میں، صدر فرینک والٹر اسٹین میئر نے متاثرین کے اہل خانہ سے "معافی” کے لیے درخواست کی۔

"اس ملک کے سربراہ کی حیثیت سے اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کی جانب سے، میں آپ سے معافی مانگتا ہوں،” سٹین میئر نے متاثرین کے اہل خانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، جہاں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ بھی موجود تھے۔
"میں میونخ میں ہونے والے اولمپک گیمز میں اسرائیلی ایتھلیٹس کے تحفظ کی کمی اور بعد میں وضاحتیں تلاش کرنے کی کوشش میں کمی کے لیے آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ یہ میرا فرض اور میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنی جرمن ذمہ داری کا اعتراف کروں۔

ہاریٹز میں تاریخ کے نامہ نگار اوفر ایڈریٹ نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ جرمنی کو قتل عام کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریب میں "دستاویزات، شہادتیں، ذمہ داروں کے نام” کے ساتھ آنا چاہیے تھا نہ کہ محض معافی مانگنے کے لیے آنا چاہئے تھا۔

"بہت سے کھوکھلے جملےہوا میں اچھالے گئے … صدر فرینک والٹر اسٹین مائر کی قیادت میں جرمن حکام سے ‘ذمہ داری’، ‘معافی’ اور یہاں تک کہ ‘شرم’ جیسے الفاظ بار بار سنے گئے۔ لیکن جرمنوں نے ماضی میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے بالکل وہی الفاظ کہے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

"اس پس منظر میں، کوئی سوچ سکتا ہے کہ آیا جرمن معاشرے میں ان الفاظ کا کوئی مطلب ہے، یا کیا، اور اس کا زیادہ امکان ہے، یہ صرف وہی ہیں جو اس قسم کی صورت حال میں کہنا مناسب ہیں۔”

تمسخرانہ معاوضہ
اینکی سپٹزر کی عمر 26 سال تھی جب ان کے شوہر آندرے، جو اسرائیلی فینسنگ ٹیم کے کوچ تھے، بندوق برداروں کے ہاتھوں مارے گئے، اور اس دن کی یادیں ان کی زندگی پراب تک حاوی ہیں۔

اسپِٹزر نے قتل عام کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب سے قبل رائٹرز کو بتایا، "میری شادی آندرے سے صرف ایک سال اور تین ماہ ہوئی تھی، ہم ایک نوجوان جوڑے تھے، ایک چھوٹے بچے سے بہت پیار کرتے تھے، آپ جانتے ہیں کہ ہم دنیا میں سب سے اوپر تھے۔” .

"میں اولمپکس میں اس کے ساتھ تھی، اور میں ان کے قتل ہونے کے بعد کمرے میں تھی، اس کے چند گھنٹے بعد، اور میں نے ارد گرد دیکھا، سب کچھ خون سے لت پت تھا۔”

"میں نے اپنے آپ سے کہا… اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں تو میں کبھی چپ نہیں رہوں گی۔میں اس کے بارے میں بات کرنے سے کبھی بھی نہیں رکوں گی ، صرف ایک وجہ سے، تاکہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو۔”

دیگر رشتہ داروں اور زندہ بچ جانے والوں کے ساتھ، سپٹزر نے ابتدائی طور پر میونخ میں یادگاری تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا تھا، اس بات سے ناراض ہو کر وہ جرمنی کی طرف سے معاوضے کی پیشکش کو طنزیہ سمجھتے تھے، جب تک کہ گزشتہ ہفتے 28 ملین یورو کا تصفیہ نہیں ہو گیا۔

الانا رومانو، جن کے شوہر یوسف،جو کہ ایک ویٹ لفٹر تھا، حملے میں ہلاک ہونے والے کھلاڑیوں میں سے ایک اور تھا، نے کہا، "میرے لیے 1972 کا صدمہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ مجھے امید ہے کہ دنیا بہتر سمجھے گی اور مزید کچھ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ہاریٹز میں لکھتے ہوئے ایڈریٹ نے کہا کہ متاثرین کے خاندانوں کو دیے جانے والے معاوضے کے سلسلے میں روا رکھے جانے والے نا پختہ رویے نے یہ تاثر نہیں چھوڑا کہ "جرمنی میں کوئی بھی خاص طور پر اس پریشانی کی پرواہ کرتا ہے جسے ‘میونخ کے قتل عام کی 50 ویں برسی’ کہا جاتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ خاندانوں کے نمائندوں اور جرمن حکومت کے درمیان معاوضے پر بات چیت بے نتیجہ ہوگئی اور اہل خانہ نے تقریب میں شرکت کے لیے اس کی قرارداد کو بھی شرط قرار دیا۔

فریقین کو آخری لمحات تک انتظار کیوں کرنا پڑا؟ کیا یہ مذاکرات باوقار اور باعزت طریقے سے نہیں ہو سکتے تھے اور طویل عرصہ پہلے بغیر کسی اختلاف کے مکمل نہیں ہو سکتے تھے؟بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایران پر خوردبین لگائے اہل وطن، یہ فساد ہے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس) ایران میں خواتین کتنی آزاد ہیں؟ اس کا اندازہ آپ کو …