منگل , 27 ستمبر 2022

طالبان کی زیر قیادت افغانستان کے مسائل اور مواقع

(ڈاکٹر ندیم عباس)

محمد عامر خاکوانی پاکستان کے معروف صحافی ہیں، ان دنوں پاکستان کے صحافیوں کا ایک وفد کابل کے دورے پر ہے یہ اس وفد کا حصہ ہیں۔ انہوں نے وہاں جو کچھ دیکھا اس پر شذروں کی شکل میں اظہار خیال کر رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی مہنگائی اور وہاں کی معیشت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں "ایک افغانی تقریبا پونے تین پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ ستائیس سو پاکستانی روپوں کے ایک ہزار افغانی بنے۔ شرم آئی سن کر۔ پٹرول یہاں ستتر 77 افغانی ہے تقریبا دو سو سات روپے لیٹر جبکہ ڈیزل ستانوے افغانی فی لیٹر ہے۔ "ایک ایسی حکومت جس کے دنیا کے کسی ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں انہوں نے اپنی معیشت کو بہرحال اچھی طرح سنبھالا ہے۔

طالبان نے اپنی کرنسی کو مستحکم رکھا ہے اور تیل کی قیمت حیران کن حد تک پاکستان سے کافی کم ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس میں طالبان حکومت کی کارکردگی میں ایک اور چیز کو بھی سراہا گیا ہے وہ کرپشن میں کمی ہے۔ امریکی قبضے کے دوران افغانستان کے ہر ادارے میں کرپشن جڑ پکڑ چکی تھی اب اس میں کمی آئی ہے۔ اندرونی مسائل کی ہی بات کریں تو کابل جانے والے دوستوں کے بقول امن و امان کی صوتحال ابھی بھی تسلی بخش نہیں ہے بلکہ ہوٹل والے اور مقامی کہتے ہیں کہ اگر ایسی صورتحال درپیش ہو تو دے دلا کر جان چھڑا لیں یہی کافی ہے۔

طالبان کے پچھلے دور حکومت میں جس چیز کو سب سے زیادہ سراہا گیا تھا وہ ان کا اپنے زیر قبضہ علاقوں میں امن و امان کو بحال کرنا تھا، جس میں جان و مال محفوظ ہو جاتے تھے اسی لئے بڑے بڑے علاقے خود سے طالبان کے ساتھ شامل ہوگئے تھے۔ اس بار امن و امان کے معاملے بڑی کامیابی نہیں ملی ہے۔ طالبان کو ایک بڑا چیلنج طالبات کے اسکولوں کی بندش کی صورت میں درپیش ہے۔ طالبان کے اندر ہی ایسے بڑے طاقتور گروہ ہیں جو کسی صورت میں طالبات کو اسکول نہیں جانے دینا چاہتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پورے افغانستان کی بچیوں کا ایک سال ضائع ہوگیا ہے اور ملک کی نصف آبادی تعلیمی نظام سے باہر ہوگئی ہے۔ اس پر مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی طرف سے بھی شدید تنقید کی گئی ہے۔

طالبان کو اس کے ساتھ ساتھ احمد شاہ مسعود کے فرزند کی طرف سے ایک مزاحمتی گروہ کا بھی سامنا ہے۔ اگرچہ ابھی طالبان کا عروج ہے اور لوگ سہمے ہوئے ہیں جیسے جیسے وقت گزرے گا ویسے ویسے حالات مزید واضح ہوں گے۔ ڈرگ کی سب سے زیادہ پیداوار والے ممالک میں افغانستان موجود ہے، اس سے جہاں پاکستان اور ایران جیسے ممالک متاثر ہو رہے وہیں یہاں سے ڈرگز یورپ تک سپلائی ہوتی ہیں جو جرائم پیشہ افراد کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہیں۔ بالعموم دنیا طالبان سے یہ ڈیمانڈ رکھتا ہے کہ وہ اسی طرح افغانستان کو افیون سے پاک کریں گے جس طرح ملا عمر کے دور حکومت میں کیا گیا تھا جو واقعا ایک بڑا کارنامہ تھا۔

طالبان کے لئے بڑا مسئلہ بین الاقوامی دنیا سے تعلقات کو استوار کرنا ہے۔ اس میں طالبان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ افغانستان کے اربوں ڈالر دیگر ممالک بالخصوص امریکہ میں موجود ہیں جو انہیں اسی صورت میں مل سکتے ہیں جب وہ امریکہ کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عمل کریں گے۔ افغانستان میں حکومتی تبدیلی پر سب سے زیادہ خوشی پاکستان میں منائی گئی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اشرف غنی کی حکومت نے پاکستان سے معاندانہ رویہ رکھا اور انڈیا کے ساتھ یارانہ بنائے رکھا۔ امید تھی کہ طالبان کے آنے سے بازی الٹ جائے گی۔ ایسا ہوا نہیں بلکہ طالبان نے بڑی تیزی سے انڈیا کے ساتھ تعلقات کی بات کی اور انڈیا کے سفارتی حلقوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور براہ راست مذاکرات کے نتیجے میں تعلقات کو آگے بڑھایا۔

طالبان کے اس اقدام کو پاکستان میں اچھا نہیں سمجھا گیا کہ قربانیاں ہم دیں سارے پروپیگنڈوں کا مقابلہ ہم نے کیا اور اب تعلقات انڈیا سے بڑھائے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک فالٹ لائن ڈیورنڈ لائن کی ہے۔ اس حوالے سے طالبان کا موقف بالکل قوم پرستانہ ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے امریکی اور نیٹو کے انخلاء کو بھانپتے ہوئے بڑی تیزی سے بارڈر پر باڑ لگائی اور جدید ذرائع سے اسے مستحکم کیا۔ طالبان نے اس باڑ کی نہ صرف شدید مخالفت کی بلکہ بات کافی آگے تک بڑھ گئی تھی۔

طالبان نے تحریک طالبان پاکستان کو ایک ایسڈ کے طور پر رکھا ہوا ہے پاکستان اور ان کے درمیان مذاکرات کی ثالثی کرانے کی بھی کوشش کی ہے مگر اس کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا بلکہ اس کے برعکس ہوا اور طالبان سوات کے بندوبستی علاقے کے پہاڑوں پر نظر آنے لگے جہاں انہوں نے ریاستی اداروں کے اہلکاروں کو اغوا تک کیا۔ چین کی نظر سے دیکھا جائے تو اسے ایسٹ ترکستان اسلامک مومنٹ سے بڑا مسئلہ ہے اور چین اسے اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے ڈیل کرتا ہے۔

چین ہر صورت میں یہ چاہے گا کہ طالبان ایسٹ ترکستان اسلامک مومنٹ کے لوگوں کو تربیت نہ دیں اور جو لوگ چین سے بھاگ کر یہاں آ چکے ہیں انہیں واپس چین بھجوایا جائے۔ یہ مسئلہ آگے کیا نتائج دیتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر بہرحال ایک بڑا چیلنج ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑیں ڈال سکتا ہے۔ افغانستان کے پڑوسی ملک ازبکستان کے لئے اسلامک مومنٹ آف ازبکستان ایک سکیورٹی چیلنج ہے جو وہاں امن و امان کے مسائل پیدا کرتی رہتی ہے۔اس تنظیم کی عملی جڑیں بھی افغانستان میں ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ہمارے قبائلی علاقے جب بدامنی کا شکار تھے تو اس وقت یہاں بھی ازبکوں نے دہشت پھیلائی ہوئی تھی۔ ازبکستان کے ساتھ پرامن تعلقات کے لئے ازبک جنگجووں کے حوالے سے طالبان کی پالیسی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

چین ون بیلٹ ون روڑ کے تحت ایک ٹرین روٹ بنانا چاہتا ہے جس میں خطے کے ممالک جڑ جائیں گے اور باہمی تجارت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا۔ یہ طالبان کے لئے ایک موقع بھی ہے کہ پاکستان کو تحریک طالبان پاکستان، ازبکستان کو اسلامک مومنٹ آف ازبکستان اور چین کو ایسٹ ترکستان اسلامک مومنٹ کے حوالے سے جو شکایات ہیں انہیں دور کیا جائے اور پاکستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کیا جائے۔ اگر طالبان حکومت نے پڑوسیوں کے مسائل کو حل نہیں کیا تو ہر ملک کی طرح افغانستان میں بھی کافی فالٹ لائنز ہیں، یہ ممالک طالبان کے خلاف انہی فالٹ لائنز کو استعمال کریں گے جس سے یہ خطہ بدامنی کا شکار ہوجائے گا جو کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

توانائی بحران کے خدشات

(زمرد نقوی) کہا جا رہا ہے کہ موجودہ یورپ کا توانائی بحران جو 52 برس …