پیر , 3 اکتوبر 2022

مسجد ضرار فرقہ پرستی کا مرکز

(تحریر: ثاقب اکبر)

گذشتہ دنوں البصیرہ میں ہمارے ایک ساتھی نےجو اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں اور سالہا سال سے البصیرہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، بتایا کہ وہ نماز جمعہ کے لئے جس مسجد میں جاتے ہیں وہاں کے مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں ایک تو سیاہ لباس پہننے کے خلاف فتویٰ دیا اور کہا کہ خاص طور پر محرم کے پہلے دس دنوں میں سیاہ لباس نہ پہنیں۔ مزید کہا کہ یہ جو شیعہ حضرات ’’سبیل‘‘ لگاتے ہیں اس سے کچھ مت پئیں۔ ہمارے ساتھی نے بتایا کہ جب اس سطح کی فرقہ وارانہ باتیں سنیں تو میں نے پھر اس مسجد میں جانا ترک کردیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا ادارہ تو ہمیشہ اتحاد امت کی دعوت دیتا ہے اور اس کی تلقین کرتا ہے۔

اسی مسجد کے حوالے سے ہمارے مرکز میں کام کرنے والے ایک اور ساتھی نے بتایا کہ مسجد کے مولوی صاحب دیگر مسالک کے اہل سنت کو بھی معاف نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ایسے اختلافی بیانات کی وجہ سے میں کوشش کرتا ہوں کہ جمعہ کے روز مسجد میں اس وقت پہنچوں جب مولوی صاحب خطبے کے آخر میں پہنچ چکے ہوں لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی اختلافی بات سننے کو مل جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اختلافی مسائل کا اثر نہیں لیتا۔ ہمارے معاشرے میں مسجد کے کردار کے حوالے سے ہم ایک عرصے سے غوروفکر کرتے چلے آئے ہیں اور کئی مضامین اور مقالات اس حوالے سے سپرد قلم کر چکے ہیں۔

قرآن حکیم میں سورہ توبہ میں ایک مسجد کا ذکر کیا گیا ہے جو بعدازاں ’’مسجد ضرار‘‘ کے عنوان سے مشہور ہوئی۔ اب اس مسجد کا نام و نشان نہیں ہے بلکہ مدینہ کے مضافات میں وہ مقام جہاں پر یہ مسجد بنائی گئی تھی اب تک ایک مقام عبرت اور ویرانے کی حیثیت سے باقی ہے۔ اس مسجد کو تو نبی کریمؐ کے حکم پر آگ لگا دی گئی اور بعدازاں مدینے کا کوڑا کرکٹ اس مقام پر پھینکا جاتا رہا تاکہ اس کے تقدس کا شائبہ بھی مسلمانوں کے دلوں میں باقی نہ رہے۔ اس مسجد کے حوالے سے قرآن حکیم کی مذکورہ آیات بہت معنی خیز اور سبق آموز ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ مسجد کی بنیاد کیا ہونی چاہیے اور مسجد کا کون سا کردار اسے ’’مسجد ضرار‘‘ بنا دیتا ہے۔ آئیے قرآن حکیم کی مذکورہ آیات پر نظر ڈالتے ہیں۔

وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَىٰ ۖ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ‎O‏ لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ‎O أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ‎O‏ لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ‎O‏ (التوبہ۔107/110)

ترجمہ: کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لئے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اُس شخص کے لئے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور رسولؐ کے خلاف برسر پیکار ہو چکا ہے وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔ تم ہرگز اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لئے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لئے) کھڑے ہو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔ پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی (جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہوجائیں، اللہ نہایت باخبر اور حکیم و دانا ہے۔

ان آیات کا ترجمہ ہم نے مولانا مودودی کی تفہیم القرآن سے لیا ہے۔ بہرحال آیات بالکل واضح ہیں، تاریخ میں اس مسجد کے قیام کے حوالے سے بہت سی تفصیلات آچکی ہیں۔ غزوہء تبوک سے پہلے اسے بنایا گیا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آ کر اس میں نماز پڑھانے کی دعوت دی گئی۔ آپؐ نے اس کا جواب غزوہ تبوک کے بعد پر اٹھا رکھا اور بعدازاں آپؐ مدینے کی طرف لوٹے اور اس مقام پر پہنچے تو مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ دیگر تفصیلات کے لئے قارئین محترم تاریخ اور تفسیر کی کتب ملاحظہ فرمائیں۔ جو امور اس مسجد کے حوالے سے ان آیات سے ظاہر ہوتے ہیں، ان پر گہری نظر ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ سمجھ آ سکے کہ کیسی مسجد کو ’’مسجد ضرار‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل نکات قابل ذکر ہیں:

1۔ یہ مسجد معاشرے، سوسائٹی اور نبوت کے مقاصد کے لئے ضرر رساں ہوتی ہے۔
2۔ یہ مسجد کفر کے مقاصد پورے کرتی ہے، ایمان اور اسلام کے مقاصد پورے نہیں کرتی۔
3۔ یہ مسجد اہل ایمان میں تفریق اور فرقہ پرستی پیدا کرنے کا کردار ادا کرتی ہے اور اسی مقصد کے لئے بنائی جاتی ہے۔
4۔ یہ مسجد اللہ اور رسول کے خلاف لڑنے والوں کے لئے کمین گاہ اور مورچے کی حیثیت رکھتی ہے۔

مسجد ضرار کا بنیادی کردار تو یہی ہے جو ہم نے بیان کردیا ہے لیکن ایسی مسجد بنانے والوں کی خصوصیات بھی ان آیات میں بتائی گئی ہیں، ان پر بھی نظر ڈال لیں:
1۔ ان کے بنانے والے قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے یہ مسجد نیک مقاصد کے لئے بنائی ہے۔
2۔ ایسی مسجد بنانے والے جھوٹے ہیں۔
3۔ اس مسجد کے بنانے والے آخر کار دوزخ کی آگ میں جا گریں گے۔
4۔ یہ ایسے ظالم لوگ ہیں جو ناقابل ہدایت ہیں۔
5۔ اس کے بنانے والے ہمیشہ بے یقینی اور خلجان کا شکار رہیں گے یہاں تک کہ ان کے دل پاش پاش ہو جائیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی مسجد میں نماز پڑھانے سے روکا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں ایسی مسجد کا انتخاب کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ جس کی بنیاد اول دن سے خدا خوفی، پرہیزگاری اور تقویٰ پر رکھی گئی ہو جس کے بنانے والے اور جس کے نمازی طہارت اور تزکیہ نفس کی آرزو رکھتے ہوں۔ دونوں مسجدوں کا تقابل کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے کہ بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کے رضوان و رضا مندی پر رکھی ہو وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی ہو کہ وہ اسے دوزخ کی آگ میں لے گرے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں مسجد کا کردار مجموعی طور پر بہت ہی افسوسناک صورت اختیار کرچکا ہے۔ مسجدوں کی کمیٹیاں عام طور پر فرقہ پرست افراد پر مشتمل ہوتی ہیں اور مسجدوں کے خطیب اور مولوی بھی کسی خاص فرقے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ مسجدوں کے نام بھی اکثر ایسے رکھے جاتے ہیں کہ جو کسی فرقے سے مسجد کی وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں یا پھر مسجد کے باہر اور اندر ایسی علامتیں لگا دی جاتی ہیں جن سے ان کی فرقہ وارانہ شناخت ظاہر ہوتی ہو۔ مسجدوں کے مولوی صاحبان فرقوں سے وابستہ مدارس سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور وہ فرقہ وارانہ عصبیت پر زور دے کر ہی اپنا مقام معاشرے میں یا اپنے فرقہ کے لوگوں میں پیدا کرتے ہیں بلکہ اگر ایسا نہ کریں تو انہیں مسجد سے بے دخل ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ گاہے ضرورت سے زیادہ فرقہ وارانہ مسائل پر زور دیتے ہیں۔

ہم کسی خاص مسلک کی مسجد کی بات نہیں کررہے بلکہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہر مسجد جو مسجد ضرار کی مندرجہ بالا خصوصیات کی حامل ہے، وہ آج بھی مسجد ضرار ہے اگرچہ اس کا نام مسجد توحید یا مسجد مصطفیٰ رکھ دیا جائے اور ہر وہ مسجد جو اس مسجد کی خصوصیات کی حامل ہو جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ پہلے روز سے ہی تقویٰ کی بنیاد پر قائم کی گئی وہ اس قابل ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق اور ان کے راستے کے راہی، متقی، پرہیزگار، اہل ایمان آکر نماز پڑھیں اور اسے سجدوں سے آباد کریں۔

مسجد سے متعلق اور بھی مسائل ہیں جن میں مسجد کا استعمال، مسجد کے وسائل کا استعمال، مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اور دیگر بہت سے مسائل ذکر کئے جاسکتے ہیں لیکن ہماری رائے میں مسجد کا سب سے خطرناک استعمال اس کا فرقہ واریت کے فروغ اور معاشرے کو تقسیم کرنے کے لئے استعمال ہونا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسی بھی مساجد موجود ہیں جو مسلمانوں کو جوڑنے اور اللہ کے بندوں کے لئے بھلائی کا پیغام دینے کے لئے کردار ادا کررہی ہیں۔

ایسی مسجدوں کی انتظامیہ اور ایسی مسجدوں کے خطباء کو ہم اپنی محبت کا خراج پیش کرتے ہیں، ہم ان کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں اور دیگر مسجدوں کے خطباء اور کمیٹیوں سے بھی گذارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی مسجدوں کو نبی پاکؐ کے زمانے کی مسجد قبا اور مسجد نبوی کے کردار سے آراستہ کرنے کی کوشش کریں۔ ہم کئی مرتبہ گذارش کر چکے ہیں کہ ہم بہت بڑی تبدیلی سے شاید آغاز نہ کر سکیں، تاہم پہلے قدم کے طور پر ایسا کرسکتے ہیں کہ ہم مسجد کی پیشانی پر یہ عبارت لکھ دیں:
’’اس مسجد میں ہر مسلک کا مسلمان آزادی سے نماز پڑھ سکتا ہے۔‘‘

(بشکریہ اسلام ٹائمز)

یہ بھی دیکھیں

کیا چینی قرضوں کی واپسی میں سہولت پاکستان کے لیے ’لائف لائن‘ بن گئی ہے؟

(محمد صہیب) چین کے قرضوں کی واپسی پر نظرِ ثانی اور اس ضمن میں سہولت …