جمعرات , 6 اکتوبر 2022

جمع ہوتی امداد بٹتی نظر نہیں آرہی

(محمود شام)

دیکھ کہ کیسے ساگر میں یہ نیّا ڈوب کے تَیرے

ٹوٹ گئی ہے ہر اک ڈوری، خستہ حال پھریرے

جانے رہبر کہاں گئے ہیں، اب ہیں فرنگی گھیرے

مانجھی تیریا کشتی میں اب، چوروں کے ہیں ڈیرے

جہاں پر ڈوبیں بیڑے، وہاں پہ تو ہی سہارا

(رسالہ شاہ لطیف۔ سُر۔ سری راگ۔ تیسری داستان۔ بند13۔ منظوم ترجمہ: آغا سلیم)

شاہ لطیف کے سندھ کی بستیاں غرقاب ہیں۔ گوٹھ مٹ رہے ہیں۔ شہباز قلندر کی نگری کو منچھر کے پانی نے گھیر لیا ہے۔ سندھو ندی بپھری ہوئی ہے۔ زمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب، مخلوقات میں سب سے اشرف سہما ہوا ہے۔ منتوں مرادوں سے پیدا ہونے والے بچے مچھروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کی اکیسویں صدی میں ایک ایٹمی طاقت کے دوسرے بڑے صوبے میں مائیں،بہنیں، سہاگنیں ،بزرگ ،بھائی حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اب کہیں ’’جیے بھٹو‘‘ ہے نہ ’’بھیج پگارا‘‘ ہے۔ ہر طرف پانی ہے۔ صفحۂ ہستی سے مٹتے قصبے، سڑکوں پر پڑے بے یارو مددگار میرے عظیم ہم وطن۔ یہاں سے ایک ہی آواز آتی ہے۔ ’’کوئی مدد کو نہیںآیا۔ ہمیں کچھ نہیں ملا۔‘‘

کراچی،لاہور،حیدرآباد،پشاور،ملتان،کوئٹہ، سیالکوٹ اور نہ جانے کہاں کہاں چینل ہمیںامدادی سامان سے بھرے اسٹال و کیمپ دکھارہے ہیں۔ ایئرپورٹوں پر جہاز اتر رہے ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں کے پرچموں کے نشان اوربڑے بڑے کنٹینر لئے ۔ یہ نظارے دیکھ کر حوصلہ بڑھتا ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ چارہ گری ہورہی ہے لیکن جب سیلاب زدگان کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔چاہے وہ جنوبی پنجاب ہو، بلوچستان،اندرون سندھ، خیبر پختونخوا۔ وہاں سے یہی صدائیں آتی ہیں۔’’ابھی تک کوئی نہیں آیا۔‘‘ قابلِ ستائش ہیں وہ اخباری، ٹی وی رپورٹر جو کتنی مشکلوں مصیبتوں سے ان دور دراز علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ وہ خود بھی اپنے ان جفاکش ہم وطنوں کی بے چارگی، بے سرو سامانی دیکھ رہے ہیں۔ یہ رپورٹر، کیمرہ مین جب وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ تو امدادی سامان بانٹنے والی فلاحی تنظیمیں وہاں تک کیوں نہیں پہنچ پارہی ہیں۔ان تنظیموں کی جانب سے روزانہ رپورٹیں کیوں جاری نہیں کی جاتیں؟یہ سوال ہر اس پاکستانی یا سمندر پار پاکستانی کے ذہن میں تڑپ رہا ہے کہ وہ جو نقد رقم عطیہ کررہا ہے۔ امدادی سامان دے رہا ہے۔ دوائیں پہنچارہا ہے۔ وہ اس کے حقدار ہم وطنوں تک کیوں نہیں پہنچ رہیں؟

یہ سوال ہے اعتبار کا۔ ٹی وی چینلوں سے ہی نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہی گلے شکوے ہیں۔

ان علاقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ایس پی، ایس ایچ او، مختار کار سب کہاں ہیں۔ ان کی طرف سے روزانہ رپورٹیں کیوں نشر نہیں کی جاتیں۔ یہ آگہی بھی ان کے فرائضِ منصبی کا حصّہ ہے۔ متاثرہ علاقوں کے قومی، صوبائی، اسمبلیوں کے ارکان اورسینیٹرز۔ وزرا کا بھی فرض ہے کہ وہ روزانہ اپنے اپنے شہر، قصبے اور گائوں کی صورت حال سے آگاہ کریں۔ برسوں پہلے شاہ لطیف کہہ گئے ہیں، ’’جانے رہبر کہاں گئے ہیں… کشتی ڈوب کر تیر رہی ہے‘‘

سندھ جس نے جمہوریت کے لئے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں ۔تین وزرائے اعظم پاکستان کی سلامتی کے لئے پنڈی میں شہید ہوئے ہیں۔جدو جہد میں ہمیشہ نوجوانوں نے جیلوں کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ پاکستان کے لئے اپنے گھر بار چھوڑ کر آنے والے بھی اسی سندھ میں سب سے زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔ دریائوں کے آخر میں اور مملکت کے نشیب میںہونے کی وجہ سے ملک کا سارا پانی سندھ میں آکر کھڑا ہوگیا ہے۔پانی اپنے طور پر اتر رہا ہے۔ نہ اس کے نکالنے کے لئے بڑے پیمانے پر کوئی انتظامات ہورہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک عجیب و غریب حکایت گردش کررہی ہے کہ اس پانی کی نکاسی کا انتظام اس لئے روکا ہوا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو یہ ہولناک نظارے دکھاکر زیادہ امداد کا استحقاق ظاہر کیا جائے ۔ میں تو نہیں مانتا کہ ہمارے حکمران اپنے ہم وطنوں کے ساتھ اتنی سفاکی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اس عرصے میں کتنے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں ،کتنی مائیں، کتنی بہنیں کھڑے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوئی ہیں۔ کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ اس حقیقت کا اظہار کررہے ہیں کہ پانی نکلنے یا خشک ہونے میں مزید تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ یعنی دسمبر آجائے گا۔ 14جون سے شروع ہونے والی یہ تباہی دسمبر تک جاری رہے گی۔ نئے مالی سال کا آدھا عرصہ اس بربادی میں گزر گیا ہے۔ یہ زمینیں ایک فصل سے محروم ہوجائیں گی۔

فوری امداد بانٹتے صرف سپہ سالار اور فوجی افسر نظر آرہے ہیں۔ برّی، بحری، فضائی تینوں افواج متحرک ہیں۔ کھانے پینے کی چیزیں ہیں۔ پینے کا پانی ہے۔ دوائیں ہیں۔ بچوں کے کپڑے ہیں۔ لیکن سندھ۔ کے پی کے، پنجاب،بلوچستان میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر اسسٹنٹ کمشنر اتنی بڑی تعداد میںہونے کے باوجود دکھائی نہیں دے رہے۔ ممکن ہے وہ فعال ہوں، لیکن ان کی رپورٹنگ نہ ہورہی ہو۔

وفاقی حکومت میں شامل تیرہ سیاسی جماعتیں تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہیں۔اس وقت حکم ان کا چل رہا ہے۔ سندھ اور بلوچستان جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ وہاں اسی اتحاد کی رُکن جماعتوں پی پی پی اور باپ کی حکومتیں ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیںمل کر بھی غم خواری اور اچھے انتظام کا تاثر نہیں دے سکی ہیں۔ یہ لیڈر شپ کی، کارکنوں کی آزمائش ہے۔ وفاق کے پاس بھی اور عسکری قیادت کے پاس بھی اب دوست ممالک کی ترسیل کردہ امدادی رقوم ہیں۔ یہ امانتیں ہیں جو حقداروں تک پہنچنے کی منتظر ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے، کے پی کے، آزاد جموں و کشمیر۔ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں۔ اس پارٹی کے سربراہ عمران خان کی بھی آزمائش ہورہی ہے کہ وہ سیلاب زدگان کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ ان کے پاس سمندر پار پاکستانیوں کی اربوں روپے کی امانتیں ہیں جو ٹیلی تھون کے ذریعے جمع کی گئیں۔ سچی بات یہ ہے کہ سمندر پار پاکستانی اپنی نیک کمائی میں سے خطیر رقم ایسی آفات میں پاکستان بھیجتے ہیں۔ دوسرے ٹیلی تھون میں کچھ دیر بعد ان چینلوں کی اسکرین سیاہ ہوگئی تھی۔ الزام وفاقی حکومت پر لگایا گیا کہ حکومت کے حکم پر پیمرا نے کیبل پر چینل بند کردیے۔ حکومت کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں آئی۔

حالات بہت نازک ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی ہم سب سے، اداروں سے ،حکمرانوں سے تقاضا کررہی ہے کہ ہم بھی اپنے آپ کو تبدیل کرلیں۔

شاہ لطیف خبردار کررہے ہیں:

’’مانجھی تیری کشتی میں اب چوروں کے ہیں ڈیرے‘‘

(بشکریہ جنگ نیوز)

یہ بھی دیکھیں

پاکستان، پاکستان ہے !

(محمد مہدی) بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کا حصول صرف اس وقت ہی ممکن ہے …