جمعرات , 6 اکتوبر 2022

سپریم کورٹ کے دو ججز کا چیف جسٹس کے خطاب پر اظہار مایوسی

اسلام آباد:جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اورجسٹس طارق مسعود نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے چیف جسٹس کے خطاب پر مایوسی کا اظہار کردیا۔دونوں ججز نے چیف جسٹس کو ایک مشترکہ خط لکھا ہے جس میں انہوں نے 12 ستمبر کو نئےعدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کے خطاب پر حیرانی اور مایوسی کا اظہار کیا اور اس پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کی ہے۔

دونوں ججز نے اپنے خط میں لکھا کہ ہم نے ہمیشہ غیر ضروری تنازع سے بچنے اور قوم کے سامنے سپریم کورٹ کے ادارے کا متحد چہرہ رکھنے کی کوشش کی لیکن عدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس کی تقریر نے ہمیں حیران اور مایوس کیا۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اورجسٹس طارق مسعود نے لکھا کہ چیف جسٹس کی تقریر کا محور آئندہ عدالتی سال کے حوالے سے ادارے کی ترجیحات اور ہمارا لائحہ عمل ہونا چاہئے تھا لیکن وہ اپنی تقریر میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وضاحت اور ان پر ہونے والی تنقید کی صفائیاں دیتے رہے۔

خط میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ صرف چیف جسٹس نہیں بلکہ تمام ججز پر مشتمل ادارہ ہے، زیرالتوا مقدمات سے متعلق چیف جسٹس کا تبصرہ پریشان کن تھا۔

خط میں دونوں ججز نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی تعمیل کی ذمے داری دوسروں سے زیادہ چیف جسٹس پرہے، چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں بارعہدیداروں کے متعلق اہانت آمیزباتیں کیں اور سیاسی پارٹی بازی کا الزام لگایا۔

دونوں ججز نے لکھا کہ جب چیف جسٹس خطاب کررہے تھے تو ہم انکے دائیں اور بائیں موجود تھے لیکن تقریب کا ڈیکورم برقرار رکھنے کیلئے ہم خاموش رہے لیکن اب جبکہ یہ تقریر میڈیا پر رپورٹ کی جاچکی ہے جس نے ہمیں اپنی پوزیشن واضح کرنے پر مجبور کیا ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہماری خاموشی کو رضامندی کے طور پرسمجھا جائے۔

جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود چیف جسٹس کو لکھے گئے خط کی نقول جوڈیشل کمیشن کے تمام ارکان کو بھی فراہم کی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

تحریک انصاف کا صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بائیکاٹ کا فیصلہ

اسلام آباد:تحریک انصاف نے اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی …