منگل , 27 ستمبر 2022

ایران کی نئی امریکی پابندیوں کی مذمت

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بعض ایرانی شہریوں اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کا اصرار اس ملک کی انتظامیہ کی بین الاقوامی مساوات کو صحیح طور پر سمجھنے میں ناکامی اور اس کے احساس کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کے خلاف سائبر حملوں میں ملوث ہونے کے جھوٹے الزامات کی وجہ سے بعض ایرانی شہریوں اور کمپنیوں کے خلاف پابندی کے اعلان کے امریکی اقدام کی شدید مذمت کی اور ان کے خلاف مبینہ اقدامات کو اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور اداروں سے منسوب کیا۔

کنعانی نے ایران کے خلاف امریکی انتظامیہ کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں اور آزاد ممالک کے خلاف مضحکہ خیز، غیر قانونی اور غیر معیاری رویے کا سہارا لینے پر واشنگٹن کا اصرار امریکی انتظامیہ کی بین الاقوامی مساوات کو صحیح طریقے سے سمجھنے میں ناکامی اور اس کے احساس کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جھوٹی پروپیگنڈہ مہم شروع کرنے اور غلط معلومات پھیلانے کا سہارا امریکی انتظامیہ کی ناکام ایرانوفوبیا پالیسی کا حصہ ہے، جس سے یقیناً کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ جو اس سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف بہت سے سائبر حملوں کے خلاف خاموش رہا ہے حتیٰ کہ پرامن ایٹمی تنصیبات کے خلاف بھی اور یہاں تک کہ ان حملوں کی بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت کرتا رہا ہے، دوسروں پر الزام لگانے میں کوئی اعتبار نہیں رکھتا۔کنعانی نے کہا کہ متعدد بار سائبر حملوں کا نشانہ بننے والے ایران کو دنیا میں ہمیشہ سائبر مہمات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران اور شام کے وزرائے خارجہ کا دمشق اور خطے کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال

نیویارک:وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد سے مقامی وقت کے …