بدھ , 5 اکتوبر 2022

شام میں امن اور استحکام کی بحالی مغرب کی عدم مداخلت پر منحصر ہے، بسام صباغ

نیویارک:اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے بسام صباغ نے کہا ہے کہ ملک میں امن و استحکام کی بحالی کیلئے مغربی طاقتوں کی عدم مداخلت، دشمنی پر مبنی پالیسیاں ترک کرنے اور شام کا اقتصادی محاصرہ ختم کرنے پر منحصر ہے۔

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے بسام صباغ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک مغربی طاقتوں کے مداخلت پر مبنی اقدامات، دشمنی پر مبنی پالیسیاں اور اقتصادی محاصرہ جاری ہے اس وقت تک شام میں پائیدار امن اور استحکام بحال نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مغربی ممالک پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شام کی سرزمین سے غیر ملکی قابض افواج کو نکال باہر کرنا ہو گا۔

بسام صباغ شام میں سیاسی اور انسانی صورتحال سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ایسے وقت جب دمشق ملک میں امن اور استحکام کی بحالی اور دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کیلئے کوشاں ہے، غاصب صہیونی رژیم ہماری سرزمین پر جارحانہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور منصوبہ بندی کے تحت عام شہریوں کے گھروں اور عمومی مراکز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ہے۔”

اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے بسام صباغ نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ تل ابیب کو جارحانہ اقدامات روکنے کیلئے موثر اقدام انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے اور عالمی امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن رہے ہیں۔ بسام صباغ نے کہا: "امریکہ نے شام کے شمال مشرق اور جنوب میں بعض علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے جہاں سے وہ مسلح دہشت گردانہ گروہوں کی مدد کر رہا ہے اور یوں وہ شام کی حق خود ارادیت اور قومی سالمیت پامال کرنے میں مصروف ہے۔” انہوں نے مزید کہا: "بعض مغربی ممالک اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور فضول بہانوں کے ذریعے دوسرے ممالک کی قومی خودمختاری اور رٹ کی خلاف ورزی میں مصروف ہیں۔”

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے نے ملک کے بعض علاقوں پر ترکی کے ناجائز قبضے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "ترکی کی قابض افواج اور ان کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر بدستور الحسکہ اور اس کے اطراف مقیم شام کے 10 لاکھ شہریوں پر پانی بند کئے ہوئے ہیں۔” بسام صباغ نے مزید کہا: "الرکبان مہاجر کیمپ میں مقیم شامی شہریوں کی مشکلات کا خاتمہ امریکی فوجیوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح الہول مہاجر کیمپ میں امریکہ کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند دہشت گرد عناصر نے کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ جب تک یہ کیمپ بند نہیں ہوتا یہ مسئلہ جاری رہے گا۔” بسام صباغ نے واضح کیا کہ مغربی ممالک کی جانب سے شام میں گمشدہ افراد کا ایشو اٹھائے جانے کا مقصد شام کی حکومت اور قوم پر دباو ڈالنا ہے۔ وہ ہر گز دہشت گرد گروہوں کی جانب سے جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کروانے کے درپے نہیں ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکا میں وسط مدتی انتخابات، غیر ملکی مداخلت کا خطرہ

واشنگٹن:امریکا میں آئندہ ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ووٹرز پر مخالف ممالک کے …